یوم ِعاشورہ کے فضائل

 Muharram

Muharram

تحریر: ناصرہ خان
4 حرمت کے مہینوں میں سے ایک مہینہ محرم ہے قرآن پاک میں ان چار مہینوں کا ذکر بیان کر کے محرم کی اہمیت و فضیلت واضح کر دی گئی تاریخی اعتبار سے بھی اس مہینے میں کئی ایسے واقعات ظہور پزیر ہوئے کہ جو اس مہینے کی اہمیت تاریخی اعتبار سے بھی ثابت کرتے ہیں۔

اسی مہینے تاریخ نے یوم عاشورہ کو ظالم مظلوم حق و باطل کے عظیم معرکے کربلا کے نام سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ کر لیا ہے ‘ اسلامی سال کے پہلے مہینے یعنی محرم الحرام کا دسواں روز یوم عاشورہ کہلاتا ہے اس روز کی قرآن و احادیث میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے اس روز کے متعلق مشہور ہے کہ دس محرم الحرام کو یوم عاشورہ اسلئے کہا جاتا ہے کیونکہ ہ اس دن رب العزت نے دس پیغمبروں(علیہ السلام) کو دس اعزازات عطافرمائے اسی وجہ سے یہ دن یوم عاشورہ کہلاتا ہے ۔ علماء کرام کے مطابق اسی روزحضرت آدم علیہ السّلام کی توبہ قبول ہوئی۔ حضرت ادریس علیہ السّلام کومقام رفیع پر اٹھایا گیا۔

حضرت نوح علیہ السّلام کی کشتی اسی پہاڑ پر ٹھہری ۔حضرت سیدناابراہیم علیہ السّلام پیداہوئے اوراسی روزرب کائنات نے انکواپنادوست (خلیل) بنایا’ سیدناحضرت ابراہیم علیہ السّلام کوآگ نمرودسے بچایا گیا۔ حضرت دائودعلیہ السّلام کی توبہ قبول ہوئی ‘حضرت سلیمان علیہ السّلام کو بادشاہی واپس ملی ۔ حضرت ایوب علیہ السّلام کی بیماری ختم ہوئی۔حضرت موسیٰ علیہ السّلام کودریائے نیل سے راستہ ملا اور فرعون غرق کردیا گیا۔اسی روزحضرت سیدنایونس علیہ السّلام مچھلی کے پیٹ قید کے بعد نکلے ‘حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کوآسمان پراٹھا لیا گیا ‘ محبوب خدا،سرورانبیاء ،احمدمجتبیٰ حضرت محمد مصطفی ۖکا نور تخلیق ہوا۔

علماء کرام کے مطابق عاشورہ کے روز دس اعمال ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قرب کاباعث بنتے ہیں۔١۔روزہ رکھنا٢۔یتیم کے سرپرہاتھ پھیرنا٣۔دسترخواںکشادہ کرنا٤۔صدقہ خیرات کرنا٥۔غسل کرنا٦۔سرمہ لگانا ٧۔بیمار کی عیادت کرنا٨۔پیاسے کوپانی پلانا٩۔نفلی عبادت کرنا١٠۔توبہ واستغفارکرنا،قبرستان جانا-
یوم عاشورہ کے روزہ کی فضیلت اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں عاشورہ کاروزہ فرض تھااوراسکابہت اہتمام کیاجاتا تھابچوں کوتاکیدکرکے یہ روزہ رکھوایاجاتاپھرجب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تواسکی فرضیت ختم ہوگئی اورمستحب یعنی نفلی روزہ رہ گیااس لئے جن روایات سے بہت زیادہ تاکیدمعلوم ہوتی ہے وہ اسی دورکی ہیں تاہم اسکااجروثواب اب بھی باقی ہے۔

Muhammad PBUH

Muhammad PBUH

علماء کرام کے مطابق ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ۖمکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ تشریف لائے تودیکھاکہ یہودی عاشورہ کے دن کاروزہ رکھتے ہیں آپۖنے ان سے پوچھاتم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو ؟توانہوں نے کہایہ بڑا اچھادن ہے اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام اوربنی اسرائیل کوان کے دشمنوں سے نجات دی اورفرعون اوراسکے لشکرکوغرق کیاتھا۔اس موقع پرحضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرنے کے لئے روزہ رکھا پس اس لئے ہم اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں اس پر آۖنے فرمایا”تم سے زیادہ ہم موسیٰ علیہ السّلام کی سنت پرعمل کرنے کے حقدارہیں ” پس آپۖ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھااورصحابہ کرام کوروزہ رکھنے کا حکم دیا۔

ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا جو کوئی عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پرخرچ کرنے میں فراخی کرے گاتو اللہ تعالیٰ اس پرساراسال وسعت فرمائے گاحضرت سفیان ثوری فرماتے ہیںکہ ہم نے اسکاتجربہ کیاتوایساہی پایا۔ علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان کے روزوںکے بعدجس مہینے کے روزے افضل ہیںوہ محرم الحرام ہے اور فرض نمازکے بعدسب سے افضل نمازرات (تہجد)کی ہے۔

رسول اللہۖ (پہلے) عاشورہ کے روزہ رکھنے کاحکم دیاکرتے تھے اوراسکی ترغیب دلاتے تھے اوراس دن کے آنے کے وقت ہماری خبرگیری کیاکرتے تھے مگرجب ماہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے تونہ آپۖنے ہمیں اس دن روزہ رکھنے کاحکم فرمایااورنہ اس سے منع کیااورنہ ہی اس دن کے آنے کے وقت ہماری خبر گیری کی۔

Nasira Khan

Nasira Khan

تحریر: ناصرہ خان