عظیم الشان دسواں کل ہند مشاعرہ زیر اہتمام انجمن محبان اردو ہند قطر

پٹنہ (رپورٹ کامران غنی سے) انجمن محبان اردو ہند قطر، دوحہ قطر کی معروف و مشہور ادبی تنظیم نے اپنے کامیاب ترین مشاعروں اور گراں قدر ادبی کارناموں کے ذریعہ قطر کے ادبی ماحول سے آگے قدم بڑھا کر عالمی اردو ادب کے منظر نامہ میں اپنی منفرد شناخت قائم کرلی ہے۔ جس کے سالانہ کل ہند مشاعروں کا قطر کے سامعین کو شدت سے انتظار رہتا ہے اور انجمن بھی محبان اردو کے ذوق ادب کی قدر کرتے ہوئے اپنے مشاعرے کے اعلی معیار کو بر قرار رکھتی ہے اور تشنگان شعر و ادب کی سماعتوں کو آسودگی بخشنے کے لئے منتخب ادباء وشعراء کی ہر سال ایک خوبصورت بزم سجاتی ہے۔انجمن محبان اردو ہند قطر جہاں آئی سی سی سفارتخانہ ہند قطر سے ملحق ہے وہیں اسے مملکت قطر کی وزارة الثقافہ والریاضہ کی گراں قدر سرپرستی بھی حاصل ہے۔

انجمن محبان اردو ہند قطرکے زیر اہتمام حسب روایت اس سال بھی جشن یوم جمہوریہ کی مناسبت سے جشن اردو مناتے ہوئے دسواں کل ہند مشاعرہ بمقام ریڈیسن بلو ہوٹل بروز جمعہ بتاریخ١٢ فروری٢٠١٦ ء منعقد ہوا جو بوقت ٩ بجے رات سے شروع ہوکر ٢ بجے رات تک بڑے وقار اورشان سے چلتا رہا۔

اس کامیاب مشاعرے کو کئی مایہ ناز شعراء نے اپنی شرکت سے خوب صورت بنایا اور وقار بخشا۔مشاعرہ کی صدارت مشہور سماجی اور علمی شخصیت صحافی جناب آصف اعظمی (سابق ایکسپرٹ ایڈوائزر دوردرشن ٹی وی ارردو اور ڈائریکٹر آئیڈیا کمیونیکیشنس) نے فرمائی، معروف ومشہور شعراء میں نواز دیوبندی، انور جلال پوری (ناظم مشاعرہ)، جوہر کانپوری، نعیم اختر خادمی، راجیش ریڈ، کلیم قیصر،نصرت مہدی، شکیل اعظمی، شاہد عدیلی اور تنویر غازی جیسے قابل قدر نام شامل ہیں۔ اسی طرح دوحہ قطر کی نمائندگی شفیق اختر، عزیز نبیل، ندیم ماہر، احمد اشفاق جیسے اہم شعراء نے کی۔

پروگرام کی ابتداء کرتے ہوئے قطر کی ادبی شناخت اور ادبی دنیا کا ایک روشن باب، معتبر ادیب وشاعر، مرتب ومحقق ، انجمن محبان اردو ہند قطر کے جنرل سکریٹری، دستاویزی اور تحقیقی سالانہ مجلہ ”دستاویز” کے مدیر اعلی جناب عزیز نبیل نے سب سے پہلے قطر کے باذوق سامعین اور تشنگان ادب کے جم غفیر کا استقبال کیا پھر آپ نے اسٹیج کو ہمہ آفتاب وماہتاب جیسی شخصیات سے سجانا شروع کیا۔ صدر مشاعرہ جناب آصف اعظمی اوراس کے بعدد یگر مہمان اور مقامی شعراء کرام کا مختصر تعارف کراتے ہوئے اسٹیج پر جلوہ افروز ہونے کی دعوت دی۔ مہمان خصوصی عزت مآب سنجیو ارورا (سفیر ہند برائے قطر) اور وزا رة الثقافہ والریاضہ کے نمائندہ مہمان خصوصی جناب موسی زین الموسی کا استقبال کیا۔ اس کے بعد قاری غیاث الدین صاحب نے تلاوت کلام مجید کی سعادت حاصل کی۔

