مسجد میں نکاح گھر میں ولیمہ تحریک کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

Nikah in Mosque

Nikah in Mosque

نظام آباد (نمائندہ خصوصی) ایک ایسے موقع پر جب کہ سارا ہندوستان نوٹ بندی قانون کے لاگو ہونے پر معاشی بدحالی کا شکار ہے اور غریب اور متوسط طبقہ ہندوستان سے کالے دھن کو باہر نکالنے حکومت کی کوشش کے سبب ذبردست مالی پریشانیوں سے دشوار ہے زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے والے مذہب اسلام کے پاسداروں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں فوری اثر کے ساتھ بے جااسراف کو ترک کردیں۔

کہا جاتا ہے کہ ہر تاریکی میں روشنی ہوتی ہے اسی طرح موجودہ معاشی تنگی کے حالات میں بھی مسلمان اپنے کاموں کو اعتدال کی راہ پر رہ کر کر سکتے ہیں۔ حکومت نے شادی کے لیے اپنے اکائونٹ میں سے ڈھائی لاکھ نکالنے کی سہولت رکھی ہے لیکن اس کے لیے جو شرائط ہیں وہ بھی کچھ کم تکلیف دہ نہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ”مسجد میں نکاح گھر میں ولیمہ”تحریک کو عام کریں۔

حالات کی وجہہ سے شادیاں یا دیگر ضروری تقاریب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم جس طرح زندگی کے ہر معاملے میں دوسروں کو درست راستہ دکھاتے ہیں اسی طرح شادی بیاہ کے معاملے میں بھی ہم بے جا اسراف کو ترک کرکے سادگی سے اپنے بچوں کی شادیاں کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد نے اپنے صحافتی بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں جہاں ساراہندوستان پریشان حال ہے اللہ پر بھروسہ رکھنے والے اہل وطن مسلمان پریشان نہیں ہیں۔

اگر مسلمانوں میں سادگی سے شادیوں کی مہم کو ایک مرتبہ پھر رائج کیا جائے اور بغیر جہیز اور اسراف کی دعوتوں سے پرہیز کرتے ہوئے مسجد میں سادگی سے نکاح اور دوسرے دن دونوں گھروں کے چند افراد کے لیے ولیمہ کی تقریب منعقدکی جائے تو موجودہ حالات میں بھی کم خرچ میں نکاح ہوسکتے ہیں۔ ابھی دو تین مہینے تک ملک کے معاشی حالات معمول پر نہیں آسکتے اور ہم اپنی تقاریب کو ملتوی کرتے ہوئے یا حالات کا شکار ہوکر پریشان نہیں ہوسکتے۔

موجودہ حالات میں علمائے کرام’ قاضی حضرات ‘سماجی کارکنوں’مصلحین قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ شادیوں کو سادگی سے انجام دینے کی مہم کو تیز کریں۔ لوگوں میں خاص طور سے خواتین میں شعور بیدار کیا جائے کہ شادی بیاہ کے موجودہ لوازمات کے بغیر بھی سادگی سے شادی کی تقاریب منعقد ہوسکتی ہیں۔ اگر کسی کو دعوت کرنا ہی ہے تو وہ ملک کے معاشی حالات سدھرنے کے بعد تقریب کرسکتے ہیں۔

اس مہم کو سوشیل میڈیا کے ذریعے عام کیا گیا ہے اور ملک بھر سے لوگوں نے اس مہم کی ستائش کی ہے اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ شادی کرنے والے نواجوانوں اور ان کے والدین کو ترغیب دلائی جائے کہ وہ ان حالات میں سادگی سے بغیر جہیز ‘جوڑے کی رقم یا بڑی دعوت کے شادی کے لیے راضی ہوجائیں۔ مسلمانوں کی طرف سے شروع کردہ اس مہم کے ملک کے دیگر طبقات پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ اور وہ بھی سادگی کی طرف راغب ہوں گے۔ اس کے لیے سوشیل میڈیا فیس بک واٹس اپ پر اشتہارات چلائے جائیں۔

مساجد میں جمعہ کے بیانات کئے جائیں اور محلہ واری سطح پر جن گھروں میں پیسے نہ ہونے سے شادیاں ملتوی کرنے کی بات ہورہی ہے انہیں سادگی سے شادی کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ اردو کے اخبارات اس مہم کو عام کریں۔ اور سادگی سے ہونے والی شادیوں کی خبروں کو بہ طور ترغیب عام کیا جائے۔ اسلام میں بھی اسراف کی ممانعت آگئی ہے اور موجودہ حالات بھی ہمیں اپنی تقاریب کو سادہ کرنے کی جانب آماد کر رہے ہیں۔

امید ہے کہ اس مہم کی پذیرائی ہوگی اور اسے عملی جامعہ پہنایا جائے گا۔