زخاک سعدی ٔشیراز بوئے عشق آید

Sa'adi e Shirazi

Sa’adi e Shirazi

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ، دبئی
ابو محمد مشرف الدین مصلح بن عبداللہ (٥٨٥ھ ١٢١٠ تا٦٨١ھ ١٢٩٢ئ) فارسی زبان وادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔آپ کے والداپنے دور میں شیراز کے حاکم سعد اتابک زنگی کی حکومت میں وفاکیش تھے۔

اس دور میں دو فرمانروائوں کانام سعد ہونے کے باعث زنگی عنان ِحکومت کو دولت ِ سعدی یابنوسعد کہا جاتا تھاجس باعث آپ نے اپنی شاعری میں سعدی تخلص کیااور شیراز ِایران میں اقامت کے باعث سعدی ٔشیراز ،عرفِ عام میں سعدی شیرازی مدام ہیں ۔٦٥٥ھ میںمرتب شدہ شہرئہ آفاق کتاب بوستان کو آپ نے سعد بن ابی بکر زنگی سے منسوب کیا۔

Sa'adi e Shirazi

Sa’adi e Shirazi

بغداد عراق میں امام غزالی کے قائم کردہ مدرسہ نظامیہ سے تعلیم حاصل کی جس کی جانب اشارہ کرتے فرماتے ہیں؛مرادرنظامیہ ادراربور،شب وروزتلقین وتکرار بود۔تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے بلادِ اسلامیہ کا دورہ کیا اور ٦٥٥ ھ میں شیراز واپسی کے بعد شیخ ابوعبداللہ محمد ابن ِخفیف شیرازی (وصال ٢٣رمضان المبارک ٣٧١ھ مدفون پشت ِبازار ِوکیل شیراز،مئولف شَرْفُ الْفَقْر ، جَامِعُ الرْشادْ وعلاوہ ازیں٢٩کتب ،بانی سلسلہخَفِیْفِیَةْ ، عجم کے بادشاہ آپ کے ارادت مند تھے۔

آپ ایران میں تصوف کے بانی سمجھے جاتے ہیں اور شیخ فریدالدین ِعطار نیشاپوری نے اپنی معرکة الآراء تالیف تَذْکِرَةُ الْاَؤلِیاء کاباب ٦٨آ پ کی نذرکیاہے۔)کی درگاہ کے مجاور ہو گئے ۔آپ نے علم وعرفان کاگرانقدرخزینہ سپردِقرطاس کیا ہے جس میں بوستان ،گلستان، دیوان اشعار، مواعظ، قصاید، مراثی، مفردات نظم میںاورنَصِیْحَةُ الْمَلُوْک، رسالہ عقل وعشق،مجالس ِپنج گانہ ،ہزلیات ِسعدی منثورِیگانہ ہیں ۔آپ کے معاصر مولاناسیف الدین ابوالمحامدمحمد فرغانی کہتے ہیں؛

Sa'adi e Shirazi

Sa’adi e Shirazi

نمی دانم کہ چون باشد بہ معدن زر فرستادن
بہ دریاقطرہ آوردن ،بہ کان گوہر فرستادن
چو بلبل در فراق ِگل ازاین اندیشہ خاموشم
کہ بانگ ِزاغ چون شاید بہ خنیاگرفرستادن
حدیث شعر من گفتن کنار ِطبع چون آیت
بہ آتش گاہ ِزرتشت است خاکستر فرستادن
ضمیرت جام جمشید است ودر وی نوش ِجان پرور
بر او جرعہ ای نتوان از این ساغر فرستادن
تو کشور گیر ِآفاقی وشعر ِتو ،تو را لشکر
چہ خوش باشد چنین لشکر بہ ہر کشور فرستادن

معارف ِمشائخ ِچشت کے مطابق امیر خسرو نے اپنے مرشد خواجہ نظام الدین اولیاء کی بارگاہ میں نعتیہ رباعی پڑھ کے سنائی تو حضرت نظام الدین اولیاء نے فرمایا؛ ”خسرو!رباعی خوب ہے لیکن سعدی کی رباعیبَلَغَ الْعُلیٰ بِکَمَالِہ لاجواب ہے۔

Sa'adi e Shirazi

Sa’adi e Shirazi

”متواتر کئی روز تک ایسا ہوا کہ امیر خسرو مختلف انداز میں نعت ِنبی کا نذرانہ پیش کرتے لیکن حضرت نظام الدین اولیاء فرماتے خسرو! سعدی کا جواب نہیں ۔بالآخر امیر خسرو نے عرض کی کہ حضرت میں بھی نعت ِمصطفٰی کا نذرانہ پیش کر رہا ہوں اور سعدی نے بھی نعتیہ رباعی کہی ہے۔

آپ کے مطابق سعدی کی رباعی کا جواب نہیں ایسا کیوں ہے ؟حضرت نظام الدین اولیاء نے فرمایا؛خسرو!جاننا چاہتے ہو تو نصف ِشب آئو۔رات امیر خسرو حضرت نظام الدین اولیاء کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو دیکھاکہ آپ وظائف میں مشغول ہیں ۔کچھ دیر بعد شیخ کی توجہ ہوئی تو دیکھا دربار ِنبی میں اصحاب ِکبار واولیائے کرام دست بستہ ہیں۔

Balaghal Ula Bikamalihi

Balaghal Ula Bikamalihi

شیخ سعدی دربار میں حاضر ہیں اور بَلَغَ الْعُلیٰ بِکَمالِہ،کَشَفَ الْدُّجیٰ بِجَمالِہ ،حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصالِہ سے لحن افروزہیںجسے سن کر اصحابِ مصطفٰی واولیائے خدا صَلُّوْاعَلَیْہ وَآلِہ کا نذرانہ سرکار کی بارگاہ میں پیش فرماتے ہیں۔

حضور فرماتے ہیں سعدی پھر پڑھو۔سعدی دہراتے ہیں تو حضور حکم دیتے ہیں سعدی پھر پڑھو ۔یہ دیکھ کر خسروعرض کرتے ہیں ؛پیر ومرشد!کلام میرا بھی خوب ہے لیکن سعدی کا جواب نہیں۔

قول ِمعروف کے مطابق پہلے تین مصرعے شیخ سعدی نے ترتیب دیے اور آخری مصرع سرکار ِدوعالم نے بعالم ِرئویاعطا فرمایاجس کے باعث یہ شہرئہ آفاق قطعہ کرئہ ارضی پہ گونجتا ہے۔
از سعدیٔ مشہور سخن شعر روان جوئی
کہ اُوکعبہ ء فضل است ودِلش چشمہ ٔزم زم

Balaghal ula Bikamalihi

Balaghal ula Bikamalihi

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ، دبئی