معرکۂ حق و باطل

Marka Karbla

Marka Karbla

تحریر: ممتاز ملک ۔ پیرس‎
واقعہ کربلہ کو اقتدار کی جنگ یا دو شہزادوں کی لڑائ کہنے والوں کو اپنی عقل پر بھرپور ماتم کرنا چاہیۓ کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقابلے پر کھڑا ہونے والا بنام یذید کوئ شہزادہ نہیں تھا بلکہ ایک زانی ،اور بدکار ، بد قماش اپنے باپ کے نام پر پُھدکنے والا انسانی جسم میں ایک سؤر فطرت وجود تھا جسے شیطان نے اپنی بھرپور فرزندی میں لے رکھا تھا ۔جس نے اپنے باپ کے کندھے پر سوار ہو کر اقتدار کی کرسی حاصل کی ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی تمانچہ ہے ان تمام لوگوں کے چہروں پر جو آج خود کو بڑے فخر کے ساتھ ڈپلومیٹ کہتے ہیں۔

یہ قربانی وہ فرق ہے جو تا قیامت سچ اور جھوٹ کے بیچ برقرار رہے گا ۔ یہ قربانی وہ حقیقت ہے جو بتاتی ہے کہ سچ بولنے والے کے لیۓ حق بات کرنے والے کے لیۓ کبھی بھی نہ تور اس تےآسان ہوتے ہیں نہ ہی ذندگی پھولوں کا ہار ہوتی ہے ۔۔یہ معرکہ تھا انصاف اور بے انصافی کے بیچ ، کردار اور بے کرداری کےبیچ ،اچھائ اور برائ کے بیچ ،کیوں کہ اسی معرکے نے ان سب باتوں کے بیچ کے فرق کو روز رزشن کی طرح عیاں کر دیا ۔اور حسینی لہو نے حق و باطل کےدرمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی۔

Sacrifice

Sacrifice

یہ جنگ کل بھی جاری تھی آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہیگی ۔ ہر وہ شخص جو واقعہ کربلا
کو یا حسین علیہ السلام کے غم کو کسی ایک فرقے کا غم کہتا ہے وہ شخص نہ صرف کم علم ہے ۔ بلکہ بخیل ترین بھی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا کھلا ثبوت ہےکہ خباثت اور ظلم کی اگر کوئ حد مقرر نہیں ہے تو قربانی دینے والے بھی ہر حد سے بے نیاز ہوتے ہیں ۔ اس معرکے میں ایک گروہ تو اپنے نیزوں بھالوں سے تیر ترکش سے مرصع نظر آتا ہے تو دوسرا گروہ ایثار اور قربانی کی دستاریں سجاۓ اس بات کی عملی تصویر نظر آتا ہے کہ
،، ادھر آستم گر ہُنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں ،،
اس ذات پاک نے کہ جس کی کی ایک دعا سے کائنات کا رنگ بدل سکتا ہے ، لاکھوں کی قسمتیں بدل سکتی ہیں۔

انہوں نے دنیا کے اس سب سے بڑے ظلم کی گھڑی کو ٹالنے کے لیۓ اپنے کنبے کی حفاظت کے لیۓ دعا کے لیۓ ہاتھ کیوں نہیں اٹھاۓ ۔ تو اس کا ایک ہی جواب ہمیں نظر آتا ہے کہ اگر سر داران جنت اپنے کنبے کے لیۓ رحم کی اپیل کر دیتے تو قیامت تک کے لیۓ آپ پر یہ تہمت لگا ئ جاتی کہ یہ سرداری تو نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں آپ کو مل گئ ۔ کیوں کہ آپ پر تو قربانی کا وقت آیا توآپ قربانی ہی ںہ دے پاۓ ۔۔ گویا حسین علیہ السلام نے ثابت کیا کہ اگر نانا جان بے مثال تھے تونانا کا نواسہ ہونے کا حق ادا کرنے میں حسین علیہ السلام کسی طور بھی پیچھے نہ رہے ۔بلکہ قیامت تک کے لیۓ یہ ثابت کر دیا کہ حسین علیہ السلام جیسی قربانی دینا تو دور کی بات کوئ اس غم کو سننے کی بھی تاب نہیں لا سکتا ۔

Sabar

Sabar

جب کہ صبر کا یہ مقام کہ ماں کی گود سے لیکر سجدہ گاہ قتل تک یہ بات سنتے ،جانتے بوجھتے ہوۓ بقائم ہوش و حواس خود کو اور اپنے کنبے کو اس کے لیۓ پیش کر دیا ۔ اور اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ ایک نیک ،متقی ،ایماندار ،اعلی نسب ،باعلم ،بامرتبہ شخص کسی بھی قیمت پر ایک زانی ،شرابی ،بدکار ،بدکردار ، اور خدا کے نافرمان کی اطاعت کرنا تو کیا اطاعت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اسی معرکے نے یہ بات بھی ثابت کر دی کہ ایک غلط یا خود غرضانہ فیصلہ آپ کو قیامت تک کے لیۓ معتوب کروا سکتا ہے۔

حضرت امیر معاویہ کی زندگی بھر کی نیکیوں پر اپنے بیٹے کی محبت میں اُٹھایا ہوا ایک غلط فیصلہ ان کے کردار پر ایک نہ مٹنے والا کالا دھبہ بن گیا ۔ جنہوں نے نہ صرف باپ کے بعد بیٹے کے اقتدار کو مسلمانوں میں رواج دیا بلکہ اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کو بھی ایک ابتدائیہ دے دیا اور اس کے لیۓ اپنے ساری زندگی کے کردار کو طاق پر رکھ کر ایڑی چوٹی کا زور لگا ڈالا ۔اسی اقتدار کی بھوک اور خواہش نے مسلم حکمرانوں میں ہوس کی وہ آگ جلائ ، جس نے آج تک پوری اُمت مُسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس آگ کا دھواں آج تک مسلمان ممالک سے اٹھ رہا ہے ۔ اگر اس وقت مسلمانوں نے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دیا ہوتا ۔ اور غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا ہوتا تو آج مسلمان دنیا میں یوں ذلیل و خوارنہ ہوتے ،اور دنیا کے عشق میں یوں گرفتار نہ ہوتے ۔ اور بے شک حسین کا غم ہر مذہب ، ہر ذات پات رنگ اور نسل سے بالا ہو کر ہر سچ بولنے والے کا غم ہے ، ہر انصاف پسند ،اور ہراُصول پسند کا غم ہے۔ ،

Mumtaz Malik

Mumtaz Malik

تحریر: ممتاز ملک ۔ پیرس‎