میر خلیل الرحمان نے آزاد صحافت کی بنیاد رکھی، جدہ میں میر صحافت کی یاد میں تقریب

Journalism

Journalism

جدہ (نوید فاروقی) پاکستان میں اردو صحافت اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا میں میر خلیل الرحمان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا صحافتی دنیا میں نئے رنگ اور انداز سامنے آئے ،میر خلیل الرحمان نئی نسل کیلئے مشعل راہ تھے ،یہ بات مقررین نے جدہ میں میر صحافت میر خلیل الرحمان کی یاد میں پاکستان جرنلسٹس فورم اور پاکستان بزنس کمیونٹی کی تقریب میں کہی ۔پاکستان جرنلسٹس فورم اور پاکستان بزنس کمیو نٹی کے زیر اہتمام جدہ میں میر خلیل الرحمان کی24 ویں برسی کے حوالے سے تقریب ہوئی جس کی صدارت امیرمحمد خان نے کی۔

مہمان خصوصی پاکستان قو نصلیٹ کے ہیڈ آف چانسلری جنید وزیر تھے، تقریب میں سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر امیر محمد خان نے کہا کہ میر خلیل الرحمان ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے تھے جنہوں نے صحافیوں کی تربیت یہی صحافی آج ملک کے مختلف اشاعتی اداروں اور بیرون ملک اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں کہا کہ میر صاحب ہمیشہ صحافیوں حقوق کے تحفظ اور انکے مستقبل کے لئے فکر مند رہتے اور بہتر سے بہتر منصوبہ بندی کیا کرتے تھے ،پاکستان قو نصلیٹ کے ہیڈ آف چانسلری جنید وزیر نے کہا کہ پاکستان میں صحافت مشکل شعبہ ہے لیکن ادارہ جنگ کے بانی نے جس آزاد صحافت کی بنیا د رکھی۔

انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں ایسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے اور عالم اسلام کو متحد رکھنے میں بھی ادارہ جنگ اور جیو نیوز اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان مجلس محصورین کے احسان الحق نے کہا کہ پاکستان جب دولخت ہوا تو ادارہ جنگ نے ملک کو مستحکم رکھنے اور مشرقی پاکستان میں رہ جانے والے پاکستانیوں کیلئے پل کا کردار ادا کیا ،بوسنیا کاز ہو یا کشمیر و فلسطین ،شام و عراق کے مسائل ہو ں یا خلیجی ممالک کے ، ان سب معاملات میں جنگ نے عوام کو ہمیشہ با خبر رکھنے کا عزم کیا ہے ،بزنس کمیو نٹی کے ابو بکر میمن نے کہا کہ میر خلیل الرحمان ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے تھے۔

انکے تربیت یافتہ افرادنے آج ادارے کو ایک صنعت کے درجے تک پہنچادیا ہے ۔ سابق وفاقی وزیر چوہدری شہباز حسین نے میر خلیل الرحمان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ میر صاحب نے برصغیر میں صاف و شفاف صحافت کی بنیاد رکھی جسے آج ان کے فرزند میر جاوید رحمان اور میر شکیل الرحمن آگے لیکر جا رہے ہیں۔ یہ وہ مثالی ادارہ ہے جو حاکم کے آگے کبھی نہیں جھکا اور حق کی آواز بلند کرتا رہا ۔ جنگ لندن کے سابق نیوز ایڈیٹر خالد خورشیدکہا کہ میر صاحب بلاشبہ اردو صحافت کے میر کاررواں تھے انہوں نے اردو صحافت کو نئی سوچ ،نئے اندار اور نئے افق دئیے ان کا سب سے بڑا کارنامہ نے خط نستعلیق کو کمیپوٹر پر منتقل کرنا ہے اس سے دنیا بھر میں اردو زبان کو فروغ حاصل ہوا۔

سادگی انکساری اور محنت میر صاحب کی شخصیت کا خاصہ تھا انہوں نے کوچہ صحافت میں ادارہ جنگ کی صورت میں کوچراغ جلا یا ہے دعا ہے ہمیشہ روشینیاں بکھرتا رہے ،تقریب سے محمد عنایت اللہ،جمیل راٹھور،اطہر عباسی ،خلیل احمد خلیل نے منظوم کلام اور قاری محمد آصف نے تلاوت اور ممتاز نعت خواں شیر افضل نے نعت پیش کیا ۔ آخر میں حاضرین نے میر خلیل الرحمان کے ایصال ثواب اور پاکستان کی ترقی ،خوشحالی و استحکام کیلئے دعائیں کیں۔