سفیر پاکستان کے ساتھ ایک نشست

Society

Society

تحریر : نگہت سہیل
انسان زندگی مین بہت سے لوگوں سے ملتا ہے کیونکہ انسان کو معاشرتی حیوان بھی کہتے ہیں اور معاشرے کی اقدار کو چلانے اور آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے سے میل ملاقات اور تعلق رکھنا انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے ایسے میں معاشرے میں ملک اور قوم اہم کردار ادا کرتے ہیں جہاں قومی جذبہ کار فرما ہو تو وہاں تعصب کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی اور اسی جذبے کے تحت سفیران وطن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ملک کے اندر رہ کر اس سے محبت اور اس کی خدمت کا جذبہ اپنی جگہ مگر بیرون ملک رہنے والے اپنی مٹی سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ان میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے اور شدت سے کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اپنے وطن کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں اسی جذے کے تحت سب اپنی استعداد کے مطابق کام کرتے ہیں شاہ بانو میر ادب اکیڈمی کی خواتین بھی اسی جذبے کے تحت اپنے ملک اور دین کے لئے کام کے چذبے سے سرشار ہیں یہ گھریلو خواتین کی ایک ایسی جماعت ہے جو نہ صرف اعلی تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ملکی اور عالمی حالات پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں اور اپنے ملک کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ جنون کی طرح ان میں پایا جاتا ہے اسی جذبے کے تحت اپنی علمی وادبی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی زبان کے فروغ کے لئے درمکنون جیسا علمی وادبی رسالہ کا اجرا کیا۔

حال ہی میں فرانس میں پاکستانی سفارتخانہ کے سفیر جناب معین الحق صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہواہمیں ان کی شخصیت میں عاجزی اور انکساری اور ملکی محبت کے جذبے نے بہت متاثر کیا ان کے ساتھ یہ تفصیلی ملاقات تھی جس میں بہت سی باتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں سب سے پہلے اسلام پر تفصیلی بات ہوئی پھر پاکستان اور پاکستانی ثقافت کے ساتھ ساتھ ادب پر بھی گفتگو ہوتی رہی پاکستان کے حالات پر بات کرتے ہوئے جب کشمیر کا ذکر چھڑا تو ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ سفیر صاحب کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں- اورموجودہ حالات سے بہت دکھی بھی ہین سفیر صاحب کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو ہم نے ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کیا ہے اور بھارت کا مکروہ چہرہ ہر جگہ آشکار کیا کشمیر کی آزادی کی جنگ کو روکنے کے لئے بھارت ہر طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے مگر یہ تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے۔

ان کا یہ جذبہ قابل ستائش ہے اور ھمارے لئے مشعل راہ بھی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عالمی سلامتی کونسل میں اس کا مطالبہ کیا کیا گیا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائے تاکہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے طے پائے اس سلسلے میں ھمیں فرانسیسی کمیونٹی کی حمائت حاصل ہے سفیر صاحب نے ادب اکیڈمی کی سب خواتین کی کاوشوں کو سراہا اور اس سلسلے میں اپنیتعاون کا یقین بھی دلایا مختصرا یہ ملا قات تفصیلی ہونے کے ساتھ متاثر کن بھی تھی جس نے ھمارے قومی اورملی جذبے کو اور تقویت دی موسم کے تقاضے کیپیش نظر خوش رنگ قہوے سے تواضع کی گئی-سب خواتین نے ان سے اجازت چاہی – سفیر صاحب نیھمیں دروازے تک رخصت کیا۔

Moin ul Haq

Moin ul Haq

یوں سفیر صاحب کی شخصیت سفیر پاکستان کے ساتھ ایک نشست تحریر نگہت سہیل انسان زندگی مین بہت سے لوگوں سے ملتا ہے کیونکہ انسان کو معاشرتی حیوان بھی کہتے ہیں اور معاشرے کی اقدار کو چلانے اور آگے بڑھانے کے لئے ایک دوسرے سے میل ملاقات اور تعلق رکھنا انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے ایسے میں معاشرے میں ملک اور قوم اہم کردار ادا کرتے ہیں جہاں قومی جذبہ کار فرما ہو تو وہاں تعصب کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی اور اسی جذبے کے تحت سفیران وطن اہم کردار ادا کرتے ہیں ملک کے اندر رہ کر اس سے محبت اور اس کی خدمت کا جذبہ اپنی جگہ مگر بیرون ملک رہنے والے اپنی مٹی سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ان میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے اور شدت سے کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اپنے وطن کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں۔

اسی جذے کے تحت سب اپنی استعداد کے مطابق کام کرتے ہیں شاہ بانو میر ادب اکیڈمی کی خواتین بھی اسی جذبے کے تحت اپنے ملک اور دین کے لئے کام کے چذبے سے سرشار ہیں یہ گھریلو خواتین کی ایک ایسی جماعت ہے جو نہ صرف اعلی تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ملکی اور عالمی حالات پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں اور اپنے ملک کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ جنون کی طرح ان میں پایا جاتا ہے اسی جذبے کے تحت اپنی علمی وادبی استعداد کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی زبان کے فروغ کے لئے درمکنون جیسا علمی وادبی رسالہ کا اجرا کیا حال ہی میں فرانس میں پاکستانی سفارتخانہ کے سفیر جناب معین الحق صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہواہمیں ان کی شخصیت میں عاجزی اور انکساری اور ملکی محبت کے جذبے نے بہت متاثر کیا ان کے ساتھ یہ تفصیلی ملاقات تھی جس میں بہت سی باتوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں سب سے پہلے اسلام پر تفصیلی بات ہوئی پھر پاکستان اور پاکستانی ثقافت کے ساتھ ساتھ ادب پر بھی گفتگو ہوتی رہی پاکستان کے حالات پر بات کرتے ہوئے جب کشمیر کا ذکر چھڑا تو ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ سفیر صاحب کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

موجودہ حالات سے بہت دکھی بھی ہین سفیر صاحب کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو ہم نے ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کیا ہے اور بھارت کا مکروہ چہرہ ہر جگہ آشکار کیا کشمیر کی آزادی کی جنگ کو روکنے کے لئے بھارت ہر طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے مگر یہ تحریک زور پکڑتی جارہی ہے ان کا یہ جذبہ قابل ستائش ہے اور ھمارے لئے مشعل راہ بھی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عالمی سلامتی کونسل میں اس کا مطالبہ کیا کیا گیا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائے تاکہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے طے پائے اس سلسلے میں ھمیں فرانسیسی کمیونٹی کی حمائت حاصل ہے سفیر صاحب نے ادب اکیڈمی کی سب خواتین کی کاوشوں کو سراہا اور اس سلسلے میں اپنیتعاون کا یقین بھی دلایا مختصرا یہ ملا قات تفصیلی ہونے کے ساتھ متاثر کن بھی تھی جس نے ھمارے قومی اورملی جذبے کو اور تقویت دی موسم کے تقاضے کیپیش نظر خوش رنگ قہوے سے تواضع کی گئی-سب خواتین نے ان سے اجازت چاہی – سفیر صاحب نیھمیں دروازے تک رخصت کیا- اور یوں سفیر صاحب کی شخصیت کے ایک اور متاثر کن پہلو کو سراہتے ہوئے ہم رخصت ہوئے- کے ایک اور متاثر کن پہلو کو سراہتے ہوئے ہم رخصت ہوئے-

Shah Bano Mir Adab Academy

Shah Bano Mir Adab Academy

تحریر : نگہت سہیل