نیب اور انصاف کا دوگلا نظام

NAB

NAB

تحریر : واٹسن سلیم گل
احتساب کا عمل کسی بھی جمہوری معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے۔ احتساب اور پھر انصاف کا عمل اگر کسی معاشرے میں مضبوط نہ ہو تو وہ معاشرہ تاریخ کے صفحات سے مٹ جاتا ہے ۔ ہمارے معاشرے کی یہ بد قسمتی ہے کہ ہمارے احتساب کا نظام منافقت اور دوگلے پن کا شکار ہے۔ پہلا تو یہ نظام احتساب کو دو گروپوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ یعنی امیر گروپ اور غریب گروپ ۔ یہ ایک گروپ کو تو فوری ، سستا اور مضبوط انصاف فراہم کرتا ہے جبکہ دوسرا گروپ کئ دہائیوں سے انصاف کے اس بوسیدہ نظام کی چکی میں پس رہا ہے مگر حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہی رینگتی۔

قومی احتساب کمیشن کے نظام کا مطلب دراصل ہماری اشرفیا یعنی ہمارے حکمرانوں جن میں سیاسدان اور بیروکریٹس قابل زکر ہیں ان کی کرپشن کو بے نقاب کر کے ان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔ اورغریب کے لئے معاشرے میں چوری، ڈکیتی، بھتہ خوری ، لڑائ جھگڑوں جیسے عام معاملات کے لئے ہر صوبے میں پولیس کا ایک نظام موجود ہے ۔ یعنی ہمارے معاشرے میں احتساب کا نظام امیر اور طاقتور کے لئے الگ ہے اور مزدور اور محنت کش غریب آدمی کے لئے الگ ہے۔ پاکستان میں اس وقت ہر پلیٹفارم پر، گلی محلوں میں، چوراہوں پر نیب کا تزکرہ ہے۔ کیونکہ وزیراعظم نے نیب پر تنقید کی ہے اور نیب کے حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ معصوم لوگوں کو بلا وجہ تنگ نہی کریں۔

سوال یہ ہے کہ یہ معصوم لوگ کون ہیں ؟۔ یہ پاکستان کے عام شہری تو ہیں نہی ۔ بلکہ یہ تو ہمارے آقا ہیں ۔ اور ہمارے آقا ہر الیکشن کے بعد بدلتے ہیں نہی بدلتے تو ہمارے حالات نہی بد لتے ۔ تمام سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد نیب کی تشکیل نو کی گئ۔ اس کے چیرمین کے انتخاب پر بھی حکومت نے اور پیپلزپارٹی نے اتفاق کیا ۔ اس وقت تحریک انصاف اس ادارے کے چیئر مین سے خوش نہی تھے ۔ اب کہتے ہیں کہ ہم نیب کے ساتھ ہیں۔ نیب کے چیئرمین کا عہدہ بھی ایک آئنی عہدہ ہے ۔ خود وزیراعظم بھی اسے تبدیل کرنے کا اختیار نہی رکھتے گو کہ اس نیب کے پرورش چارٹر آف ڈیموکریسی جیسے مہایدے کے گود میں ہوئ۔ نیب میں بھی فرشتے نہی ہیں ۔ وہ بھی ہمارے معشرے کا ایک حصہ ہیں۔ یہ بھی احتساب صرف اپوزیشن کے سیاستدانوں کا کرتے ہیں۔ یہ نہ تو حاضر سروس ججوں کی طرف ہاتھ بڑھانے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی جنرلوں کے اکاؤنٹ چیک کرنے کی جرات کرتے ہیں۔

PPP

PPP

سندھ میں جب نیب والے پیپلزپارٹی کی حکومت پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو وفاقی حکومت کی داد سمیٹتے ہیں۔ مگر جب یہ نیب حکومتی بیوروکریسی سے سوال جواب کرتے ہیں تو وفاقی حکومت ناراض ہو جاتی ہے۔ ابھی نیب نے اورنج لائن ٹرین اور لاہور میٹرو پروجیکٹ میں ہونی والی کرپشن کے خلاف کاروائ کا صرف سوچا ہی تھا تو حکومت نے نیب کے طبیت صاف کر دی ۔ نیب جانتی ہے کہ اکیلی حکومت شائد نیب کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ مگر پیپلز پارٹی والے جو پہلے ہی سے نیب سے تنگ ہیں اور خیبر پختون خواہ کے احتسابی کمیشن کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل حامد خان کے استفعے نے بھی تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ یہ سب سیاسی پارٹیاں مل کر نیب کو آزاد اور شفاف کام نہی کرنے دیں گی۔ ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ نیب کے اوپر ایک اور نیب بنائ جا رہی ہے جس کا سربراہ ہائ کورٹ کا سابق چیف جسٹس ہوگا۔ مجھے سمجھ نہی آتا کہ ہمارے ملک میں غریب آدمی بے انصافی کے اس نظام میں کئ دہائیوں سے پس رہا ہے۔

مگر ہماری حکومتیں خاموش رہتی ہیں۔ پولیس کسی بھی غریب آدمی کو محض شک کی بنیاد پر اٹھا لیتی ہے ۔ اور تو اور ملزم کے بہن ،بھائ ،ماں باپ تک کو مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی کے خلاف مقدمہ پہلے درج ہوتا ہے اور تفتیش بعد میں ہوتی ہے۔ ہماری جیلوں میں ہزاروں قیدی ایسے ہیں جن کی سزا مکمل ہو چکی ہے مگر ناقص انتظامی قوانین اور کہیں جرمانے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ غریب ٹھیلے والے سے پولیس مزدوری کرنے کا ٹیکس بھتے کی صورت میں لیتی ہے۔ غریب آدمی کو اپنے مقدمات میں 20 ، 30 سال لگ جاتے ہیں اور تب بھی فیصلے نہی ہوتے۔ ہمارے حکومتی نمایندے روز ٹی وی پروگرامز میں یہ اقرار کرتے ہیں کہ ہماری پولیس کرپٹ ترین پولیس ہے۔

مگر یہ حکومت اس نظام کو ٹھیک کرنے کے لئے نہ تو کوئ قانون سازی کرتی ہے نہ ہی کوئ نیا نظام وضع کرتی ہے۔ آج ہی کی خبر ہے کہ ملتان میں ایکسائز والوں نے ایک گھر کو سیل کر دیا کہ انہوں نے ٹیکس نہی دیا۔ یہ گھر ماں اور بیٹی کی تین تین مرلے کی مشترکہ جائداد ہے ۔جو ٹیکس کے زمرے میں نہی آتی ۔ اور جو حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں جن کے پاس ملک کے خزانے کی کُنجیاں ہیں ان پر اگر کوئ الزام لگے تو پہلے قومی اسمبلی اور سینٹ کے اسپیکرز سے اجازت لے کر ثبوت دکھا کر پھر کاروائ کی جائے ۔ اگر سیاستدانوں اور بیوروکریٹ قانون کے شکنجے میں ہوتے ہیں تو تمام سیاسی پارٹیاں مل کر ان قوانین میں ترمیم کے لئے یکجا ہو جاتی ہیں۔ وزیروں مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کی بات ہو تو اپوزیشن والے بھی کوئ مُزمتی قرارداد نہی لاتے ۔ مگر غریب کے لئے پولیس کے نظام کی اصلاح۔

Watson Gill

Watson Gill

تحریر : واٹسن سلیم گل