جموں میں فرقہ پرستوں کی کارروائیاں فسطائی ذہنیت کی عکاس، تحریک وحدت اسلامی

Tehreek Wehdat e Islami

Tehreek Wehdat e Islami

سرینگر: تحریک وحدت اسلامی جموں و کشمیر کے ترجمان محمد یوسف ندیم نے سانبہ میں فرقہ پرستوں کی کارروائی میں مسلم بستی کو نشانہ بنانے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلما نوں کے خلاف اس طرح کی کارروائی فسطائی ذہنیت کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ایسی کارروائیاں بروقت روک سکتی ہے لیکن پولیس کی حمایت ہمیشہ فرقہ پرستوں اور بلوائیوں کے ساتھ رہتی ہے، انہوں نے پولیس کی فائرنگ میں مارے گئے مسلم نوجوان کی ہلاکت پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی کارروائیاں روکی نہیں گئی تو اسکے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ ترجمان نے پانپور معرکے میں جاںبحق ہوئے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی شہادت کے موقع پر جمع ہوکر لوگوں نے مجاہدین کے تئیں جس عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔

وہ قابل تحسین ہے، ا نہوں نے کہا کہ ہمارے مجاہدین میدانِ کارزار میں سرگرم ہیں اوروہ بھارت کے جبری قبضے کے خلاف حق پر مبنی تحریک کا حصہ ہیں،تحریک وحدت اسلامی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 25 سال مکمل ہونے کے موقعے پر کہا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کا ایک زندہ ثبوت ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جموں کشمیر پر قابض اس کی افواج کتنے سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کُنن پوشہ پورہ میں جو انسانیت سوز اور شرم ناک واقع 1991ء میں پیش آیا تھا، آج 25سال گزرنے کے بعد بھی کوئی مقدمہ درج کرایا گیا ہے اور نہ کسی ملوث فوجی افسر یا اہلکار کو حراست میں لیا گیا ہے نہ اس حوالے سے بھارت کے نام نہاد جمہوریت کے دعوے دار حکمران سنجیدہ نظر آئے ہیںاس دوران تحریک وحدت اسلامی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے 26 فروری کو نماز جمعہ کے بعد احتجاجی دھرنے اور 27فروری کو بھارت کے مختلف شہروں اور یونیورسٹیوں میں کشمیری طلباء کو ہراساں کرنے کے خلاف کشمیر بند کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