ویجل فار کشمیر- پیس اینڈ جسٹس فار دی پیپل آف جموں اینڈ کشمیر’کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد

Sajjad karim MEP in a Kashmir Vigil BB

Sajjad karim MEP in a Kashmir Vigil BB

نیلسن (عبد اللہ زید) گزشتہ روز بلیک برن اینڈ وِڈارون کے ایشیائی کونسلرز نے کشمیر میں پچھلے تقریباً تین ماہ سے جاری بھارتی افواج کا نافذ کرفیو اور عوام کو ظلم و جبر کا نشانہ بنانے کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لئے ‘ویجل فار کشمیر- پیس اینڈ جسٹس فار دی پیپل آف جموں اینڈ کشمیر’کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

اس تقریب کے منتظم کونسلر شوکت حسین کی دعوت پر نارتھ ویسٹ کے رکن یورپی پارلیمنٹ ڈاکٹر سجاد کریم (ستارہ قائد اعظم)نے بھی شرکت کی انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی عشروں سے اہل کشمیر کی حق خود ارادیت کی جنگ اور ان پر جاری تشدد کے متعلق سیاست دانوں کے لچھے دار بیانات سنتے آرہے ہیں لیکن عملاً کچھ نظر نہیںآتا اور کسی نتیجہ خیز حل کی طرف مسئلہ میں پیش رفت کے متعلق مایوسی ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کچھ ارکان یورپی پارلیمنٹ بر ملا اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ یورپی یونین کے متعلق ہونے والے ریفرنڈم میں کشمیریوں کی اکثریت نے ‘بریکزٹ’ کو ووٹ دیا ہے۔

اگر ایسا ہے تو کیا بر طانیہ میں بسنے والے کشمیری اس کے نتائج کا ادراک رکھتے ہیں ؟ اب بر طانیہ یورپی یونین کو خیر آباد کہتے ہوئے اگلی مارکیٹ کی تلاش میں سر گرداں ہے جس کے لئے حکومت بر طانیہ نے بھارت سے پینگیں بڑھانی شروع کر دی ہیں جس بھارت پر ہم سب کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگا تے ہیں جو محض الزام نہیں بلکہ حقیقتاً ظلم ، جبر و تشدد کی بھارت نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

ایسے ملک کے ساتھ بر طانیہ تجارت کرے گا جس میں بقول شخصے کشمیری کس منہ سے بھارت کو ظالم اور جارح قرار دیں گے؟ اور یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دینے والے اب کہاں کھڑے ہوں گے ؟انہوں نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب انہیں ‘ای یو انڈیا فری ٹریڈ’ پر رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری یورپی پارلیمنٹ نے سونپی تو انہوں نے اپنی رپورٹ میں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی شرط عائد کی اور یورپی پارلیمٹ سے اکثریت سے منظور بھی کر ائی بایں وجہ آج بھی ای یو انڈیا فری ٹریڈایگریمنٹ التوا کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سے علحیدگی کے حق میں کشمیری کمیونٹی کاووٹ دینے والی بات میں اگر صداقت ہے تو مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے اور مسئلہ کشمیر پر مؤقف کمزور کر دیا گیا ہے۔