شمسہ بلغاریہ کی روما کمیونٹی میں اپنے بچوں کو فروخت کرنے کی شرح میں اضافہ

Children Sale

Children Sale

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) شمسہ بلغاریہ کی روما کمیونٹی میں اپنے بچوں کو فروخت کرنے کی شرح میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ غربت اور لاچاری کے شکار والدین بے بسی کے عالم میں اپنے شیرخواروں کو بیچنے پر مجبور ہیں۔

خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ بلغاریہ میں آباد روما کمیونٹی کی طرف سے اپنے بچوں کو فروخت کرنے کی کہانی اگرچہ پرانی ہے لیکن گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران اب یہ ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے غریب گھرانے انسانوں کے سمگلروں کی مدد سے اپنے نومولود بچوں کو یونان میں بیچ دیتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ یونان میں بچوں کو گود لینے کے حوالے سے بنائے گئے قوانین اب بھی کافی نرم ہیں۔آلینانہ بھی روما کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی ہی ماں ہے، جو اپنے تین بچوں کو فروخت کر چکی ہے۔ وہ حاملہ حالت میں یونان گئی اور جب واپس آئی تو اس نے لوگوں کو بتایا کہ زچگی کے دوران ہی اس کا بچہ مر گیا تھا۔ معاشرے میں خود کو احساس جرم سے بچانے کی خاطر اس نے یہ کہانی گھڑی تھی۔ بلغاریہ کے کئی علاقوں میں آباد روما مائیں اپنے بچوں کو بیچ رہی ہیں۔

سن 2015 میں بلغاریہ کے علاقے برگاس کے استغاثہ نے اکتیس حاملہ خواتین کے خلاف ستائیس کیسوں کی تحقیقات کی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق یہ خواتین مبینہ طور پر 33 بچے فروخت کر چکی ہیں۔ یہ تمام خواتین بچہ پیدا کرنے کے لیے یونان کا سفر اختیار کرتی رہیں اور واپسی پر ان کا کہنا ہوتا کہ بچے زچگی کے دوران ہی مر گئے۔ ایک اندازے کے مطابق روما کمیونٹی کے ستانوے فیصد مقامی لوگ ناخواندہ ہیں۔ یہ انتہائی پسماندگی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

مقامی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ لوگ غربت سے وقتی طور پر چھٹکارہ حاصل کرنے کی خاطر اپنے ہی شیر خواروں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ برگاس کے دفتر استغاثہ سے وابستہ مقامی اہلکار ایوان کرکوف نے بتایا کہ ان کیسوں کی تحقیقات آسان کام نہیں ہے کیونکہ یہ خواتین حکومت سے تعاون کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ تعاون نہیں کرتے تو انسانوں کے اسمگلروں کو گرفتار کرنے میں مشکلات پیش آتی رہیں گی۔

ایک اندازے کے مطابق ایک خاتون کو اپنا بچہ دو ہزار تا چار ہزار ڈالر میں فروخت کرتی ہے۔ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بلغاریہ میں ایسی خواتین کو قانون کے کٹہرے میں لانا مشکل ہے۔ برگاس میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران صرف سولہ افراد کو اس بہیمانہ جرم کے ثابت ہونے کے بعد سزا سنائی جا سکی ہے۔