پاکستانی عوام کی حالت کیوں نہیں بدلتی

Pakistani Peoples

Pakistani Peoples

تحریر : عارف کسانہ
جب بھی دو پاکستانی آپس میں ملتے ہیں تو وہ ملکی حالات کا رونا روتے ہیں ۔ سماجی تقریبات ہوںیا کوئی بھی اجتماع ہر جگہ لوگوں کا یہی موضوع ہوتا ہے۔ٹی وی پروگرام ہوں، اخبارات کے صفحات ہوں، سوشل میڈیا ہو یا نجی ملاقاتیں ہر جگہ عوام کی گفتگو کا محور پاکستان کی صورت حال ہوتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس کرب کو زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں ۔ بیرو ن ملک پاکستانی جب دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام اور وہاں کے خوشحال معاشرہ دیکھتے ہیں جہاں بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوتااس پر اُن کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ ان کے اپنے ملک میں بھی اسی سماجی ترقی اور خوشحالی کا راج ہو۔

پاکستانی کی سیاسی جماعتیں اور اُن کے قائدین عوام کو نوید دیتے آرہے ہیں کہ ہم اقتدار میں آکر دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے اور یہ کردیں گے وہ کردیں کردیں لیکن عوام کی حالات تو نہیں بدلتے یہ ضرور ہے ان کے اثاثوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں میگا کرپشن کی پیش کی جانے والی رپورٹ نے تو سب کچھ صاف ثاہر کردیا ہے کہ ملک کے ۱۵۰ کرتا دھرتا دراصل کرپشن کے بڑے مگر مچھ ہیں۔ عوام جنہیں اپنا مسیحا سمجھتے ہیں وہی ان کے استحصال کا باعث بن جاتے ہیں یعنی بقول میر
میر بھی کیا سادہ ہیں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

دیکھنایہ ہے کہ اصل مسئلہ کی جڑ کہاں ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ قبل اس کے اس بارے میں بات کی جائے اس بات سے ہر ذی شعور اتفاق کرے گا کہ ایک خوشحال، پر سکون اور مثالی معاشرہ ہو یا ملک اس کے لیے تین شعبے نہایت ضروری ہیں ۔ وہ تین شعبے تعلیم ، صحت اور عدل کے ہیں۔ یہی ترقی اور خوشحالی کی مثلث ہے اور جس ملک اور معاشرہ میں یہ تینوں عوام کے لیے فعال اور دستیاب ہوں وہاں لوگوں کو ذہنی سکون اور بلند معیار زندگی میسر ہوگا۔ اگر صرف عدل ہی موجود ہو تو پھر بھی مملکت کا نظام اس ڈگر پر چلتا ہے کہ پر سکون معاشرہ تشکیل پاتا ہے کیونکہ جہاں عدل نہیں ہوگا وہاں جدل ہوگا۔زندگی کے ہر شعبہ میں عدل ہو تو کسی خرابی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاکیونکہ عدل کا معنی ہے جو چیز جہاں ہونی چاہیے وہ وہیں ہو۔

Life

Life

کوئی بھی عہدہ ہ ہو یا اختیارات کا استعمال یا زندگی کا کوئی سا بھی شعبہ ، ہر جگہ عدل کی حکمرانی ہو۔ اس عدل کا اطلاق عوام پر بھی ہو کہ صرف اہل نمائدے ہی منتخب کریں کیونکہ نااہلوں کو منتخب کرنا عدل کے منافی ہے جسے ظلم سے تعبیر کیا جائے گا۔ ظلم عدل کا متضاد ہے جس کا معنی ہے کہ جس کوجہاں نہیں ہونا چاہیے وہ وہاں ہو۔ جب عوام نااہلوں کو منتخب کریں گے تو وہ خود ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں جس کا نتیجہ انہیں بھگتنا پڑرہا ہے لیکن اس کا شکوہ انہیں نہیں کرنا چاہیے اس لیے یہ انہوں نے خود ان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔ بات ساری واضع ہوگئی ہے ۔اگر عدل اور ظلم کا تصور اچھی طرح سمجھ کر اسے پنا لیا جائے تو معاشرہ کے بڑے بڑے مسائل پیدا ہی نہیں ہوں گے۔ جب عدل اور احتساب کا نظام ہوگا تو نہ ہی کرپشن ہوگی اور نہ ہی اختیارات کا ناجائیز استعمال۔ نہ اہل منتخب ہوں گے، نہ لوٹ کھسوٹ ، ناجائیز دولت اور قتل و غارت ہوگی۔

