بلا تحقیق خبر معاشرے میں انتشار

AL-HUJURAT

AL-HUJURAT

تحریر۔ سمن شاہ (فرانس)

اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔ AL-HUJURAT (THE ROOMS) – سورة الحجرات – 6

اس آیت سے مراد یہ ہے اگر خبر کسی معاشرتی، اخلاقی، مذہبی یا کسی اور پہلو سے اہمیت کی حامل ہے اور اس کی اشاعت سے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں اور اس کی خبر بتانے والا کوئی شریعت کی حدود و قیود سے لاپرواہ کوئی غیر سنجیدہ شخص ہے تو اس خبر کی اشاعت سے قبل اس کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔

بلا تحقیق بات پھیلانے سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان معاشرے کو افواہوں اور انتشار سے بچایا جائے (پروفیسر محمد عقیل کے ایک کالم سے ماخوذ)

یہ تو صرف ایک مثال ہے ایسے کئی احکامات، احادیث، کہاوتیں ، اور اقوال زریں ہیں جن کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔۔۔

لیکن آج دنیا بھر کا میڈیا، نام نہاد صحافی، کالم نگار، ادیب، خود ساختہ دانشور۔۔ جھوٹ، فریب، ریاکاری کی خبروں کا بازار گرم کئے اپنی اپنی دکانیں چمکائے دنیا کو تباہ و برباد کرتے جا رہے ہیں، لیکن اس بات سے خود بے خبر ہیں جب وہ جو ہر خبر سے با خبر ہے۔۔۔
ان معاشروں، بستیوں، ملکوں، اور گھروں میں جھوٹی خبریں پھیلا کر انتشار پیدا کرکے جھوٹی شہرت کمانے والوں پر ذلت کا عذاب نازل کرئے گا تب نجات کی کوئی راہ نہ ملے گی۔

یوں تو اس طرح کی خبریں اور کالم نظر سے گذرتے رہتے ہیں جو سراسر خودنمائی پر مبنی حصول شہرت کی تمنا میں لکھے ہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنی ذات کو ابھارنے کے لیے لکھے جاتے ہیں اور معاشرے پر اثر انداز نہیں ہوتے اس لیے ان پر بات بھی کرنا وقت کا زیاں ہوتا ہے۔۔۔

لیکن میں یہاں ایک ایسے کالم کا ذکر کروں گی جو سراسر جھوٹ پر مبنی اور بلا تحقیق لکھا گیا ایک ایسا کالم ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہوگی۔

یہ کالم ایک مقامی ویب سائٹ پر جنگ گلوبل ویلج کے نام سے پبلش ہوا ہے اور اس کالم کا لنک یہاں موجود ہے
http://www.yesurdu.com/?p=914189

گزشتہ روز لاہور میں ہونے والی تاریخی ظلمت، قیامت کی تباہی، اور خونی سانحہ پر ہر پاکستانی افسردہ اور اشکبار نظر آیا۔ وطن عذیذ ایک سانحہ سے سنبھلتا نہیں کہ ایک اور قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ اور ایسے موقعوں پر ہم سب ایک دوسرے کو فون کر کے، اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اپنے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔

اسی ضمن میں فیس بک پر کچھ دوستوں نے پیرس سیمبل ایفل ٹاور کی وہ تصویر شئیر کی جو پاک وطن کے جھنڈے کے رنگوں سے سجی تھی۔۔۔

سچ بات تو یہ ہے کہ ایک لمحہ بہت اچھا لگا لیکن دوسرے ہی لمحے گمان پیدا ہوا کہ یہ ممکن نہیں پاکستان میں ہونے والا کوئی یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل اس سے بھی ذیادہ خونی اور قیامت خیز سانحے ہو چکے ہیں۔ تب فرانس نے کبھی اظہار یک جہتی نہیں دکھائی تو اب کیا دکھائیں گے۔۔۔ اس کی تحقیق ہونی چاہئے۔۔۔

Tour Eiffel - Green

Tour Eiffel – Green

کچھ فرنچ اخبارات، نجی ٹی وی چینل اور فرنچ نیوز ویب سائٹ کھنگالنے کے بعد ہمیں یہ لنک مل گیا۔ جس میں واضح طور پر پیرس کی میئری سے ایک بیان نشر کیا گیا کہ ایفل ٹاور پر پاکستانی جھنڈا روشن نہیں کیا جائے گا۔۔۔

