محمد شکیل چغتائی کی خالہ زبیدہ برلاس (درشہوار) پاکستان میں انتقال کر گئیں

M. Shakeel Chughtai

M. Shakeel Chughtai

جرمنی (انجم بلوچستانی) پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز جمعتہ المبارک سے ہوا اور جب پاکستان میں رمضان کی آمد پرخوشیوں کا اظہار کیا جارہا تھا،نہ جانے کتنے گھرانوںمیںصف ماتم بچھی ہوئی تھی۔اس میں ایک گھرانہ مرحوم یونس علی خان کا تھا،جہاں انکی اہلیہ زبیدہ برلاس، جنہوں نے اپنا نام در شہوار رکھ لیاتھا، طویل بیماری کے بعد کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئیں۔

وہ صائمہ خالد کی والدہ، شکیل چغتائی، جمیل چغتائی،ثروت احمد؛ندیم برلاس، سہیل برلاس، مجاہد برلاس،زبیر برلاس، شعیب برلاس،فلاور برلاس، ناز کامران علی خان؛نوید حسن خان،فواد حسن خان،جواد حسن خان،شمائلہ شعیب کی سگی خالہ؛فوٹو گرافی اور ویڈیو کے کاروبار سے منسلک محمد خالد کی خوشدامن؛فرحان کی چچی ؛ثاقب،خالد،طارق ،احمد اورتزئین کی ممانی تھیں۔انہیںنیو کراچی کے محمد شاہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، جہاں انکے مرحوم شوہر یونس علی خان بھی مدفون ہیں۔

سینئر رہنما وچیف کوآرڈینیٹر پاکستان عوامی تحر یکPAT یورپ، چیرمین ایشین جرمن رفاہی سوسائٹیAGRS، میڈیا کوآرڈینیٹر تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل برائے یورپ ، چیف ایگزیکٹئو ایشین پیپلز نیوزایجنسی، محمد شکیل چغتائی کو اس صدمہ جانکاہ کی اطلاع شکاگو میں ملی، جہاں وہ نجی دورے پر تشریف لے گئے ہیں۔انہوں نے فوری طور پراپنی خالہ زاد صائمہ سے کراچی، پاکستان اوراپنی ماموں زاد حنا برلاس سے ڈیٹرائٹ،امریکہ میں فون پر تعزیت کی۔

انہوں نے برلن ،جرمنی میںاپنے دوستوںخضر حیات تارڑ،صدرمجلس شوریٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل،برلن اور قیصر ملک،سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی،جرمنی سے رابطہ کیا اورانہیں جامعہ مسجد منہاج القرآن،برلن اور پاک محمد مسجد ، برلن میںاگلے جمعہ کو اجتماعی فاتحہ اور دعائے مغفرت کروانیکی درخواست کی۔اکنا کے شکاگو دعوہ سنٹر اور مسجد کے انچارج احمد انصاری سے بھی افطار میں اور جمعہ کے روز دعائے خیر و فاتحہ کی درخواست کی گئی ہے۔

شکیل چغتائی نے نے مرحومہ زبیدہ برلاس کے جملہ لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ”میری سب سے چھوٹی خالہ جنہیں ہم پیار میں بے بی خالہ کہا کرتے تھے،کی رحلت انتہائی تکلیف دہ اوررنج والم کا باعث ہے۔مرحومہ بڑی ہمدرد،ملنسار اور پیار کرنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے ہر بڑے کام میں میری والدہ اور میری خالائوں کا ہاتھ بٹایا،میرے مرحوم ماموں کی خدمت کی اور اکثردوسروں کے کام آئیں۔

میںاکثر انکے گھر قیام کرتا رہا۔وہ کافی عرصہ سے مختلف تکالیف کا شکار تھیں اور بڑی بہادری سے اپنے امراض سے نبرد آزما رہیں۔لیکن اللہ کی مرضی اور مصلحت کے سامنے انسان کی پیش نہیں جاتی۔اللہ پاک نے ہماری شب وروز کی دعائوں کے باوجود انہیں اپنے پاس بلا لیا اور اب صبر و شکر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔اللہ تعلیٰ انکی مغفرت کرے،قبر کی منزلیں آسان کرے،انکے درجات بلند کرے اور انہیںاپنی رحمت کے سائے میں لے کر جنت الفردوس میںجگہ عطا فرمائے۔آمین ۔میں آپ سب سے تعزیت کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ خدائے ذوالجلال آپ سب کو صبر جمیل اور مرحومہ کی روح کو سکون عطا فرمائے آمین، ثم آمین۔”