جھارکھنڈ اساتذہ بحالی میں اردو کے ساتھ کھلی ناانصافی، دانشورانِ اردو سے آواز اٹھانے کی اپیل

JAC Jharkhand

JAC Jharkhand

پٹنہ (کامران غنی) جھارکھنڈ میں اسکول اساتذہ کی بحالی کا عمل پھر سے شروع کیا گیا ہے۔ جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل نے اشتہار نمبر 01/2013-1530بتاریخ 03 جولائی 2015 کو رد کرتے ہوئے اشتہار نمبر 03/2015-16 کے ذریعہ امیدواروں کو 8 اگست 2015 تک از سر نو فارم جمع کرنے کو کہا ہے۔

کونسل کے تازہ اشتہار میں مختلف اضلاع میں اردو کی اسامیوں کو حیرت انگیز طور پر کم کر دیا گیا ہے۔ بوکارو ضلع میں اس سے قبل جاری کئے گئے اشتہار کے مطابق درجہ ششم سے ہشتم کے لیے اردو کی 37 سیٹیں مختص کی گئی تھیں۔ جبکہ کونسل کے ذریعہ جاری تازہ اشتہار (03/2015-16) میں درجہ ششم سے ہشتم کے کے لیے صرف ایک سیٹ دکھائی گئی ہے۔

اردو کے ساتھ ایسی ہی ناانصافیاں دوسرے اضلاع میں بھی کی گئی ہیں۔ مختلف اضلاع میں اردو کی پہلے سے مقرر شدہ نشستوں میں غیر معمولی کمی کر دی گئی ہے۔ اردو کی نشستوں میں بغیر کسی جواز کے غیر معمولی کمی واقع ہونے سے امیدواروں میں زبردست غم و غصہ ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ ایسا دانستہ طور پر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل نے اپریل 2013میں اساتذہ اہلیتی امتحان لیا تھا۔

اُسی سال مئی میں امتحان کے نتائج کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا لیکن دو سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باجوداب تک اساتذہ بحالی کا عمل مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔

گزشتہ ماہ جب کونسل نے اشتہار نکال کر درخواستیں طلب کی تھیں تو امیدواروں کو امید کی ایک کرن نظر آئی تھی لیکن اس اشتہار کے رد کئے جانے اور اردو کی نشستوں میں کمی واقع ہونے پر امیدواروں میں مایوسی اور شدید غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے۔

کونسل نے بغیر کوئی وجہ بتائے اردو کی نشستوں میں کٹوتی کر کے اپنی اردو دشمنی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ جھارکھنڈ میں اردو کے فروغ کے لیے کام کرنے والے اداروں، صحافیوں، دانشوروں اور مسلم رہنمائوں کو اس کھلی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