بعد ازاں نائب صدر انجمن محبان اردوہند قطر،شعر و ادب کی دنیا میں اپنا یکتا لہجہ اور الگ رنگ و آہنگ سے پہچانے جانے والے شاعر وادیب جناب ندیم ماہر نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے تمام مہمانان اور سامعین کا استقبال کیا اور کہا کہ ہم اپنی زبان اردو کا دسواں جشن لے کر پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ آپ نے یک بعد دیگرے صدر انجمن جناب خالد داد خان صاحب،بانی انجمن جناب ابراہیم خان کمال صاحب، سرپرست انجمن جناب حسن عبدالکریم چوگلے صاحب، مہمانان خصوصی جناب موسی زین الموسی صاحب اور عزت مآب جناب سنجیو ارورا صاحب کو اظہار خیال کے لئے دعوت دی۔

صدر انجمن اور اردو زبان وادب کے بے لوث اور خاموش خادم جناب خالد داد خان صاحب نے خطبہ استقبالیہ میں اردو کے شیدائیوں کا پر جوش استقبال کیا۔ آپ نے صدر مشاعرہ، مہمانان خصوصی، تمام شعراء کرام اور باذوق سامعین ، وزارة الثقافہ والریاضہ اور تمام سرپرستان اور محبان اردو کو خوش آمدید کہا۔
اس کے بعد قطر کی معروف ومشہور شخصیت، اردو زبان وادب اور تہذیب وثقافت کی ترویج وترقی کو اپنا مشن بنا کر اس جادہ شوق میں تمام مشکلات سے بے پروا اپنی منزل مقصود کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے انجمن کے بانی جناب ابراہیم خان کمال صاحب نے اپنے کلمات تشکر میں فرمایا کہ وہ تمام افراد، تنظیمیں اور ادارے جو اردو کی ترویج وترقی میں کسی بھی طرح شامل ہیں وہ سب میرے اپنے ہیں کیونکہ اردو میری زبان ہے۔ اس خوبصورت شام کو سجانے میں جہاں انجمن کے تمام عہدیداران اور ممبران کی کاوشیں، سامعین کی خوبصورت سماعتیں ہیں وہیں ہمارے معاونین کرام کا بھی اہم حصہ ہے کہ جن کے گراں قدر تعاون کے بغیر ہم یہ بزم نہیں سجا سکتے تھے۔ آپ نے تمام معاونین کے نام کا ذکر کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

قطر کی مشہور ومقبول ترین سماجی اور علمی شخصیت سرپرست انجمن جناب حسن عبدالکریم چوگلے صاحب نے کہا کہ ہمیں خوشی بھی ہے اور فخر بھی کہ ہم اپنے وطن ہندوستان کے یوم جمہوریہ کا جشن منا رہے ہیں۔ آج انجمن کا دسواں سالانہ مشاعرہ ہے اور ہمارا عزم ہے کہ ہم اس کی سلور جبلی بھی منائیں گے۔ ہم نے اردو زبان وادب کی ترویج وترقی کا خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر کی کوشش نے ہمیں اس مقام تک پہونچایا۔ مشاعرہ ہماری گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔

انجمن محبان اردو مملکت قطر کی ایسی واحد ہندوستانی شناخت والی تنظیم ہے جسے وزارة الثقافہ والریاضہ کی سرپرستی حاصل ہے۔گفتگو کے آخر میں آپ نے مہمان شعراء ، مقامی شعراء اور تمام معاونین اور سامعین کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ تمام اردو سیکھئے اردو بولیے اردو لکھیے اردو پڑھیے مہمان خصوصی جناب موسی زین الموسی صاحب نے عربی زبان میں گفتگو کی جس کا برجستہ اور سلیس اردو ترجمہ جناب عبید طاہر صاحب (ریڈیو قطر اردو سروس) نے کیا۔ آپ نے کہاکہ اس خوبصورت تقریب کے انعقاد پرآپ تمام کو حکومت قطر اور وزارة الثقافہ والریاضہ کی جانب سے مبارک باد دیتے ہوئے مجھے بڑی مسرت ہورہی ہے۔ یہاں پر مقیم تمام ہندوستانیوں کا خیر مقدم کرتا ہوں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کے اہم رول کی قدر کرتا ہوں۔

