غالب کی نعتیہ غزل پر حالی کی شاہکار تخمیس دوسری قسط

Dr. Taaqi Abedi

Dr. Taaqi Abedi

تحریر: ڈاکٹر سید تقی عابدی، ٹورنٹو،کینیڈا / بشکریہ اپنا انٹرنیشنل
کینیڈا(APNAانٹرنیشنل/انجم بلوچستانی) ٹورنٹو بیوروکے مطابق وہاں عرصہ سے مقیم ادیب، شاعر، محقق، تجزیہ کار، کئی ادبی تنظیمات کے اعزازی سربراہ، ماہر قلب ڈاکٹر سید تقی عابدی نے کئی موضوعات پرقلم اٹھایا ہے۔انکاغالب کی نعت گوئی پریہ مضمون دو قسطوں پر مشتمل ہے:

شعر(٧): بنگر دونیمہ گشتن ماہِ تمام را ٭ کان نیمہ جنبشی زبنانِ محمدۖ ست
(ترجمہ): تو ذرا بدرِ کامل کو دو ٹکڑے ہوا دیکھ جو حضورۖ کی انگلیوں کے اک معمولی اشارے کا نتیجہ ہے۔

(تشریح ومحاسن): غالب نے معجزہ شق القمر کو بیان کرنے میں صناعی سے کام لیا ہے یعنی یہاں قدرت مصطفی ۖکا دکھانا مقصود ہے جن کی انگلی کی معمولی حرکت سے چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تھے۔ غالب ایک عظیم شاعر ہے اور ان کا فن ہر لفظ کی مصرعہ میں نشست سے ظاہر ہے مشہور ہے کہ بڑا شاعر ہر چھوٹے لفظ کو بھی بڑے اہتمام سے ایسے مخصوص مقام پر جڑدیتا ہے جیسے جوہری نگینہ کو۔ اس شعر میں چاند کی نسبت سے لفظ”بنگر” (دیکھ) رکھا گیا ہے اس کے علاوہ اس شعر میں نادر اور اچھوتا قافیہ”بنان” بھی عظمتِ فن کی دلیل ہے۔ یہ شعر صنعتِ تلمیح میں ہے جہاں معجزہ شق القمر کا ذکر ہے۔ صنعتِ اشتقاق میں دونیمہ اور نیمۂ جنبشی شامل ہیں۔

شعر(٨): خود ز نقش مہر نبوت سخن رود ٭ آں نیز نامور ز نشانِ محمدۖست
(ترجمہ): اگر مہر نبوت(جو حضورۖ کی پشت پر پیدائشی نشان تھا) کی بات ہو تو یہ جاننا چاہیے کہ وہ حضورۖ کی نسبت سیارفع اور معتبرہوئی۔

(تشریح و محاسن): مہرت نبوت کا اعتبار اور اس کی وقعت حضورۖ کے جسمِ اقدس کی نسبت سے ہی ہے۔ یہ شعر صنعت تلمیح میں ہے۔ اس شعر کی اصل خوب صورتی صنعت ایہام ہے یہاں مہر کے معنی وہ دفتری مہر بھی لی جا سکتی ہے جو منصب دار یا عہدہ دار استعمال کرتے ہیں چنانچہ منصب کی مہر یا نبوت کو حضورۖ کی ذات سے زینت ملی نہ کہ نبوت سے حضورۖ کو۔یعنی انبیاؤں میں حضورۖ سا عظیم المرتبت نبیۖ پیدا نہ ہوا۔ اس شعر میں نقش ، نشان، مہر ، صنعتِ مراعات النظیر میں ہے۔

شعر(٩): غالب ثنائے خواجہ بہ یزدان گزاشتیم ٭ کان ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدۖست
(ترجمہ): غالب نے حضرت محمدۖ مصطفی کی ثنا کو حق تعالی پر چھوڑ دیا اس لئے کہ وہی محمدۖ کے مقام اور مرتبہ سے واقف ہے۔ یہ غالب کے معروف مقطعوں میں شمار ہوتا ہے اس شعر میں شاعر کے عجز و انکساری کے ساتھ حضورۖ کی بلند قامت کا ذکر بھی ہے جس کا احاطہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ۔ بہ قول جامی:

لا یمکن الثنا کما کان حقہ ٭ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

حالی نے استاد غالب کی اس نعتیہ غزل کے دوسرے اور ساتویں شعر کے سوا تمام اشعار پر تضمین کی ہے۔ صنعتوں میں کامیاب تضمین اُسے کہتے ہیں جس میں مضمون تازہ شعر میں ایسا جڑ جائے کہ کوئی فرق محسوس نہ کرسکے اور اگر پڑھنے والے کوتضمینی شعر سے واقفیت ہو تو معانی آفرینی ایسی ہو کہ شعر کی قدر و قیمت اور منزلت بڑھ جائے۔ اساتذہ کی زمینوں اور ان کے اشعار پر تضمین کرنا بڑے جگر گردے کی بات ہے۔ ہمارے مطالعے میں بہت سے بودے شعرا نے تضمین کرکے ٹاٹ میں مخمل کے پیوند لگانے کی کوششیںکی ہے۔ حالی اس خوب صورت کاوش سے سرخ رو ہو کر نکلے۔ استاد کے مصرعوں نے حالی کی عمارت کے بلند میناروں پر طلائی کلس کا کام کیا او رمضمون نور علی نور ہو گیا۔ ہم یہاں حالی کی نعت اس کا ترجمہ اور تجزیہ پیش کریں گے۔

