استنبول یو نیورسٹی میں اردو سمپوزیم

Seminor Mandubeen Or Mezbaan ka Groop Foto

Seminor Mandubeen Or Mezbaan ka Groop Foto

استنبول (تحریر:ارشد فاروق اور صدف مرزا، تصاویر: بشکریہ استنبول یونیورسٹی) مشیر ہاں! اردو زباں صرف محبت کی زباں ہے، استنبول یونیورسٹی کے شعبہ ادبیات کے زیر اہتمام 12 سے 14 اکتوبر تک سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس منعقد کی گییٔ، ترکی میں اردو کے صد سالہ جشن کی تیاریوں کی خبریں گزشتہ نصف برس سے دنیا بھر کے اردو دانوں کی توجہ کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔

اگرچہ یہ بات بجا ہے کہ ایسے کسی بھی تاریخی کام کا سہرہ کسی فردِ واحد کے سر نہیں ہوتا۔اس کے لیے ایک منظم انداز میں جماعت کی صورت میں تگ و دو کی جاتی ہے اور ہمیشہ ہر کامیاب کانفرنس کے انعقاد میں کچھ بے ریا اور بے نام سپاہی بھی موجود ہوتے ہیں جو پس منظر میں رہ کر پیش منظر کو اجاگر کرتے ہیں۔ لیکن ایک با صلاحیت سالار اور میرِ کارواں کسی بھی قافلے کہ درست جہت میں چلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ رہنما بھی ہوتا ہے اور خادم بھی، ستارہ شناس بھی ہوتا ہے اور طویل راستوں کے پیچ و خم سے آگاہ بھی۔ وہ قافلے میں شامل جانثاروں کے جذبے سے بھی آگاہی رکھتا ہے اور شب خون مارنے والے کے ارادوں سے بھرپور انداز میں واقفیت بھی ،اسے پانی بھرنے والے مشکیزوں کی گنجائش کا علم بھی ہوتا ہے اور راہرو کی ضروریات کا احساس بھی ، وہ قافلے کے پیچھے چلنے والے سگانِ کوئے لعنت کی ہائو ہو سے بے نیاز بھی ہوتا ہے۔

دنیا بھر کے برِ اعظموں کے طویل فاصلوں کو پاٹ کر صرف ایک لسانی پرچم تلے جمع کر دینا قائدانہ صلاحیتوں کے مالک اور خادمین کے انکسار کے حامل ڈاکٹر پروفیسر خلیل طوقار کا وہ تاریخی کارنامہ ہے جس پر ان کے نام کو ہمیشہ سنہری حروف میں تحریر کیا جائے۔ اہلِ صدق و صفا کی نظر میں جو اس سہ روزہ جشن کا نہ صرف حصہ بنے رہے بلکہ بنظرِ غائر اس کا مشاہدہ بھی کرتے رہے ان کی نظر میں اردو زبان کے اس عاشق کی صلاحیتیں آشکار ہوتی رہیں۔ اس کانفرنس کے بعد ان کا مقام جس اوج پر پہنچا ہے ، گزرتا وقت ہی اس سے آگاہ کرے گا۔

نام و نمود، طمع و حرص اور غاصبانہ قبضے کے اس دور میں جب ہم جیسے منتظمین جو یورپی لٹریری سرکل کے تحت امدادِ باہمی کے تحت بین الاقوامی پروگرام کروانے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عالمی پروگرام ترتیب دینا ہر کس و ناکس کے بس کا روگ نہیں۔ ڈاکٹر پروفیسر خلیل طوقار نے جس استقلال اور جانفشانی سے اس بارِ گران کو اٹھایا اور اپنی خوبرو پیشانی پر ایک شکن ڈالے بغیر آدابِ میزبانی نبھائے وہ فقید المثال ہے۔ خلیل طوقار نے عصرِ حاضر کے سوشل میڈیا کے ذریعے کانفرنس کے بارے میں رواں تبصرہ اور معلومات کی ترسیل کی۔ انھوں نے باقاعدہ مدعو کیے جانے والے مندوبین کے ویزے، آمد اور رہائش کے بارے میں جدید ترین طریقے کے مطابق آن لائن نوٹس لگائے۔ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے شامل ہونے والے احباب کو بھی خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا اور ترک میزبانی کا فراخدلانہ مظاہرہ کیا۔

