محترمہ نجمہ عثمان کو انکی ادبی خدمات پر لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا

Najma Usman

Najma Usman

فرانس (سمن شاہ) 29 مئی 2016 کو یارک شائر ادبی فورم کے پانچویں سالانہ عالمی مشاعرہ کے انعقاد کے موقع پر یارک شائر ادبی فورم کی جانب سے انگلینڈ میں عرصہ دراز سے مقیم معروف افسانہ نگار اور خوبصورت شاعرہ محترمہ نجمہ عثمان صاحبہ کو انکی اردو زبان کے فروغ اور اردو درس وتدریس میں ایک طویل عرصے سے خدمات انجام دینے پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا

محترمہ نجمہ عثمان کی پیدائش علیگڑھ میں ہوئی لکھنے کا سلسلہ کم عمری میں ہی شروع کر دیا تھا جس کا اغاز اسکول میگزین اور بچوں کے رسالے بھائی جان میں لکھنے سے کیا وومن کالج کے اردو میگزین کی ایڈیٹر رہیں بی ایس سی ،ایم ایس سی،کراچی یونیورسٹی سے کیا اور کچھ عرصہ تک سر سید کالج میں پڑھایا

1990 سے 2005 ساؤتھ تھیمیز کالج میں لیکچرار کی حیثیت سے فائز رہیں لندن یونیورسٹی کے امتحانات سے منسلک 2003 تا2012 پرنسپل اور چیف ایگزامز کے عہدے پر اپنی خدمات انجام دیتی رییں

اور اس دوران آپکی بہترین کارکردگی پر بورڈ کی جانب سے EXCELLENCE AWARD دیا گیا
محترمہ نجمہ عثمان افسانہ نگاری ، شاعری کے علاوہ مذاحیہ کالم بھی لکھتی رہیں راوی ، کے لیے، میں بھی دل میں کیوں رکھوں کے عنوان سے نجمہ عثمان کے مذاحیہ کالم شایع ہو چکے ہیں جنہیں بہت سراہا گیا

مقالہ جات میں بھی طبع آزمائی کی اور اے ٹو زیڈ لٹریری ٹرسٹ، 2003 کے پروگرام میں اردو ان بریٹن ، پر سیر حاصل مقالے لکھے اردو زبان سے محبت نے انہیں اردو کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رکھا
Urdu Education In Britain In The Voluntary Sector
Relevance Of Urdu Fiction Since 1980

نجمہ عثمان کے شعری مجموعے
1989 میں شاخ حنا شایع ہوا
1999 میں کڑے موسموں کی ذد پر

2013 میں خیال کی خوشبو اور 2008 میں پیڑ سے بچھڑی شاخ جیسے خوبصورت مجموعے منظر عام پر آئے اور جنہیں ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی نجمہ عثمان کی تخلیقات اوراق، سیپ، رابطہ پاکستان، شاعر ہندوستان، پرواز، ساحل،صدا، ہفتہ واری راوی،انگلستان،مخزن، جیسے مشہور رسالوں میں شایع ہوتے رہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے

علاوہ ازیں نجمہ عثمان کے افسانوں کے تراجم بھی کئے گیے جن میں افسانہ اور عدنان جوان ہو گیا مترجم ڈاکٹر گروپال سنگھ رائے، مجموعہ اُ کھیاں کوڑ ماردیاں افسانہ کلاسٹیمیکشن کا انگریزی ترجمہ مترجم صفیہ صدیقی کتاب کا نام The Golden Cage
ناول سجو کی واپسی کا ہندی اور پنجابی میں ترجمہ مترجم سر جیت جی نیو دہلی
اور نجمہ عثمان کی تخلیقات پر نامور اور مستند شعرا اور ادیبوں کے تبصروں کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی موجود ہے جس کا احاطہ کسی ایک مضمون میں کرنا ممکن نہیں ہے
نجمہ عثمان نے دیار غیر میں اردو کے فروغ اور ترویج کے لئے جو خدمات انجام دیں بلا شبہ خراج عقیدت کی مستحق ہیں

عرصہ دراز سے انجمن ترقی اردو برائے خواتین برطانیہ کے نام سے ایک ادبی تنظیم سے بھی منسلک ہیں اس تنظیم کے زیر اہتمام ہر سال مشاعرے، سیمنار، ادبی نشستیں، کتابوں کی رونمائی جیسی ادبی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اس تنظیم کو ادبی خدمات اور اردو زبان کے فروغ کی کوششوں کے لیے برطانیہ بھر میں ایک مستند تنظیم کی حیثیت سے مانا جاتا ہے

یہ مضمون محترمہ نجمہ عثمان کی ادبی کاوشوں کو بیان کرنے کے لیے نا کافی ہے کہ اس میں ایک عمر صرف ہوئی ہے اور عمر کی اس جدوجہد اس کوشش اور اس خدمت کے لیے لفظ کم پڑ جاتے ہیں بیاں ادھورے رہ جاتے ہیں

ادب کی اس خدمت کے لیے برطانیہ کے ادبی حلقوں میں محترمہ نجمہ عثمان کا نام ہمیشہ عذت و احترام سے لیا جاتا رہے گا اور اردو زبان کی آبیاری کر کہ جو شجر آپ نے لگائے وہ پھل دیتے رہیں گے اور سدا ہرے رہیں گے

پیرس ادبی فورم کی جانب سے بھی لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ ملنے پر نجمہ عثمان صاحبہ کو بہت بہت مبارک باد قبول ہو