تخمیس غزل نعتیہ جناب مرزا غالب مرحوم کہ در حیات ایشان نوشتہ شدہ بود
اعجاز از خواصِ لسانِ محمدۖ است
عین الحیٰوة گم بہ دہانِ محمدۖ است
گر نور و گر ہدیٰ کہ ازانِ محمدۖ است
حق جلوہ گو ز طرزِ بیانِ محمدۖ است
آرے کلامِ حق بہ زبانِ محمدۖ است
اے خامہ وصف قامت معشوق کم نگار
اے دل سخن ز راست قداں درمیان میار
قمری ز ذکرِ سرو نفس را نگاہ دار

واعظ حدیثِ سایۂ طوبیٰ فرو گزار
کایں جا سخن ز سروِ روانِ محمدۖ است
شاہد بہ قتلِ عاشق و عاشق بہ خال و خد
مجنوں بہ پاے لیلی و لیلیٰ بہ فرقِ خود
مومن بہ آلِ احمدۖ و آلش بروحِ جد
ہر کس قسم بدانچہ عزیز ست می خورد
سوگندِ کردگار بجانِ محمدۖ است
آں جا کہ از مناقب عترت سخن رود

وز آل و از صحابۂ امت سخن رود
واں کایں ہمہ ز ختمِ رسالت سخن رود
ور خود ز نقشِ مہر نبوت سخن رود
آں نیز نامور ز نشانِ محمدۖ است
بینی اگر بدیدۂ دراک وارسی
گوئی اگر بہ عالمِ ادراک وارسی
سنجی اگر بہ مرتبۂ خاک وارسی
دانی اگر بہ معنیِ لولاک وارسی

خود ہر چہ از حق است ازانِ محمدۖ است
لطفِ خداست گر بہ سرِ کس نہاد دست
قہرِ خداست چوں ز سرِ کیں بجملہ جست
داند کسے کہ شد ز مئے ”مارمیت” مست
تیرِ قضا ہر آئنہ در ترکشِ حق است
اما کشاد آں ز کمانِ محمدۖ است
ہمت بہ مدح شہ من و حالی گما شتیم
گفتیم و از نگاشتنی ہا نگاشتیم
چوں کام و لب فراخورِ وصفش نہ داشتیم
غالب ثناے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدۖ است

ترجمہ بند اول:
معجز بیانی حضورۖ کی زبانِ پاک کی خاصیت ہے۔ آپ حیات حضورۖ کے لعب دہان کا نام ہے۔ جیسے کہ روشنی اور ہدایت حضورۖ کے وجود سے ہے اس لیے حق ظاہر ہوا حضرت محمدۖ کے بیان سے بے شک حق کا کلام حضورۖ کی زبان سے جاری ہوا۔

ترجمہ بنددوم :
اے قلم معشوق کے پیکر کی تعریف میں مبالغہ نہ کر، اے دل بلند قدروں کی یہاں بات چیت نہ کر، اے قمری سرو کی مدح سرائی سے منہ بند کرلے۔ اے واعظ طوبیٰ کے سایہ کی بات چھوڑدے کیوں کہ اب یہاں حضرت محمدۖ کے سرو رواں کا ذکر ہورہا ہے۔

ترجمہ بندسوم :
معشوق عاشق کے قتل کی اور عاشق معشوق کی صورت اور خال کی، مجنوں لیلا کے پاوں او رلیلا اپنے سر کی، مومن آل بنیۖ کی اور آل نبیۖ اپنے جدّ اقدس کی عظمت اور محبت کی قسم کھاتے ہیں اسی لیے اللہ نے بھی حضرت محمدۖ کی جان کی قسم کھائی ہے۔

ترجمہ بندچہارم :
جہاں خاندان رسولۖ کے فضائل کی بات چھڑی ہے جس مقام پر آل نبیۖ اور اصحاب رسول کی گفتگو ہوئی ہے جہاں ختم رسالتۖ کا چرچا ہے اور نقش مہر نبوت کا ذکر ہے سب کی فضیلت اور اہمیت حضورۖ کی نسبت سے ارفع اور معتبر ہوئی۔

ترجمہ بندپنجم:
اگر تو عمیق نظر سے سمجھنے کی کوشش کرے گا تو معلوم ہوگا کوئی کہے اگر کہ وہ عالم محسوسات یعنی کہکشاں کو سمجھتا ہے تو معلوم ہوگا اگر کوئی اس خاک دان سے واقفیت رکھتا ہے تو معلوم ہو گا اور اگر تو لولاک کے معنی سمجھ لے تو تجھے معلوم ہوگا جو کچھ خدا کا ہے وہ سب محمدۖ ہی کا ہے۔

ترجمہ بندششم:
اللہ کا لطف وفضل ہوتا ہے جب وہ کسی کے سر پر ہاتھ رکھ دے۔ اللہ کا قہر شامل ہوجاتا ہے جب کوئی درشت بات نکل جائے وہ جانتے ہیں جو شراب مارمیت کے نشے سے مست ہیں کہ تقدیر کا تیر بے شک اللہ کے ترکش میں ہے لیکن وہ محمدۖ کی کمان ہی سے چھوٹتا ہے۔

ترجمہ بندہفتم:
حضورۖ کی مدح کرنے کی میں (غالب)اور حالی نے ہمت باندھی ہے۔ ہم نے کہا اور جو کچھ بھی ہم سے لکھا گیا ہم نے لکھا۔ لیکن ہمارے زبان او رلب حضورۖ کی ثنا کے لائق نہ تھے اس لیے غالب نے حضرت محمدۖ کی ثنا کو حق تعالی پر چھوڑ دیا بے شک وہی محمدۖ کے مقام اور مرتبہ سے واقف ہے۔