اطالوی شہریت دئے جانے کے قوانین میں کی جانے والی ترامیم کے مسودے کی منظوری

Italian Citizenship

Italian Citizenship

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) 13 اکتوبر 2015 کا دن اٹلی میں پیدا ہونے والے غیر ملکی بچوں کے لئے ایک تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے جنہیں اٹلی میں پیدائش کے باوجود ابھی تک غیر ملکی بچوں کا درجہ دیا جاتا تھا۔ چیمبر آف ڈپٹیز کے ایوان نے آج صبح اٹلی میں پیدا ہونے بچوں کے لئے فوراً اطالوی شہریت دئے جانے کے قوانین میں کی جانے والی ترامیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

اس قانون کے ترمیمی مسودے کے حق میں اکثریت نے ووٹ ڈالے اور یہ اب سینٹ میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ اس قانون کے چند نکات مندرجہ ذیل ہیں۔

اٹلی میں رہائش پذیرتارکین وطن کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو اطالوی شہریت دی جائے گی بشرطیکہ والدین میں سے کم از کم ایک کارتا دی سجورنو یعنی طویل مدتی سجورنو کے حامل ہوں، دوسری صورت میں وہ بچےجو 12 سال سے کم عمر میں اٹلی آئے ہیں ان کو کم از کم پرائمری تعلیم کامیابی کے ساتھ مکمل کرنا ضروری ہو کا۔

ایسے بچوں کی شہریت کی درخواست کے ہمراہ والدین میں سے ایک کی جانب سے کمونے میں ایک حلف نامہ جمع کروانا ہو گاجو کہ بچوں کے بالغ ہونے سے قبل کیا جائے گا۔ 18 سے 20 سال کی عمر میں بھی یہ درخواست دی جا سکے گی لیکن 18 سے 20 سالی کی عمر میں درخواست گزار کسی دوسرے ملک کا شہری ہونے کے طور پر اپنی درخواست واپس بھی لے سکے گا۔

۱۸ سال سے کم عمر میں اٹلی آنے والےبچوں کے لئے قوانین مختلف ہوں گے۔ انہیں اطالوی شہریت لانے کے اہل ہونے کی لئے 6 سال کی تعلیم کامیابی کے ساتھ مکمل کرنا ہوگےیا کوئی پیشہ ورانہ میدان کا کورس کامیابی سے مکمل کرنا ہو کس کی مدت بھی 6 سال ہو گی تاہم ایسی صورت میں یہ درخواست گزار کا حق نہیں ہوگا کہ وہ اطالوی شہریت حاصل کرنے کا اہل ہو گا بلکہ یہ اٹلی کی حکومت کی جانب سے دی گئی ایک رعایت ہے جس کا صوابدیدی اختیار صرف حکومت کے پاس ہو گا۔

اس مسودے کو سینٹ میں پاس ہونے کے بعدایک قانون کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ درخواستیں دینے کے بعد 6 ماہ کے بعد وزارت داخلہ کے مثبت جواب کی صورت میں اطالوی شہریت مل سکے گی۔ وزارت داخلہ مختلف قسم کی انکوائریاں کرے گی جس میں درخواست گزار کا ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے گا اور یہ کہ پہلے تو شہریت کی درخواستیں رد نہیں کی گئیں۔ اس چیز کو بھی دیکھا جائے گا کہ درخواست گزار کو ملک کی سیکورٹی کی خاطر ملک بدر تو نہیں کیا گیا۔