ایم کیو ایم اور پاکستان

MQM

MQM

تحریر: واٹسن سلیم گلِ، ایمسٹرڈیم
کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے 137 نشستیں جیت کر کراچی کے میئر کے لئے جگہ بنا لی۔ اس لوکل بوڈیز الیکشن میں جہاں متحدہ کو زبردست کامیابی ملی وہیں اس الیکشن میں بڑے بڑے چیمپئن بری طرح سے شکست کھا گئے۔ جماعت اسلامی کے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان ، پاکستان تحریک انصاف کے کراچی کے صدر علی زیدی ، پیپلز پارٹی کے کراچی کے صدر نجمی عالم کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایم کیو ایم کے لئے یہ الیکشن جیتنا بہت ضروری تھا۔

کیونکہ ایم کیو ایم کے خلاف ٹھپا مافیا ، دھاندلی اور بدمعاشی سے الیکشن جیتنے جیسے الزامات کی بھرمار تھی۔ اس کے ساتھ ہی رینجر آپریشن ، الطاف حسین پر منی لانڈرینگ کا کیس ، ڈاکٹرعمران فارق قتل کیس کی ایف آئ آر کا پاکستان میں درج ہونا ،ان تمام حالات کے باوجود بھی اس الیکشن میں کامیابی ایم کیو ایم کے لئے کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہی ہے۔ اب اس جیت کو آپ کوئ بھی نام دیں جیت ایم کیو ایم کی ہوئ ہے۔ کوئ کہتا ہے کہ ابھی بھی دھاندلی ہوئ ہے اور کوئ اسے ہمدردی کے ووٹ کے طور پر گردانتا ہے۔ اس میں کوئ شک نہی ہے کہ ایم کیو ایم اس وقت اپنی تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے کیس کے ملزمان کا 7 روز کا جسمانی ریمانڈ دے کر ایف آئ ایے کے حوالے کر دیا گیا۔ یعنی سوائے معظم علی کے جو ملزمان چار سال سے قانون نافز کرنے والے اداروں کی حراست میں رہے اور جن سے تمام ایجنسیا تفتیش کر چکُی ہوں ۔ جے آئ ٹی کے رپورٹ بھی سامنے آ چُکی ہو تو اب ان کا جسمانی ریمانڈ لینا سوائے میڈیا ٹرائیل کے کچھ نہی ہے۔ دوسری عجیب بات یہ کہ اب کہا جا رہا ہے کہ پہلی جے آئ ٹی رپورٹ فیکٹ فائنڈ ینگ کے لئے تھی اب جے آئ ٹی مجرم کو سامنے لانے کے لئے کام کرے گی۔ دنیا کی سب سے معتبر انٹیلجنس ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ نے اس حوالے سے بہت باریکی سے اس کیس کی تفتیش کی ہے۔

Altaf Hussain

Altaf Hussain

مگر وہ بھی ابھی تک الطاف حسین کو اس مقدمے میں شریک ثابت نہی کر سکی ۔ مگر پاکستان میں الطاف حسین کے خلاف ایک اور ایف آئ آر درج ہو گئ ۔ پاکستان کے قانونی ماہرین کا خیال یہ ہے کہ اس ایف آئ آر سے الطاف حسین کو تو کوئ نقصان نہی پہنچے گا کیونکہ کسی بھی ملزم نے کہیں بھی یہ زکر نہی کیا کہ ان کو الطاف حسین نے برائے راست کسی قسم کے کوئ احکام دئے ہوں۔ ہاں ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا ٹرائیل ضرور ہو گا۔ 1992 میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف غداری اور بغاوت کے کئ مقدمے بنائے گئے ۔ جناح پُور کی سازش بے نقاب کی گئ۔

ایم کیو ایم کے سیکنڑوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔ چند کو میڈیا کے سامنے پیش بھی کیا گیا جنہوں نے جناح پور کی سازش کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے نقشے تک حوالے کئے گئے۔ مگر 17 سال بعد اسی ایجنسی کے سربراہ نے خود اعتراف کیا کہ یہ سب ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کی ایک سازش تھی۔ پھر اسی آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران جن میں انسپکٹر بہادر علی ، ڈی ایس پی چوہدری لطیف اور بہت سے افسران کراچی میں قتل کر دئے گئے۔ پاکستان میں ہر حکومتی جماعت ان پولیس افسران کے قتل کے الزامات ایم کیو ایم پر لگاتی رہی ہے۔