اب یہ پاکستان کی سپریم کورٹ کا بھی امتحان ہے کہ وہ میگا کرپشن کے اس اسیکنڈل پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔ عدل ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔ عدل اس قدر اہم ہے کہ قرآن حکیم میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی عدل کرو۔زندگی کے ہر شعبہ میں عدل ، قانون سب کے لیے ایک، بلا امتیاز احتساب، سب کے لیے ایک جیسی صحت عامہ کی سہولتیں، تمام بچوں کے لیے ایک جیسا نظام تعلیم اور مواقع میسر ہوں تو ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ان تینوں شعبوں کی ذمہ داری لے تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات میسر ہوں ۔ پاکستان میں بھی اگر عوام کو حکومت کی جانب سے صحت اور تعلیم کی یقین دہانی ہو اور ملک میں عدل ہو تو عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہوگا۔ حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے تعلیم اور صحت کی تمام ذمہ ددار ی خود لے اور اگر کہیں نجی شعبہکو اس میں مدد بھی لینا پڑے تو وہ بھی حکومت کی ذمہ داری ہو اور عوام پر کوئی بوجھ نہ پڑتا جیسا کہ سویڈن اور اسیکنڈے نیویا میں ہے۔

آج کرپشن کے بارے میں بڑی باتیں ہوتی ہیں اور حالیہ میگا کرپشن رپورٹ نے تو سب کو ننگا کردیا ہے ۔ یہ سب سامنے آنے کے بعد بھی عوام کو پھر بھی عدل کی توقع نہیں کیونکہ ماضی جو ان کے سامنے ہے۔ سال ہا سال مقدمے عدالتوں میں رہنے کے باوجود نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ شاہکار رسالت حضرت عمرؓ نے ایک جملہ میں اس کی وضاحت یوں کردی کہ دولت کیسے حاصل کی اور کہاں خرچ کی۔ ان کے اس تاریخی جملہ کو اگر قانون کی شکل دے دی جائے تو سار ا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن حل ہوتا کیوں نہیں ہوتا ۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا حکمران اور بالا دست طبقہ ہے جو ان مسائل کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا بلکہ اس طرح کے حالات ان کے اپنے مفاد میں ہیں۔ پاکستان کا بالا دست طبقہ ملک میں کبھی تبدیلی نہیں آنے دے گا۔ بالا دست طبقہ سے میری مراد Class Elite جس میں ملک کے حکمران، اسٹیبلشمنٹ، اعلٰی عہدوں پر فائیز بیوروکریسی، سرمایہ دار ، جاگیر دار شامل ہیں جو Status quo کے نظام کا حصہ ہیں اور اسے چلارہے ہیں۔ یہ سب مل کر بالا دست طبقہ کی تشکیل کرتے ہیں اور ان کے باہمی مفاد آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