یہ بیان انتہائی تکلیف دہ اور بے حسی پر مبنی محسوس ہوا لیکن حیرت بالکل نہیں ہوئی۔۔۔ کیونکہ اللہ کے فرمان اور قران کی شہادت پر ایمان رکھتے ہیں جس میں بارہا لکھا گیا کہ یہود و نصار تمارے دوست نہیں ہو سکتے۔۔۔

جیسے ہی ہمیں یہ لنک موصول ہوا ہم نے فوری طور پر اسے فیس بک پر دوستو کے ساتھ شئیر کر دیا تانکہ لوگ اسکی حقیقت بھی جان جائیں اور اس کی تشہیر کر کہ اپنا تمسخر نہ اڑائیں۔

لیکن جب دماغ پر شہرت کا بھوت سوار ہو جب کالم نگاری میں پہلا نمبر پانے کی خواہش میں اندھا دھند لکھنے کا نشہ ہو تب تحقیق کر کہ وقت کون ضایع کرتا ہے۔ سو ان کالم نگار خاتون نے بھی تحقیق کی زحمت نہ کرتے ہوئے جھٹ کالم لکھ مارا جس میں فرانس کی یک جہتی کا ذکر اور فرانس کی اس ہمدردی کو فخریہ بیان کیا گیا جس کا کوئی وجود نہیں تھا۔

اس پر طرہ اس جھوٹی اور بلا تحقیق خبر اور فرانس کی پاکستان سے یک جہتی کا تمام تر سہرا فرانس میں پاکستان کے سفیر غالب اقبال کے سر باندھ دیا گیا۔۔۔

کالم میں سفیر پاکستان کی شان میں قصیدہ خوانی اور انکے پاکستان فرانس رابطوں کے لیے کی گئی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ جو آج ایفل ٹاور پر پاکستانی جھنڈا روشن ہے یہ صرف غالب اقبال کی محبتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

سفیر پاکستان غالب اقبال کے بارے میں پاکستانی کمونیٹی ایک اچھی رائے رکھتی ہے وہ پہلے سفیر ہیں، جو پیرس میں ہونے والی ہر تقریب میں شریک ہوئے۔۔۔

سفیر پاکستان بھی خود نمائی کے انتہائی شوقین دکھتے ہیں اس کا اندازہ انکی کی آئے دن کی پارٹیوں اور مختلف نوعیت کے فنکشنز میں بنوائی گئی تصاویر سے بخوبی ہوتا ہے۔ میرے خیال میں آج تک جتنے بھی سفیر فرانس متعین ہوئے ان میں سب سے زیادہ تصویر کشی غالب اقبال صاحب کی ہے۔

ہمارے سادہ لوح اور محب وطن پاکستانی بس اسی میں خوش ہوگئے کہ وہ سفیر پاکستان کے ساتھ جب چاہیں تصویر بنا سکتے ہیں (گھر کی مرغی دال برابر سمجھ کر) اور بس اسی کو غالب اقبال کی کارکردگی بھی سمجھ بیٹھے۔

یہاں ایک اور بات کا اضافہ کرنا اس لیے ضروری ہے تانکہ غالب اقبال صاحب اپنی غلطیوں پر غور کرتے ہوئے یہاں سے جائیں۔

کچھ عرصہ پہلے ہم نے شاعر اور معروف دانشور ڈاکٹر تقی عابدی صاحب کی کتاب (فیض فہمی) کی تقریبِ رونمائی کے سلسلے میں سفیر پاکستان کو دعوت دینے کے لیے رابطہ کیا۔

ہم سے جناب تقی عابدی صاحب کے بارے میں سوال و جواب کیے گئے اور جب پتا چلا کہ یہ تقی عابدی صاحب بھارت سے تعلق رکھتے ہیں تو سفیر پاکستان نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ کسی بھارتی کو پروٹوکول نہیں دے سکتے یہ ملکی پالیسی کے خلاف ہے اور انہوں نے تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی۔۔۔

بات معقول تھی سو سمجھ میں آگئی۔

لیکن پھر کچھ دن پہلے اسی کالم نگار محترمہ کے پروگرام میں یہی بھارتی دانشور اور سفیر پاکستان کی شرکت نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا
سفیر پاکستان کے قول و فعل کے اس تضاد نے ہمارے دل میں انکے لیے شدید تاسف پیدا کر دیا۔

