مسلئہ کشمیر کے حل کی خاطر دنیا کو اپنا دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا۔ سید حسن جاوید

Culture Institute Cultural Diplomacy Seminar Berlin

Culture Institute Cultural Diplomacy Seminar Berlin

جرمنی (APNAانٹرنیشنل نیوز/انجم بلوچستانی) برلن بیورو اور مرکزی آفس برلنMCBیورپ کے مطابق جرمنی میں”یومِ سیاہ” کی یاد میں ٢٧ اکتوبر ٢٠١٥ء ، بروز منگل شام ٥ بجے سفارتخانہء پاکستان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کیلئے، انسٹی ٹیوٹ برائے کلچرل ڈپلومیسیICD، برلن میں ایک سیمینار منعقد کیا، جس میں سفیر پاکستان کے علاوہ کشمیر میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ،معروف شخصیات محترمہ رفعت وانی اور ڈاکٹر منظور نوشاروی نے شرکت کی،جرمنی کی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی اہم شخصیات کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف کلچر ل ڈپلومیسی کے طلبا، اساتذہ اورجرمن صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

پاکستانی سفیر برائے جرمنی، سید حسن جاوید نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ” آج سے ٦٧ سال پہلے ٢٧ اکتوبر کوانڈیا نے پاکستان کی طرف سے قبائلی لشکر کشی اور مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے متنازعہ الحاقِ کشمیر کا سہارا لیتے ہوئے، وادی کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ بعد ازاںجنگ بندی کی خاطر، ہندوستان خود اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ میں لے گیا اوروہاں منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کرنے کا وعدہ کیا۔

تاہم ٦٧برس گزر گئے بھارت اس وعدے کو پورا نہیں کر سکا۔ آج ٥لاکھ انڈین سیکورٹی ا فواج کی مقبوضہ کشمیرمیں موجودگی کی وجہ سے وادی ء کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ملٹری کنسٹریشن کیمپ بن چکی ہے، جہاں بڑے پیمانے پر گمشدگیاں ، بالائے قانون قتل ،عصمت دریاں اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ انڈیا کی قابض فوج ، آرمڈ فورسزا سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت ان خلاف ورزیوں کے باوجودہر سزا سے بالا تر ہے۔” انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ” مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات حقِ رائے دہی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ہندوستان غیر معینہ مدت تک ظلم کے قانون کا سہارا لے کر کشمیر پر قابض نہیں رہ سکتا۔جنوبی ایشیا میں دائمی امن قائم کرنے کے لئے کشمیر کے مسئلے کا حل ایک بنیادی ضرورت ہے،جسے تلاش کرناانڈیا اور پاکستان کے علاوہ بڑی طاقتوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ ”

سفیرپاکستان نے مزید کہا کہ”ICD مبارکباد کی مستحق ہے،کیونکہ یہ جملہ اقوام عالم سے یکساں برتائو پر یقین رکھتی ہے اورہمیں اس کی وساطت سے پاکستان کا موقف اجاگر کرنے کا موقعہ ملا ہے۔تاہم بڑی طاقتوں کا رویہ غیر منصفانہ ہے۔ دنیا میں دوہرے معیار کی سیاست اور جانبداری ختم ہوئے بغیر امن کا قیام ایک خواب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ”

محترمہ رفعت وانی نے کہا کہ” انڈین افواج آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں۔ لاکھوں کشمیر ی پچھلی سات دہائیوں سے یہ ظلم سہہ رہے ہیں،ہم سب کو عا لمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی ضرورت ہے۔ کشمیری خوف اور نا امیدی کی فضا میں رہتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں ۔”

بی جے پی کی حکومت کی ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے ہندو برادری کو کشمیر میں آباد کرنے کی پالیسی پرروشنی ڈالتے ہوئے محترمہ رفعت وانی نے کہا کہ” کشمیری اس چیز کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے کہ انڈیاکشمیر کی وادی کو ایک اور غازہ بنا دے۔” انہوں نے ہندوستان کی موجودہ حکومت کی طرف سے دوسری اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو بھی اجاگر کیا اور سوال اٹھایا کہ” اگر کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے تو وہاں کے لوگوں کو انصاف کیوں نہیں دیا جا رہا؟ ہمارے ساتھ یکساں سلوک کیوں نہیں کیا جاتا؟ہمیںبرابر کا شہری کیوں نہیں سمجھا جاتا؟”۔

سری نگر ،مقبوضہ کشمیرکے انسانی حقوق کے سرگرم رکن، ڈاکٹر منظور نوشاروی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ”مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کیلئے ہندوستان پر دبائو ڈالے کیونکہ کشمیر ی عوام نے اپنے بنیادی حقِ رائے دہی کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ عالمی برادری نے کشمیری عوام کے ساتھ ٧٠سال قبل ایک وعدہ کیا تھا،جو وہ ابھی تک پورا نہیں کرواسکی۔”

قبل ازیں، ڈاکٹر مارک ڈانفرائیڈ ، چیف ایگزیکٹو ، انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل ڈپلومیسی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ” ہر شخص کو مسلئہ کشمیر کے منصفانہ حل کی حمایت کرتے ہوئے اسکے لئے آواز اٹھانی چاہئے”اس موقع پر انسانی حقوق اور انصاف کے حصول کی خاطر شہید ہونے والے کشمیریوں کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

سیمینار کے دران کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی افواج کے مظالم اور ان کی اپنے حقِ خود ارادیت کیلئے جدوجہد کے بارے میں ایک ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی۔ اسکے علاوہ انڈیا کے آرمڈ فورسزا سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی الجزیرہ ٹی وی کی انسائیڈ اسٹوری کی جھلکیاں بھی دکھائی گئی۔ آخر میں ڈاکٹر مارک ڈانفرائیڈ کی نظامت میںسفیرپاکستان ، سید حسن جاوید، ڈاکٹر منظور نوشاروی اورمحترمہ رفعت وانی پر مشتمل پینل کے تحت ڈسکشن منعقدہوا۔جسکے بعد سوال جواب کی ایک نشست ہوئی۔

اسلامی تحریک کی مجلس شوریٰ کے رکن، مدیر سہ ماہی دستک ،رخسار احمد انجم،ایشین جرمن رفاہی سوسائٹی کے چیرمین ،کشمیر فورم انٹر نیشنل کے عالمی سربراہ اور پاکستان عوامی تحریک یورپ کے چیف کوآرڈینیٹر محمد شکیل چغتائی ،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ، ویب اخبار پاکبان کے مدیر اعلیٰ ظہور احمد،فری کشمیر آرگنائزیشن کے صدر صدیق کیانی ،نائب صدر سمیع اللہ اور منہاج پیس و اینٹی گریشن کونسل، برلن کے صدر محمد ارشاد نے کمیونٹی کی نمائندگی کی۔ سیمینار کے خاتمہ پر ہلکے پھلکے ریفریشمنٹ کا انتظام کیا گیا تھا۔