22 اکتوبر 1947 ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ ڈاکٹر مسفر حسن

Dr Misfar

Dr Misfar

برنلے (ڈاکٹر مسفر) 22 اکتوبر 1947 ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اس روز جموں کشمیر کی آزادی پر قبائیلیوں کی دراندازی نے شب خون مارکر ایک پرامن سیاسی تحریک کو ایک مسلح تصادم میں تبدیل کر دیا محمد علی جناح نے کشمیر پالیسی سے انحراف نے نہ صرف پاکستان کا جغرافیہ تبدیل کر دیا بلکہ کشمیر پر پاکستانی حکمرانوں کی ناقص اور غلط پالیسیوں نے دنیا کی ایک تہائی آبادی کو غربت اور افلاس کی زندگی گذارنے پر مجبور کر دیا ہے پاکستان کے حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو کشمیری قوم اپنی آزادی کیلئے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گی ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر مسفر حسن صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ برطانیہ نے ایک بیان میں کیا۔

ڈاکٹر مسفر حسن نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ریاست کے عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے جسے پرامن سیاسی عمل کے ذریعہ حل ہونا تھا لیکن 22 اکتوبر 1947 کو ایک بین الاقوامی سازش کے تحت صوبہ سرحد کے قبائیلیوں کو لوٹ مار کی خاطر اور لالچ دے کر ریاست میں داخل کیا گیا انکی لوٹ مار اور قتل و غارت کو جواز بنا کر بھارتی حکومت نے کشمیر میں اپنی فوج داخل کی اور آج 70 سال گذارنے کے باوجود یہ قتل و غارت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد علی جناح نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ 12اگست 47 کو معاہدہ جوں کا توں کر کے کشمیریوں کی الگ شناخت اور تشخص کو تسلیم کرلیا تھا جسے بھارتی حکمرانوں اس وقت تسلیم نہیں کیا تھا۔

لیکن پاکستان کے اندر بیٹھے غیر ملکی آقائوں کے غلام نے محمد علی کی پالیسی کے برعکس ریاست جموں کشمیر میں قبائیلیوںکہا جس کے بعد ایک ایسے تصادم کا آغاز ہوا جو آج حکومت پاکستان کی ناقص حکمت عملی کے باعث خطے اور دنیا کے امن کو تباہ کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے 1962 میں کشمیر کی آزادی کا انتہائی سنہرا موقع گوا دیا جبکہ ستمبر 1965 کی جنگ ایک بار پھر ناقص حکمت علی کے باعث رونما ہوئی ، جبکہ انہی غلط پالیسیوں کے باعث 1971 میں قائد اعظم کے پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی شکست کے بعد اداروں اور حکمرانوں نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور 1977 میں ایک منتخب حکمت کا تحتہ الٹ کر آئین کو ختم کرکے ایک منتخب وزیراعظم کو تختہ دار پر غیر قانونی طور پر لٹکا کر اور افغانستان کے اندر ونی معاملات میں براہ راست مداخلت کر کے پاکستان کے ایک پر امن معاسرے کو پیروئن فروشی ، اسلحہ کی بھرمار اور دہشت گردی کی ایک دلدل میں دھکیل دی گیا جس سے پاکستان کا ہر شہری پریشان اور دلبرداشتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1990 میں کشمیر میں شروع ہونے والی عوامی جدوجہد کو بھی ایسی ہی غلط پالیسیوں کا شکار بنا کر ایک جائز جدوجہد کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا گیا ہے جہاں نہ صرف کشمیریوں کی تحریک آزادی انتہائی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے بلکہ خود حکومت پاکستان عالمی سطح پر مکمل تنہائی کا شکار ہو گیا لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے ذمہ دار آج بھی حقائق تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے وادی کشمیر کے عوام انتہائی مشکلات کا شکار ہیں لیکن کشمیریوں کا وکیل انکی داد رسی کرنے کی بجائے جلتی پت تیل ڈالنے کے کام میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا مذہبی انتہا پسند جنہیں بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے انکی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں موجودگی سے کشمیری عوام کی جدوجہد کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے جبکہ گزشتہ چند ہفتوں سے برطانیہ میں پاکستان کے نمائندے اور حمایت یافتہ سیاست دان کشمیر پر زور و شور سے اراکین پارلیمنٹ کو مسلئے پر غلیظ معلومات دے کر کنفیوژن پیدا کرنے کی سازش میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا ریاست جموں کشمیر کے مصیبت زدہ عوام ان حالات سے مایوس اور دلبرداشتہ ہیں اور اگر پاکستان کے حکمرانوں نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو پھر ریاست کے عوام اپنی آزادی کے اور حق خودارادیت کے حصول کیلئے متبادل راستے اختیار کرنے میں حق بجانب ہونگے انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے کارندوں کو ایک بات بخوبی جان لینی چاہئے کہ ریاستی عوام نہ تو ریاست کو تقسیم ہونے دیں گے اور نہ ہی کوئی ایسا فیصلہ تسلیم کریں گے جو انکی مرضی اور منشا کے خلاف ہو گا۔