Bureaucracy

Bureaucracy

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طبقہ میں بھی چند ایک لوگ ایسے ضرور ہیں جو باکرادر ہیں اور درد دل رکھتے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کرسکتے۔یہ بھی درست ہے کہ ساری اعلیٰ بیوروکریسی میں سب ایکجیسے نہیں اور ان میں بھی با کردار لوگ ہیں لیکن ان کی حیثیت بحر بیکراں کے سامنے قطرے کی سی ہے۔ قطرہ سمندر میں مل کر اسی کا حصہ بن جاتا ہے۔ انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی اس مشین کا حصہ بننا پڑتا ہے جو نظام چلا رہی ہوتی ہے۔یہ وہ طبقہ ہے جو انگریز کے دور کا اشرافیہ تھا اور قیام پاکستان کے بعد سے اب تک عوام پر مسلط ہے۔ عوام روٹی پانی علاج معالجہ اور دوسری بنیادی ضرویات کے لیے ترس رہے ہیں لیکن ملک کابالا دست طبقہ بے حس ہے وہ اس لیے کہ یہ ان کے مسائل ہی نہیں۔ پوش علاقو ں میں رہنے والوں کا پسماندہ علاقوں کے مسائل کیوں حل کریں اس لیے کہ انہیں یہ مسائل تو درپیش نہیں۔

اس طبقہ کو عوام کے مسائل کا علم ہے لیکن وہ اس کا حل نہیں کریں گے۔ یہ طبقہ اس سے بھی آگاہ ہے کہ یورپ میں عوام کو کیا سہولتیں میسر ہیں لیکن یہ طبقہ عوام کے مسائل حل کرنا ہی نہیں چاہتا ۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے لیے ایک متوازی نظام وضع کررکھا ہے ۔ ان کی رہاش گاہیں ، بچوں کے لیے سکول، علاج کے لیے ہسپتال اور خریداری کے لیے شاپنگ مال الگ ہیں۔ قانون اُن کے گھر کی لونڈی ہے ۔ چھٹیاں گذارنے اور طبی معائینہ کے لیے وہ بیرون ملک جاتے ہیں ۔ عوام ان کے محکوم ہیں اور وہ ان کے حاکم ہیں۔ انہوں نے عوام کے ذہن میں یہ بٹھا رکھا ہے کہ وہ اپنے لیے ان سے بھیک مانگتے رہیں اور وہ یہ تصور راسخ کرنے کے لیے کبھی کبھار ان کی جھولی میں خیرات ٖڈالتے رہتے ہیں۔ قومی خزانے سے کچھ خرچ کرکے اپنی ذاتی تشہیر کرکے یہ باور کرائیں گے کہ وہ عوام کے بڑے ہمدرد ہیں۔ لوگ لوڈ شیڈنگ اور بنیادی ضروریات کے لیے جتنا چاہیے سراپا احتجاج بنیں، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس ساری صورت حال کا حل کیا ہے ۔ حل ایک ہی عوام اس طبقہ کو ای طرح اپنے سر سے اتار پھینکے جیسے اہل یورپ نے کیا۔ ایک دقت تھا کہ جب یورپی ممالک میں بھی یہی صورت حال تھی جہاں جاگیر داروں، سرمایہ داروں، حکمران طبقہ اور مذہبی پیشوائیت نے تسلط جمایا ہوا تھا جسے یہاں کے عوام نے اتار پھینکا اور آج وہاں سماجی بہبود کا معاشرہ ہے جس کا حصہ بننے کے لیے دنیا بھر کے لوگ امڈھے چلے آتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے عوام کو عدل کی روشنی میں اہل قیادت کومنتخب کرنا ہوگا۔ عوام ان کو منتخب کریں جو عوام کے اپنے طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو اُن میں سے ہوں، جن کا رہن سہن اور بو دوباش ان جیسی ہو۔ جب تک عوام یہ فیصلہ نہیں کریں گے ان کی حالات کبھی نہیں بدلیں گے اور نہ ہی انہیں اس استحصالی نظام سے نجات ملے گی۔ ا گر اختیارات کا ناجائیز استعمال کرنے والوں، قومی دولت کو شیر مادر کی طرح حلال سمجھنے والوں، کرپشن میں تمام حدیں پھلاگنے والوں، خانداانی آمریت چلانے والوں اور عوام کو اپنے محکوم سمجھنے والوں کو منتخب کرتے رہیں گے تو عوام کے حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔

Arif Kisana

Arif Kisana

تحریر : عارف کسانہ