عزت مآب جناب سنجیو ارورا صاحب نے کہا کہ جشن جمہوریہ ہند کی مناسبت سے اس عظیم الشان مشاعرہ کو منعقد کرنے پر میں انجمن کو مبارک باد دیتا ہوں۔اردو بھارت کی تاریخ کا ایک حسین حصہ ہے اور ہم کہیں بھی ہوں ہمارا دل ہندوستان کے لئے دھڑکتا ہے۔ آپ نے سیاچن کے اندوہناک حادثہ اور پھر اس میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے لانس انوپم تھپا کی وفات پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا۔

اس کے بعد صدر مشاعرہ مشہور سماجی اور علمی شخصیت صحافی جناب آصف اعظمی نے اپنی گفتگو کا آغاز اس شعر سے کیا:
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

انجمن کے اس دسویں مشاعرہ میں شامل ہونے پر ہمیں فخر محسوس ہورہا ہے۔ اس دوران انجمن مختلف مراحل سے گزری پر اس کے سرپرستان، ذمہ داران اور ممبران نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اور ایک دوسرے کا سہارا بن کر اس مشاعرے کی روایت کو دسویں سال تک پہونچایا یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ مشاعرہ جشن اردو ہے، محبت اور امن کا جشن ہے۔ اردو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔ اس دور میں اردو کا مشن لے کر آگے بڑھنا یقینا قابل فخر ہونا چاہیے۔ فخر اس لئے بھی کہ یہ جشن جمہوریہ ہند کا مشاعرہ ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہندوستان کے لوگ اپنے وطن سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ ان دس سالوں کو سلور جبلی تک پہونچانا ہے اور اس کے ساتھ کچھ اور مشن بھی شامل کرنا ہے تاکہ انجمن کا دائرہ مزید وسیع ہوجائے۔

انجمن نے ہر سال کی طرح اس سال بھی اپنا جاذب نظر یادگار مجلہ شائع کیا جس کی رونمائی نمائندہ وزارة الثقافہ والریاضہ، صدر مشاعرہ، مہمان خصوصی، سرپرست انجمن ، بانی انجمن، صدر انجمن ، نائب صدر اور انجمن کے جنرل سکریٹری کے بدست ہوئی۔اس کے بعد صدر مشاعرہ کے بدست تمام مہمان اور شعراء کی موجودگی میں شمع روشن کی گئی اور مشہور ناظم مشاعرہ جناب انور جلال پوری کی نظامت میں مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوامشاعرہ کا مکمل دورانیہ از ابتدا تا انتہاء بڑے ہی باوقار انداز میں جاری وساری رہا۔

شعراء کرام نے تازہ کلام اور عمدہ اشعار پیش کئے اور باذوق سامعین بھر پور لطف اندوز ہوئے اور خوب داد وتحسین سے نوازا۔ کوئی عمدہ شعر ایسا نہ ہوتا جس پر داد وتحسین اور تالیوں کی گونج سے وسیع وعریض جیوانہ ہال گونج نہ جاتا۔ بلا شبہ اس کامیاب ترین مشاعرہ کی یادیں تا دیر باقی رہیں گی۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی انجمن محبان اردو ہند قطر کے سالانہ کامیاب مشاعرہ کی گونج ہر سمت سنی جارہی ہے۔اس کی یادیں اور باتیں قطر کے اردو داں حلقہ کی گفتگؤوں کا موضوع اور محور بنی ہوئی ہیں۔ اس عظیم الشان اور کامیاب ترین مشاعرہ کی خوب صورت یاد ہر شریک مشاعرہ کو اگلے سال کے مشاعرہ کے انتظار میں بے قرار رکھے گی۔

Mushaira 2016

Mushaira 2016

Mushaira 2016

Mushaira 2016

Mushaira 2016

Mushaira 2016