اسرائیل فلسطین تنازعہ میں ری سرچ فنڈنگ پروگرام کے تحت اثر انداز ہو رہی ہے۔ سجاد کریم

Sajjad Kareem

Sajjad Kareem

مانچسٹر (عبد اللہ زید) یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف پاکستان گروپ کے چئیر مین ، یورپی پارلیمنٹ میںکنزرویٹو پارٹی کے قانونی امور کے ترجمان ، صدر یورپی پارلیمنٹ کی مشاورتی کمیٹی وکنڈکٹ کمیٹی کے صدر اور نارتھ ویسٹ انگلینڈ سے رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم نے وائس پریذیڈ نٹ یورپین کمیشن واعلیٰ سطحی نمائندہ برائے امور خارجہ و سیکیورٹی پالیسی یورپی کمیشن بیلجیم فیڈریکامگہیرینی کو یکم اگست کو تحریر کئے گئے اپنے ایک مکتوب میں یورپی یونین سے ملنے والی گرانٹس کا اسرائیل کی جانب سے مبینہ غلط استعمال کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ یورپی یونین نادانستگی میں اسرائیل فلسطین تنازعہ میں ری سرچ فنڈنگ پروگرام کے تحت اثر انداز ہو رہی ہے۔

جبکہ خاص طور پر ہرائزن 2020 پروگرام کے حوالے سے یورپی یونین کی جانب سے دی گئی گرانٹس میں اسرائیلی شراکت کے دائرہ عمل و کار کے لئے ضوابط موجود ہیں راہنما اصول و ضوابط میں واضع درج ہے کہ اس گرانٹ میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹرز اور دائرہ کار جون 1967 سے اسرئیلی مقبوضہ علاقوں میں نہیں ہوگا لیکن صورت حال مایوس کن ہے کہ اس ری سرچ گرانٹ سے بنائے گئے پرجیکٹ کی جاری تنازعہ پر اثر اندازی کو روکنے سے یورپی یونین کوئی مزیدقدم اٹھانے میں ناکام نظر آتی ہے انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہرائزن 2020 کے تحت تیار کردہ ڈرونز ، نگرانی کیمرے اور دوسرا حفاظتی ساز و سامان کے دہرے استعمال میں خطرہ پنہاں ہے کہ اسرئیلی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مفادات میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔

سجاد کریم کے مطابق جس طرح 2007-2013 کے ری سرچ پروگرام میں ایک اسرائیلی دفاعی کمپنی 36 کروڑ یورو مالیت کے چار پروجیکٹ پر کام کررہی تھی اور اسی دوران ویسٹ بنک میں اسرائیل کی جانب سے دیوار تعمیر کرنے میں حصہ لیا اور یہاں پر اس فنڈ سے خریدے گئے نگران کیمرے استعمال کئے با ایں وجہ اس بے ضابطگی کی بنیاد پراقوام متحدہ کے خصوصی رپوتاژ نے 2012 ء میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس کمپنی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا اور موجودہ صورت حال میں بھی انہیں خطرہ ہے کہ اگر اسرائیل پر خصوصی اصول نافذ نہ کیا گیا تواسرائیل کے مفادات میںایسے ا قدامات کا اعادہ کیا جائے گا اور فنڈز کا ناجائز استعمال جاری رہے گاکیونکہ 2014 میں اسرائیل نے بھی ہرائزن 2020 پروگرام میں شرکت کا عندیہ دیتے ہوئے دستخط کر رکھے ہیں۔

سجاد کریم نے تجویز پیش کی ہے کہ اس مد میں دی گئی امداد کے استعمال کے اصول پر اسرائیل موزونیت پر نیا اصول اپنایا جائے جس طرح امریکہ اسرائیلی ری سرچ پروگرم کے تحت دی جانی والی امداد میں فریقین نے راہنما اصول وضع کر رکھے ہیں تاکہ اس مد میں دی گئی امداد اسرائیلی فلسطینی تنازعہ پر غلط طور پر اثر انداز نہ ہو سکے ۔انہوں نے کہا ہے اگر یورپی یونین ایسا اصول اپنا لے تو یقیناً اس طرح یورپی یونین کا اس مسئلہ میں اثر انداز ہونے کا نسداد ہو جائے گا اور اگریورپی یونین مزید ایک قدم آگے بڑھے تو اسرائیل کی دفاعی کمپنیوں کو ان گرانٹس میں حصہ لینے سے روک سکتی ہے۔

رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم نے اپنے اس مکتوب میں مکتوب الیہ کو یاد دلایا ہے کہ اس علاقے میں خصوصی طور پر اسرائیل و فلسطین کے درمیان جھگڑے میں یورپی یونین غیر جانبدارانہ پالیسی پر گامزن ہے اور انہوں نے یورپی یونین کے مذکورہ اعلیٰ نمائندے پر زور دیا ہے کہ ای یو کی جانب سے دی گئی اس امداد کا تنازعہ میںشامل کمپنیوں کو ملنے سے اس مسئلہ پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو روکنے کے لئے مؤثر قدم اٹھایا جائے۔