پاکستانی عوام اور ہماری جمہوریت

Democracy

Democracy

تحریر : واٹسن سلیم گل، ایمسٹرڈیم
پاکستان میں جمہوریت کی عمر آمریت کی عمر سے چھوٹی رہی ہے۔ جمہوری حکومت ہو یا جمہوری سوچ میرا مطلب دونوں سے ہے۔ گزشتہ حکومت نے ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام کی تاریخ میں پہلی بار اپنے پانچ سال مکمل کر کے نظام دوسری جمہوری حکومت کے حوالے کیا۔ عوام یہ سوچ رہے تھے کہ ہم اب جمہوری نظام میں خود کفیل ہو چکے ہیں مگر یہ بچارے عوام تو عوام ہیں ارے مگر یہ عوام بچارے کہاں سے ہیں ،یہ بھی تو اس عجیب و غریب نظام کی تعمیر میں برابر کے حصے دار ہیں۔

یہ عوام مشرف کے آنے پر مٹھایاں بانٹتے ہیں پھر یہ ہی عوام مشرف کا تختہ الٹنے کے لیے جمہوری طاقتوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ پیپزپارٹی کی حکومت میں کرپشن ، بجلی پانی اور گیس کی لوڈ شیڈینگ اور مہنگائ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اورووٹ دے کر نواز شریف کو حکومت دیتے ہیں اور ہھر جلد ہی نواز حکومت سے بیزار ہوکر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔

Votes

Votes

ابھی پیپلزپاٹی کی حکومت کے خلاف ووٹ دے کر انہی وفاقی حکومت سے چلتا کرنے کی باتیں پرانی بھی نہی ہویں کہ پھر اسی پیپلزپارٹی کے سندھ میں کامیاب جلسے اسی عوام کی مرہون منت ہیں ۔ جلسہ جماعت اسلامی کا ہو یا ایم کیو ایم یا پھر عمران خان کا اسی عوام کا ٹھاٹھے مارتا سمندر موجود ہوتا ہے۔

ہر پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ عوام ہمارے ساتھ ہے مگر ہماری عوام ہے کہ صاف چھپتی بھی نہی سامنے آتی بھی نہی ۔ اب یہ عوام اسلام آباد میں عمران کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہے اور خان صاحب یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ عوام ان کی سگی ہے مگر ان کو شاید یہ معلوم نہی ہے کہ اگر وہ اسی عوام کے بل بوتے پر حکومت گرانے میں کامیاب ہو بھی گئے تو ان کی اپنی حکومت کو گرانے کے لیے کوئ عوام امریکا یا کینڈا سے نہی آئے گی بلکہ یہ وہی عوام ہوگی جو خان صاحب کے ساتھ تھی پاکستان دنیا کا شاید آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے مگر دنیا کو شاید اس بات کا ادراک نہی ہے کیونکہ اٹھارہ کروڑ عوام خان صاحب کے ساتھ ہیں اور اتنے ہی نوازشریف کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہیں تو یہ تو ہوگئے چھتیس کروڑ باقی پیپزپارٹی اور دیگر جماعتوں کےعوام گن لیں ۔ اس وقت ہمارا جمہوری نظام ایک بار پھرخطرے میں ہے اور زمہ دار ہماری سیاسی جماعتیں ہیں۔

عمران خان اس بار جو غلطی کرنے جارہے ہیں شاید بعد میں ان کو اپنی غلطی سدھارنے کا موقع بھی نہ ملے ۔ خبریں یہ ہیں کہ اس بار ان کے دھرنے میں لال مسجد والوں سمیت ایسے بہت سے لوگ بہت بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں جو کسی کے بھی کنٹرول میں نہی ہیں ۔ اور یہ عناصر جس موقع کی تلاش میں ہیں، خان صاحب نے ان کو فراہم کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عمران خان وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر بعد میں کیا ہو گا اس کا شاید ان کو بھی علم نہی ہے اب اگر خان صاحب اسلام آباد بند کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کتنے دن تک بند ہوگا اور اگر خدانہ خواسطہ دھرنے میں موجود کچھ شرپسندوں نے کوئ شرارت کردی تو اس کا نقصان پاکستان کو ہوگا کیوں کہ اسلام آباد صرف دارالحکومت ہی نہی بلکہ تمام دنیا کے سفارتخانے اور مشنز یہاں موجود ہیں۔

Sit

Sit

حالات خراب ہوئے تو پولیس کے کنٹرول میں کچھ نہی ہوگا۔ فوج ہی واحد ادارہ ہے جو اسے سمبھال سکتا ہے مگر کیا پھر جمہوریت کی گاڑی اپنی پٹری پر چل سکے گی اس کا جواب ہم سب کو معلوم ہے۔ فوج اس وقت ضرب عصب کے آخری مراحل کی تکمیل میں مصروف ہے۔ ہمارے دو پڑوسیوں سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ بھارت سفارتی حوالوں سے ہمارے خلاف جھوٹا پروپگینڈہ کر رہا ہے۔ اور اس کے جواب دینے کے بجائے ہم اپنے اندرونی انتشار کو سمیٹنے کے بجائے مضید بگاڑ رہے ہیں۔ اس بار پیپلزپارٹی والے بھی جلتی آگ پر ہاتھ سیک رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کا رویہ تو ویسے ہی ہر حکومتی جماعت کے خلاف ہوتا ہے۔ وہ تو الیکشن کے دوسرے ہی دن نئے الیکشن کا شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایم کیو ایم اب کونسی ایم کیو ایم ہے اس وقت اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ اگر اس بار جمہوریت کی چادر لپیٹی گئ تو اس کی زمہ دار ہماری جمہوری سیاسی پارٹیاں ہونگی۔ عوام ایک بار پھر غیر جمہوری حکومت کے آنے پر مٹھایاں بانٹے گے۔ خوشیاں منایں گے۔

ہماری عوام جب تک سنجیدگی کے ساتھ اپنے ووٹ کا استمال نہی کرے گی اور محض اپنے پسندیدہ لیڈرز کو بغیر سوچے سمجھے ووٹ دے گی چاہے وہ لیڈر چور ہی کیوں نہ ہو تو یہ سلسلہ ایسے ہی چلے گا۔ زرداری کی مثال لے لیں کہ دوسری سیاسی جماعتیں ، میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ اپنا بھرپور زور لگا کر بھی زرداری کی محبت کو پیپلزپارٹی کے ووٹرز کے دل سے نہی نکال سکی۔

روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ اب نئ پیکینگ کے ساتھ بلاول بھٹو نے عوام کو دینا شروع کر دیا ہے اور عوام اس پرانے نعرے کو بھول کر اس کی نئ پکینگ سے ہی خوش ہو گئے ہیں۔ کراچی کی عوام بھی ایم کیو ایم کو نہی چھوڑے گی چاہے کچھ بھی جائے اسی لئے تو کہتے ہیں کہ یہ جو پبلک ہے یہ سب جانتی ہے۔

Watson Gill

Watson Gill

تحریر : واٹسن سلیم گل،ایمسٹرڈیم