ایسے حالات جب کچھ عرصہ پہلے خورشید قصوری کی کتاب کے منتظم کے منہ پر کالک کا شرمناک واقعہ، شیوسینا کی آئے دن ہمارے فنکاروں کے پروگرامز کینسل کر کے ہتک کرنا اور اس جیسے کئی واقعات کے بعد سفیر پاکستان کا ایسی تقریب میں شرکت کرنا چہ معنی وارد۔۔۔ ہمارے پروگرام کے لیے تو ملکی پالیسی کا بہانہ کیا گیا لیکن یہاں تو نہ صرف تقریب میں شرکت بھی کی گئی اور خوب تصاویر بھی بنوا کر خوب اشتہار بھی لگائے گئے۔

ہمیں احساس ہو رہا ہے اگر ہم بھی سفیر پاکستان کے لیے ثنا خوانی سے بھرے کالم لکھ دیتے تو۔۔۔ وہ یقیناًہمارے پروگرام میں ضرور آتے۔۔۔ خیر ہم نے حوصلہ نہ ہارتے ہوئے گزشتہ سال اپنی تنظیم پیرس ادبی فورم کے زیر اہتمام ایک عالمی مشاعرے کے لیے دوبارہ دعوت دی مشاعرہ اتوار کے دن منعقد کیا گیا تھا۔۔۔

ہمیں ایک مضحکہ خیز جواب دیا گیا کہ سفیر پاکستان ایک آفیشل میٹنگ میں مصروف ہونگے اور یہ اطلاعات ہمیں عمار امین صاحب نے فراہم کیں۔

اب اتوار کے دن۔۔۔۔۔ آفیشل میٹنگ
سن کر یہی سوچا ہائے اس سادگی پہ کون نہ مر جائے۔۔۔ لیکن یہ کہانی
ہمارے سر سے گزر گئی اور غالب اقبال صاحب کے لیے ایک انتہائی منفی تاثر دل ودماغ پر چھوڑ گئی۔

پھر بلا تحقیق ایک اور واقعہ جو سفیر پاکستان کے کھاتے میں لکھا جائے گا۔

کچھ عرصہ پہلے غالب اقبال صاحب نے ایک اکیڈمی کے پروگرام میں شرکت فرمائی اور ہمیں پتا چلا کہ انہوں نے بنا تحقیق کیے، اکیڈمی کی کارکردگی کے بارے میں کوئی معلومات لیے بغیر، اکیڈمی کے کرتا دھرتا نام نہاد مالک کے بارے میں کوئی جانکاری کیے بغیر دو ہزار یورو دینے کا اعلان کر دیا۔۔۔

سفیر پاکستان کی کارکردگی میں انکی یہ غیر ذمہ دارانہ، بلا تحقیق فنڈ کے اعلانات، اور جعلی لوگوں کے بارے میں چھان بین کیے بغیر روابط بڑھانا آج انکے منصب، عہدے، اور قابلیت پر انگلی اٹھا رہا ہے انکے یہ اقدامات پاکستان اور فرانس میں پاکستان سفارت خانے میں انکی اہلیت کی سراسر نفی کر رہے ہیں۔۔۔ پیرس میں ایک تعلیم یافتہ طبقہ بھی موجود ہے جو ان تمام حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس طبقے میں غالب اقبال کوئی اچھا اور مثبت تاثر نہیں چھوڑ کر جا رہے۔۔۔

ہمارا یہ کالم صرف ایک اصلاحی تنقید ہے اور ذاتیات سے بالا تر ہے۔۔۔ امید ہے سفیر پاکستان ایک جائزہ اپنی کار کردگی پر ضرور ڈالیں گے اس سے پہلے کہ ہمارے سادہ لوح پاکستانی اس خبر کو سچ مان کر ہار لیے آپ کو یہ کارنامہ سر انجام دینے کی خوشی میں کوئی تاج پہنانے آجایں بہتر ہوگا۔ اس جھوٹی خبر اور تمسخرانہ کالم جس میں ایفل ٹاور پر پاکستانی جھنڈے کے رنگنے کے کارنامے کو آپکے ساتھ منسوب کر کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی جو توہین کی گئی اسکا سختی سے نوٹس لے کر اس کی تردید اور مذمت کریں گے۔

پیسے کی فراوانی بھی کسی فتنے سے کم نہیں خاص طور پر جب یہ جاہلوں کے پاس آجائے شہرت کی ہوس اور آئے دن نت نئی ویب سائٹس نے معاشرے میں جھوٹ کا وہ ناسور پیدا کر دیا ہے جو ساری قوم کو بیمار کر رہا ہے۔ ایسی تمام ویب سائٹس کی بھی شدید مذمت ہونی چاہیے جو قلم کی حرمت کو تار تار کرتے ہیں۔

تحریر۔ سمن شاہ (فرانس)

Suman Shah

Suman Shah