ایک مستقل مزاج محقق ہونے کے ناطے خلیل طوقار نے دریافت کیا کہ ترکی میں اردو تدریس کی ابتدا عام اندازے کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں نہیں تھی بلکہ اس دلکش اور میٹھی زبان اردو نے 1915ء میں عبد الجبار خیری کی ترکی میں آمد کے ساتھ ہی اپنے وجود کے سدا بہار درخت کی پہلی کونپل کو سینچنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے مقالے میں اس تحقیق کے حوالے سے مستند شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس خوش آئند تحقیق کے بعد ڈاکٹر خلیل طوقار نے انتہائی ذوق و شوق سے دنیا کے تمام خطوں سے اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لیے کوشاں یونیورسٹیوں کے اردو کے شعبوں سے رابطے کیے۔ ان تمام اردو دانوں کو بطور خاص دعوت دی جن کی مادری زبان اردو نہیں تھی لیکن جن کے ذوق و شوق نے انھیں اردو زبان کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر کر رکھا تھا۔

روسی اردو دان ڈاکٹر لڈ میلا ویسلوا، جرمن ڈاکٹر ہائنز ورنر، بنگلہ دیش سے ڈاکٹر محمود الاسلام اور تہران یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی بھرپور نمائندگی جن میں ڈاکٹر علی بیات، ڈاکٹر کیومرثی، ڈاکٹر وفا اور ڈاکٹر فرزانہ عزم لطفی شامل تھیں۔ ترکی کے سب سے بڑے اورخوبصورت تاریخی شہر استنبول کی جامعہ استنبول میں اردو زبان گذشتہ ایک صدی سے پڑھائی جا رہی ہے۔ اس جامعہ میں اردو زبان کی درس و تدریس کا شعبہ ترک نژاد ڈاکٹر پروفیسر خلیل طوقار کی سربراہی میں بہت کامیابی کیساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ جامعہ کے سربراہ جناب خلیل طوقار دنیائے اردو ادب میں ہر دل عزیز شخصیت ہیں۔ آپ کا تعلق پاکستان کیساتھ بہت دیرینہ اور گہرا ہے ۔ آپ پاکستان کے داماد بھی ہیں۔آپ نرم خو، خوش گفتار، خوش شکل اور خوش لباس ہونے کیساتھ ساتھ اپنے کام کے ساتھ بے حد مخلص ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ آپ دنیائے اردو میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔

جامعہ کے شعبہ ادبیات نے رواں ماہ ، یعنی اکتوبرکی 12سے 14 تاریخ کو اپنی صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا اور ایک تین روزہ اردو سمپوزیم کا انعقاد کیا۔ اس سیمپوزیم میں ترکی اور وسطی ایشاء میں مسلمانوں کے کردار اور بر صغیر پاک و ہند میں اردو زبان کے ترکی زبان کیساتھ رشتوں کے حوالے میں مقالہ جات پیش کئے گئے۔ دنیا بھر سے اردو زبان کے دانشوروں، صحافیوں، ادیب، شعرائ، مترجمین اور جامعات کے اساتذہ کرام نے اس سہ روزہ سیمپوزیم میں شرکت کی اور اپنے مقالہ جات پیش کئے۔ سیمپوزیم کے دوران اردو زبان میں ایم اے کرنے والے ترک طلباء و طالبات نے میزبانی کا حق ادا کر دیا۔ ترکی میں انگریزی زبان تقریباََ نہیں بولی جاتی۔ باہر سے آئے ہوئے مندوبین کو رابطے کے لئے کوئی دشواری نہیں ہوئی کیونکہ تمام ترک میزبان طلباء بہت روانی کیساتھ اردو بول رہے تھے۔ تمام مندوبین کو جامعہ کے نزدیک ایک پر سکون ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ مندوبین چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے ہوٹل اور جامعہ جاتے ہوئے نظر آئے۔

