پاکستان سرونگ افراد کے غیر ممالک میں موجود اساسوں کو پاکستان لانے کے اقدامات کیے جائیں۔ اوور سیز پاکستانیز

Rao Khalil

Rao Khalil

پیرس ( اے کے راؤ سے ) قرض اتارو ملک سنوارو ! ںواز شریف کا سابقہ سلوگن ۔ پاکستان میں تمام فارن کرنسی اکاونٹ پے حکومت کا قبضہ نواز شریف کا کارنامہ ! مگر پاکستان کا قرضہ آج 18 ہزار ارب پے پہنچ چکا ہے۔ اور ساری فارن کرنسی سوئس اکاونٹس اور پانامہ پیپرز میں لیک ہو چکی ہے۔ 80 لاکھ پاکستانی دنیا کے چپے چپے میں دن رات اپنے ملک اور اپنے پیار کرنے والوں کے لیے کوشاں ہیں۔ اور دوسری جانب اس ملک پر حکومت کرنے والے سابقہ اور موجودہ سبھی اس ملک کو کھوکھلا کرنے پے تلے ہوئے ہیں۔ آج میرے پیاروں کو پاکستان میں ضروریات زندگی وہ بھی ملاوٹ والی اسی قیمت پر مہیاء ہیں۔ جس پر مجھے دنیا کے مہنگے ترین شہر پیرس میں زائد ورائٹی اور اچھی کوالٹی کے ساتھ میری دسترس میں ہیں۔

ایسا کیوں ہے ؟

یہ سب سمجھنے والے ڈاکٹر قادری اور عمران خان عوام کے لیے کوشاں ہیں ۔ مگر سرکاری طور پر پیڈ اور کچھ پڑھے لکھے احمق اور ناسمجھ عوام اپنی آنے والی نسلوں کے محسنوں کو قاتل اور قاتلوں کو محسن سمجھ بیٹھی ہے۔ سوئس بنک اور پانامہ لیکس کے کلیر ایوڈنس کے ہوتے ہوئے بھی خاب غفلت سے بیدار نہیں ہونا چاہتی۔ جہاں زی شعور پاکستانی پریشان ہیں وہاں محب وطن اوور سیز پاکستانی بھی ملک کی اس حالت پر کڑھ رہے ہیں۔

میڈیا پر بھی اس کا شور مچا ہوا ہے مگر قابل عمل حل ڈھوںدنے کی ضرورت ہے ۔ ہم اوور سیز پاکستانی دنیا کی سب سے عزیم فوج کے سپاہ سالار سے درخواست کرتے ہیں کہ بحثیت وزیر اعظم میاں نواز شریف ملک کے فارن کرنسی اکاونٹ کو ملک کے انٹرسٹ کے نام پر قبضہ کر سکتا ہے تو کیا ملک کی نظریانی سرحدوں کے محافظ افوج پاکستان ، معاشی دہشت گردوں سے پاکستان کا لوٹا ہو پیسہ ایک آرڈر کے زریعے واپس نہیں لایا سکتا ؟

پانامہ پیپرز میں صورتحال کافی کلیر ہو چکی ہے سوس اکاونٹس بھی کسی سے چھپے نہیں۔ وہ تمام اکاونٹس اور پراپرٹی جو بیرون ممالک میں پاکستانی سرونگ لوگوں کی ہیں ان کو ملک کے بہترین مفاد میں ایک قانون کے زریعے ملک میں انٹر کیا جائے اور پھر تمام سے ان کی تفصیلات معلوم کی جائیں جس کی جتنی لیگل منی ہو اسے عزت کے ساتھ واپس کر دی جائے اور جو گوشوارے جمع نا کروا سکے اسے بحق سرکار سرکاری خزانے میں شامل کر دیا جایے۔

اس سلسلے میں خدمت کے لیے اوور سیز معاشیات کے ماہر محب وطن پاکستانیوں کو شامل کیا جائے۔ اور اگر پہلی فرست میں اس بات کا اندازہ کر لیا جائے کہ ملک کے خیر اندیشوں کا کتنا پیسہ دوسرے ممالک کے لاکرز میں ہے،تو مزید آسانی ہو گی ملک کو گرداب سے نکالنے کے لیے ۔ مشکل وقت میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔ سب سے پہلے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے اکاونٹس عوام کے سامنے رکھیں۔