میانمار کے انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت دو تہائی اکثریت سے کامیاب

Aung San Suu Kyi

Aung San Suu Kyi

ینگون (جیوڈیسک) نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی اپوزیشن جماعت نے تاریخی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرل ی۔

میانمار میں 25 سال بعد ہونے والے آزادنہ تاریخی انتخابات میں اپوزیشن جماعت نے 80 فیصد سے زائد نشتیں حاصل کرلیں جس کے بعد نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی بلاشریک اقتدار حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئیں۔

یونین الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اب تک 83 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل کی جاچکی ہے جس کے مطابق آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے 348 نشتیں حاصل کر لیں جس کے بعد اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی اور وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 1990 میں ہونے والے انتخابات میں آنگ سان سوچی نے واضح اکثریت حاصل کی تھی تاہم فوج نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہیں گھر میں نظر بند کر دیا تھا اور 20 سال گھر میں قید رہنے کے بعد انہیں 2010 میں آزاد کیا گیا تاہم گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے بعد فوجی حکمراں نے بھی آنگ سان سوچی کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی تھی۔