اس کانفرنس کے انعقاد سے دنیا بھر کے سترہ ممالک سے آئے ہوئے اردو دان مرد و خواتین کو ایک جگہ اکھٹے ہونے اور باہم گفت و شنید کا موقع میسر آیا۔ ایسی تقریبات سے دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے ہم پیشہ افراد کو ایک دوسرے کیساتھ ملنے جلنے اور اپنی خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع میسر آتا ہے اور مل جل کر ایک دوسرے کی تجاویز اور تجربے سے مستفید ہو تے ہوئے اپنے اپنے کام میں بہتری لا سکتے ہیں۔ درس و تدریس ایسا شعبہ ہے کہ اس میں ہر گذرنے والے دن کیساتھ بہتری اور نکھار پیدا کرنے کی ضرورت رہتی ہے تاکہ آئیندہ نسلوں کو علم و ہنر کے زیور سے آراستہ کیا جا سکے۔ اس کانفرنس کے انعقاد سے یہ مقاصد پورے ہو گئے۔

اس کانفرنس میں دنیا بھر کے سترہ ممالک سے مندوبین نے شرکت کی، جن میں ترکی استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے اساتذہ اور طلباء و طالبات کے علاوہ امریکہ سے معروف شاعر، محقق، استاد اور ادیب جناب ڈاکٹر ستیا پال آنند اور محترمہ بینا گوئیندی، کینیڈا سے زندہ با دکینیڈا ریڈیو کی اینکر اور شاعرہ محترمہ عروج راجپوت، ناروے سے اردو ٹیلی ویژ ن کے روح رواں جناب ڈاکٹر ندیم حسین سید، جناب محمد ادریس احمد، روزنامہ کارواں کے روح رواں جناب ڈاکٹر مجاہد حسین سید، ڈنمارک سے اردو ادب کی معروف لکھاری، شاعرہ، ٹی وی اینکر پرسن اور کئی کتابوں کی مصنفہ محترمہ صدف مرزا، فن لینڈ سے فنش زبان کے واحد تحریری اور فنش ادب کی پانچ کتابوں کے مترجم اور فن لینڈ میں حلقہ ارباب ذوق کے بانی راقم ارشد فاروق، برطانیہ سے اردو ادب کا سرمایہ اور بی بی سی اردو ریڈیو سروس کے جناب رضا علی عابدی، معرو ف لکھاری جناب مقصود الہی شیخ، محترمہ مہہ جبیں غزل انصاری اور انکے شوہر جناب انیس انصاری، فرانس سے محترمہ سمن شاہ، پاکستان سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے پروفیسر نجیب جمال، اردو ادب کا سرمایہ معروف افسانہ نگار اور نقاد و محقق محترمہ عطیہ سید ، خیر پور یونیورسٹی سے ڈاکٹر یوسف خشک اور انکی اہلیہ، معروف شاعرہ محترمہ فاطمہ حسن ، اوریئنٹل کالج پنجاب یونورسٹی شعبہ اردو کے صدر نشین جناب پروفیسر محمد کامران، شعبہ پنجابی کے صدر، فیصل اباد جی سی یونیورسٹی سے پروفیسر طارق ہاشمی کے علاوہ کراچی سے زبان یار من ترکی کے مصنف ، اور لاہور سے معروف صحافی اور دانشور جناب فرخ سہیل گوئیندی اور کئی دوسرے معروف اردو دان خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

