محمد علی جناح برصغیر کے عظیم رہنما تھے، ڈاکٹر مسفر حسن

Dr. Misfar Hassan

Dr. Misfar Hassan

برنلے: محمد علی جناح برصغیر کے عظیم رہنما تھے۔ انکی سیاسی بصیرت سے مسلمانان ہند نے چند سالوں میں نقشہ تبدیل کر دیا ۔ طاغوتی طاقتوں کے پیروکاروں نے پاکستان کو فلاحی مملکت بنانے کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل قائد اعظم محمد علی جناح کی کشیر پالیسی اپنانے میں مضمر ہے۔

ڈاکٹر مسفر حسن صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے 68 یوم وفات کے حوالے سے ڈاکٹر سے کہا کہ جناح برصغیر کے وہ عظیم رہنما تھے جس کی سیاسی بصیرت اور کردار کی عظمت کی وجہ سے نہ صرف مسلمانان برصغیر نے انکا ساتھ دیا بلکہ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں چند سال کے اندر دنیانقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ طاغوتی طاقتوں نے مسلمانان ہند کے اس فیصلہ کو بھی دل سے قبول نہیں کیا اور قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان میں سازشوں کا ایسا جال بچھا دیا جس نے جناح کے نظریہ فلاحی مملکت کے خواب کو پوران نہیں ہونے دیا بلکہ ریاست پاکستان کو قومی سلامتی ریاست بنا کر ملک میں کرپشن ، نااہلی، اور لوٹ مار کو فروغ دینے کی ریاست بنا کر رکھ دیا اور ملک میں انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کی ایسی بنیاد رکھ دی جو ملک کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طاغوتی طاقتوں کے آلہ کاروں نے مسئلہ کشمیر کو جناح کی پالیسی کے بجائے کشمیر میں مسلح افراد داخل کر کیتمام پرامن راست بند کر دیئے اور گزشتہ 70 برس میں اس کی وجہ سے دنیا کی ایک تہائی آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا یہ نتیجہ ہے کہ کشمیر کے 70 لاکھ لوگ گذشتہ 64 سالوں سے کرفیوں کی وجہ سے اپنے گھروں میں محسور ہیں جبکہ دوسری طرف ان مظالم کی آواز دنیا میں کہیں سنائی نہیں دے رہی ۔ حکومت پاکستان بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مکمل تنہائی کا شکار ہے۔ جس وجہ سے مسئلہ کشمیر کسی حل کی طرف نہیں جا سکا،

انہوں نے کہا کہ محمد علی جناح کی کشمیری پالیسی جس کا احیا جناب کے ایچ خورشید نے 1962 میں کیا تھا آج بھی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضمانت دیتا ہے ، انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مظفرآباد حکومت کو کشمیریوں کی نمائندہ حکومت تسلیم کر کے حکومت پاکستان کشمیر پر سیاسی جمود ختم کرے کیلئے اقدامات کرے۔