پاکستانی خاتون، 3 بچوں سمیت۔ سپین پہنچنے کیلئے مہاجرین کمیپ یونان پہنچ گئی

Refugee Camp

Refugee Camp

پیرس (زاہد مصطفی اعوان سے) اسلام آباد کی رہائشی 32 سالہ خاوند کے ظلم و ستم سے بھاگی ہوئی خاتون افغانستان، ایران اور ترکی کے رستہ یونان پہنچ گئی ہے۔

خاتون کے مطابق، اس کا خاوند اس پر ظلم کرتا تھا۔ جس کی نشانی اس کے سینہ پر خاوند کی جانب سے بھجائے گئے سگریٹوں کے نشانات ہیں۔ خاتون کی منزل میڈریڈ ہے۔ جہاں اس کے بقول اس کے خاندان کے افراد مقیم ہیں۔ جو کہ، اس کو سنبھال لیں گے۔ اتنا طویل سفر طے کرنے کے باوجود خاتون سپین پہنچنے کیلئے پر اعتماد نہیں ہے۔ خاتون کو اسلام آباد سے نکلے 4 ماہ ہو چکے ہیں۔ خاتون کے ساتھ اس کے تین بچے بھی ہیں۔ سات سالہ علین۔ پانچ سالہ حذیفہ۔ اور دو سالہ اواسن جبکہ خاتون کچھ ہی دنوں میں چوتھے بچے کو جنم دینے والی ہے۔ خاتون کے مطابق، اس کی زندگی بالکل ٹھیک تھی۔

لیکن تیسرے بچے کی ولادت کے بعد میرے خاوند نے دوسری شادی کرلی۔ اور اس کا رویہ میرے ساتھ مکمل تبدیل ہوگیا۔ اور مار پیٹ ایک معمول بن گیا۔ خاتون کے مطابق، اس کے خاندان میں کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ اور اب اس کی خواہش میڈریڈ پہنچنے کی ہے۔ جہاں ایک فیملی ممبر اس کی دیکھ بھال کیلئےتیار ہے۔ خاتون کے مطابق، گھر سے نکلنے کے بعد وہ مختلف ایجنٹوں کے ذریعہ بذریعہ افغانستان۔ ایران ۔ترکی پہنچ گئیں۔ اور بالاخر ترکی میں موجود ایجنٹوں کے ذریعہ 400 یورو فی فرد ادا کرکے اپنے تین بچوں کے ہمراہ یونانی جزیرہ لیزبوس پہنچ گئیں۔ لیزبوس پہنچنے کے بعد خاتون کو اقوام متحدہ کی مہاجرین آرگنائزیشن کی بس کےذریعہ موریا کے مہاجرین کیمپ میں پہنچایا گیا۔ اس کیمپ میں رجسٹریشن کروانے کے بعد خاتون فیری یا ٹرین کی ٹکٹ خریدنے کے قابل ہوگئی۔ جس کے بعد خاتون کی اگلی منزل ایتھنز تھی۔

جہاں وہ چاہتی تھی کہ اپنے بیٹی کو جنم دے۔ خاتون کو ایتھنز کیلئے فیری میں سوار کروانے تک پلار۔ نوریا۔ اورکو۔ البیرا۔ خولیو نامی سپینش رضاکاروں نے اس کی مکمل مدد کی۔ جنکی بدولت خاتون کی کہانی دنیا کے سامنے آسکی۔ ایتھنز میں خاتون کو ایک فلیٹ میں رکھا گیا ہے۔ جہاں وہ بچی کو جنم دینے تک مقیم رہے گی۔ ایتھنز آنے سے قبل خاتون، دو ماہ مہاجرین کے ایک کیمپ میں بھی مقیم رہی تھی۔ اب اقوام متحدہ کا مہاجرین کی دیکھ بھال کرنے والا ادارہ، خاتون کے کیس کو خصوصی طور پر دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ ادارہ کو خدشہ ہے کہ۔ اگر خاتون کو پاکستان ڈیپورٹ کیا گیا ۔ تو وہ جان سے جا سکتی ہے۔