میڈیا ٹرائیل کر کے سیاسی نقصان پہنچاتی ہے مگر آج تک کسی ایک بھی مجرم کو سزا نہی دی گئ ۔ کئ سال گزر گئے یہ سُنتے ہوئے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں را کی ایجنٹ ہے۔ ایس ایس پی صاحبان میڈیا کے سامنے نمودار ہوتے ہیں۔ ملزمان کو سامنے پیش کرتے ہیں۔ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایم کیو ایم کے خلاف پختہ ثبوت موجود ہیں ۔ مگران سنگین الزامات کے باوجود بھی خاموشی ! بعد میں پتا چلتا ہے کہ یہ سب ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا ٹرائیل کا حصہ ہے اور کچھ بھی نہی۔ ایم کیو ایم کے خلاف سندھ سے باہر ایسی تصویر کشی کی گئ ہے کہ دیگر صوبوں کے عوام واقئ ایم کیو ایم کے خلاف نفرت رکھتے ہیں۔ اس میں چند میڈیا اینکرز کا بھی ہاتھ ہے۔ اسی وجہ سے ایم کیو ایم نے دو ٹی وی چینلز کا بائیکاٹ بھی کیا ہوا ہے۔

PTI

PTI

2013 کے الیکشن میں پی ٹی آئ نے کراچی سے تقریبا آٹھ لاکھ ووٹ حاصل کئے ۔ مگر بعد میں عمران خان کے گھمنڈ اور تکبرانہ انداز کو دیکھ کر کراچی والے پیچھے ہٹ گئے ۔ این اے 246 کے ضمنی الیکشن میں خان صاحب کراچی آتے ہیں ایم کیو ایم انہیں نائن زیرو پر دعوت دیتی ہے۔ بھابھی کے لئے تحایف دیے جاتے ہیں مگر خان صاحب تو پھر خان صاحب ہیں۔ میں پہلے بھی کئ بار لکھ چکا ہوں کہ میرا ایم کیو ایم سے کوئ دور کا بھی تعلق نہی ہے مگر کراچی سے تعلق کے حوالے سے کراچی والوں کی نبض کو جانتا ہوں۔ ایم کیو ایم کراچی والوں کی امید ہے اور الطاف حسین سے کراچی والے پیار کرتے ہیں۔ این اے 246 کا ضمنی الیکشن اور موجودہ بلدیاتی الیکشن کے بعد ایم کیو ایم کے اوپر سے ٹھپا مافیا اور الیکشن میں دھاندلی کے داغ مٹ چکے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایم کیو ایم کو قومی دھارے میں شامل کیا جانا چاہئے۔

یہ ٹھیک ہے کہ لسانی تقسیم پاکستان کے مفاد میں نہی ہے ۔ مگر کیا اس کی زمہ دار صرف ایم کیو ایم ہے۔ سندھی قوم پرست سندھ کی بات کرتے ہیں ، بلوچ بلوچستان کی بات کرتے ہیں ، پنجاب میں جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ ، خیبر پختون خواہ والے کراچی میں پنجابی پختون اتحاد کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں قومیت اور برادری کے نام پر ووٹ ساری سیاسی جماعتیں مانگتی ہیں مگر لسانیت کا الزام صرف ایم کیو ایم پر غلط ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی ایم کیو ایم کو کام نہی کرنے دیا جائے گا۔ لولے لنگڑے میئر کراچی کے حالات میں تبدیلی نہی لا سکتے۔ اس لئے صوبائ حکومت کا اختیارات کو مساوی طور پر تقسیم کرنا ہو گا۔ ورنہ یہ کراچی والوں کی محرومیوں میں اضافے کا سبب بنے گا۔

Watson Gill

Watson Gill

تحریر: واٹسن سلیم گلِ، ایمسٹرڈیم