کویت سے جناب افروز عالم، ماسکو یونیورسٹی سے پروفیسر لوڈ میلا، ، بھارت سے جواہر لعل یونیورسٹی دہلی کے شعبہ اردو کے صدر جناب ڈاکٹر اکرام پاشا، ، سید انوار عالم، اور دیگر نے شرکت کی۔ اسی طرح بنگلہ دیش، ایران اور افغانستان کی جامعات میں اردو کی درس و تدریس کے ماہرین اور اساتذہ نے بھی بھر پور شرکت کی۔ اس طرح یہ کانفرنس حقیقی معنوں میں ایک عالمگیر اجتماع کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ کانفرنس کے پہلے اجلاس میں جامعہ استنبول کے وائس چانسلر، بلدیہ کے میئر، ایران، بھارت ،پاکستان، کے سفارت کاروں، پاکستان سے اکیڈیمی آف ادبیات کے صدر جناب قاسم بھگیو اور میزبان ڈاکٹر خلیل طوقار نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں چونکہ بیک وقت تین مختلف ہالز میں اجلاس منعقد ہو رہے تھے اس طرح تمام مندوبین کو اپنے اپنے مقالہ جات پیش کرنے کا وقت دیا گیا۔ میزبان ڈاکٹر خلیل طوقار نے بتایا کہ ترکی میں اردو زبان ایک صدی سے زائد عرصے سے پڑھائی جا رہی ہے ، جب خیری برادران نے ترکی میں اردو کی تدریس کا کام شروع کیا تھا۔ مقررین نے تاریخی حوالوں سے برصغیر پاک و ہند کے ترکی کیساتھ روابط پر روشنی ڈالی۔ فن لینڈ سے ارشد فاروق نے فن لینڈ میں اردو زبان کی ترویج و ترقی اور اسکے مستقبل کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ تاہم کانفرنس کے آخری دن سفیر پاکستان جناب سہیل محمود نے کانفرنس میں شرکت کی۔ انہوں نے حاضرین کی تالیوں کی گونج میں حکومت پاکستان کی طرف سے اس موقع پر دس روپے کا یاد گاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے کا اعلان بھی کیا۔

برطانیہ سے آیے ہوئے معروف شاعر جناب سلمان شاہد نے جناب خلیل طوقار کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ موصوف اردو زبان کی تیس کتابوں کے مصنف اور کئے مقالہ جات تحریر کر چکے ہوئے ہیں اس لیے ان کی اردو زبان کے ساتھ محبت اور ان کے گراں قدر کام کے بدلے میں انہیں پاکستان کے سول اعزاز کے ساتھ نوازا جائے۔ یہ بات ایک قرارداد کی صورت میں پیش کی گئی جس کی بھر پور تائید ہال میں موجود سینکڑوں مندوبین نے ہاتھ اٹھا کر کی۔ کانفرنس کے آخری اجلاس کی نظامت کی ذمہ داری ڈنمارک سے آئی ہوئی معروف لکھاری صدف مرزا کے حصے میں آئی، انہوںنے اپنے مخصوص دوستانہ اور مسکراہٹیں بکھیرتے ہوئے فی البدیہ انداز میںاس ذمہ داری کو خوب نبھایا اور مندوبین اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔

اس موقع پر ترکی اور وسط ایشیاء میں مسلمانوں کے حوالے سے ایک تصویری نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔ نمائش کاافتتاح سفیر پاکستان جناب سہیل محمود نے کیا اور انہوں نے نہایت دلچسپی کیساتھ یہ نمائش دیکھی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کانفرنس کے مندوبین نے تینوں دن ہوٹل کے ہال میں مشاعرے منعقد کئے اور ایک دوسرے کے کلام کو سنا اور سراہا۔ کانفرنس کے آخری دن روانگی کی شام مندوبین نے اپنے ہر دلعزیز میزبان ڈاکٹر خلیل طوقار کو ایک سرپرائز کیک پارٹی دی اور اس طرح یہ تاریخی کانفرنس نہائت خوشگوار انداز میں اختتام پذیر ہوئی۔