پیرس : پاکستان کے 69 ویں جشن آزادی کا پاکستان عوامی تحریک فرانس کے زیرانتظام “پیرس میں اہتمام

PAT France

PAT France

پیرس (اے کے راؤ) پاکستان کے 69 ویں جشن آزادی کا” پاکستان عوامی تحریک فرانس کے زیر انتظام “پیرس میں اہتمام کیا گیا . حاجی محمد اسلم کی صدارت میں ہوئے اس پروگرام کے مہمان خصوصی سابق صدر پریس کلب کھاریاں نصراللہ چوہدری ایڈوکیٹ تھے. سابق ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن شیخ زاہد فیاض ،سفیر عالم تحریک منہاج القرآن علامہ حافظ نزیر اور صدر منہاج القرآن فرانس چوہدری محمد اعظم نے خصوصی شرکت فرمائی۔

قاری محمد صدیق کی تلاوت سے شروع ہونے والے اس پروگرام کی نقابت کے فرائض پاکستان عوامی تحریک فرانس کے نوء منتخب جنرل سیکریٹری قاری طاہر عباس گورائیہ نے کی. سینئیر نائب صدر محمد نعیم چوہدری نے ابتدائیہ پیش کیا۔

راؤ‎ خلیل احمد نے پاکستان کی آزادی اور سالمیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل کی روشنی میں حقیقی آزادی کے حصول میں رکاوٹوں پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد کے پروگرام کی 45 دنوں کے لیے بندش کی مزمت کی۔ سید ظہیر شاہ نے فرنچ زبان میں آزادی کے مفہوم اور مسلمانان ہند کے 1940 سے 1947 تک کے کردار پر گفتگو کی۔

ظہیر عباس گجر ڈپٹی سیکریٹری منہاج القرآن فرانس نے پاکستان پر مسلط حکمران خاندان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہوں کے قاتل آل شریف کے افراد سن لیں، انصاف بھی ہو گا، احتساب بھی ہو گا اور قصاص بھی۔ اب کوئی طاقت انہیں انکے انجام سے نہیں بچا سکے گی۔

صدر پاکستان عوامی تحریک فرانس حاجی محمد اسلم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے مہینے میں دہشتگردوں نے کوئٹہ میں وکلاء، مریضوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا، مگر وزیر اعظم عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنے کی بجائے میڈیا کی آواز دبانے کی پلانگ کرتے نظر آتے ہیں۔

مہمان خصوصی نصراللہ چوھدری ایڈوکیٹ نے کہا کہ آزادی کے اس ماہ میں سانحہ کوٹہ بپاء کیے جانے نے 1947 کی یاد تازہ کر دی ہے وہ قربانیاں قیام پاکستان کے لیے تھیں اور یہ شہادتیں استحکام پاکستان کے لیے ہیں۔

انہوں کہا کہ 14 اگست یوم احتساب ہے جو ہمیں دعوت دیتا ہے کی ہم اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ کریں.انہوں نے بیرونی ممالک میں منہاج القرآن کے سیٹ آپ اور اپریشن کے ساتھ ساتھ قائد تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کے ویژن کی بھی تعریف کی۔

سفیر عالم علامہ حافظ نزیر احمد نے حقیقی آزادی کو علماء ، امراء اور فقراء کے درست سمت میں مشترکہ ایکشن کو کرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک بھی اگر ٹھیک کام نہ کرے تو عوام کی آزدی سلب ہو جاتی ہے. اور انہوں نے امراء کی لوٹ مار [پانامہ لیکس] فقراء کی قاتلوں کی حمایت کی نشان دہی کرتے ہوئے ماڈل ٹاوں سانحہ کے زمہ داروں کو کیفرکردر تک پہنچانے کی بات کی۔

پروگرام میں شہداء کوٹہ کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی. علامہ حافظ نزیر احمد کی استحکام پاکستان کی دعا کے بعد شرکاء میں کھانا تقسیم کیا گیا۔