جدہ اسلام آباد کے بعد کرپشن کا دوسرا گڑھ بن گیا

Kamran Butt

Kamran Butt

جدہ (افتخار چوہدری) پاکستان میں جہاں کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہیں اس طرح جدہ کے پاکستانی اسکولوں میں کرپٹ لوگوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کامران بٹ جو رائو شکیل اور حامد کاظمی حج سکینڈل کا مرکزی کردار تھا اس نے ریحاب انگلش سیکشن میں ٹھیکے لے رکھے ہیں جن کے پیچھے قونصلیٹ میں بیٹھے افسران ہیں۔یاد رہے کہ سردار یوسف کے منسٹر بننے کے بعد حج کرپشن میں نمایاں کمی ہوئی ہے لیکن کامران بٹ مافیا اتنا تگڑا ہے کہ انہوں نے وزارت حج کے دیگر لوگوں سے ٹانکا جوڑ کر وزیر حج کی آنکھوں میں دھول جونک رکھی ہے۔

آج کل پاکستانی نجی چینیلز میں پاکستانی اسکول کی کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔اسکول میں حسین نواز کی کمپنی کا ملازم حامد بشیر اعلی عہدے پر براجمان ہے۔کامران بٹ اسکول کی مینجمینٹ کمیٹ کا رکن ہے اس نے اسکول کے اس سٹاف کا جینا دوبھر کر دیا ہے جو اس کرپشن کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے۔باوثوق ذرائی کے مطابق اسکول میں کرپٹ مافیا خواتین کو ہراساں بھی کرتا ہے اور انہیں مخلوط محفلوں میں شرکت پر مجبور کرتا ہے۔

پاکستانی اسکول کے والدین اس تشویشناک صورت حال پر سخت پریشان ہیں۔پچھلے دنوں اسکول کے لنک آفیسر سہیل علی خان ٹھیکیدار کامران بٹ کی ملی بھکت کی صدائیں نجی چینیلز پر بھی عام ہیں۔والدین کا ایک گروپ جو چھٹیوں پر پاکستان آیا ہوا ہے انہوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ جدہ کے ریحاب سیکشن والے سکول کی اخلاقی حالت بگڑ چکی ہے اور والدین بچوں کو اسکول سے اٹھا کر دوسرے اسکولوں میں داخل کرا رہے ہیں۔کامران بٹ اس قدر بآثر ہے وہ وزیر اعظم کے دورے کے دوران ان کے آگے پیچھے ہوتا ہے اور بعد میں ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان کا خاص آدمی ہے۔

ادھر پاکستانی کمیونٹی جدہ کے معروف افراد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کامران بٹ ایک معمولی سا کلر ک تھا اس نے گزشتہ دور میں ایمبیسی اور حج کمیشن کے افراد سے مل کر کروڑوں ریال کا ٹیکہ لگایا ہے۔یاد رہے بلڈنگوں میں کمیشن لے کر حاجیوں کے اخراجات بڑھا کر یہ پوری گینگ لوٹتی رہی۔اگر گوگل میں سرچ کر کے کامران بٹ کو دیکھا جائے تو اس کی ان کاروائیوں کا سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی نوٹس لیا ہے۔پاکستانی حلقوں نے نیب سے اپیل کی ہے کہ وہ کاروائی کر کے پاکستانیوں کو گلو گردی سے بچائیں۔یاد رہے جدہ کے انگلش اسکول سے پیپلز پارٹی کی سحر کامران کو انہی الزامات کی وجہ سے ہٹایا جا چکا ہے۔

کمیونٹی نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دورے میں اس قسم کے لٹیروں سے دور رہیں۔پاکستانی کمیونٹی اس سے پہلے کئی ایک بھرپور جلسوں میں قونصلیٹ کے کرپٹ حکام کی تبدیلی کا مطالبہ کر چکے ہیں جن میں پاکستان مسلم لیگ نون پاکستان پیپلز پارٹی جماعت اسلامی تحریک انصاف عوامی نیشنل پارٹی مسلم کانفرنس کرپٹ ٹولے کے خلاف آواز اٹھا چکی ہے۔مگر قونصلیٹ میں موجود چالاک لوگوں نے وہی تصویریں کچرا اخباروں میں اپنی حمایت میں لگوا دیں۔کمیونٹی کے حلقوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق مسلم لیگ نون کے صدر مرزا الطاف سیکریٹری نور ارائیں ملک محی الدین عنائت جاڑا سے ہی کر لیں۔کرپٹ مافیا حسین نواز کی آڑ میں ان کی ایک نہیں چلنے دیتا۔جدہ کی پاکستانی کمیونٹی پریشانی کے عالم میں اخبارات کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