پیرس میں مہاجرین کے لیے پہلا شیلٹر ہاؤس اکتوبر کے وسط سے فعال کر دیا جائے گا۔ زاہد مصطفی اعوان

Paris Refugees

Paris Refugees

پیرس (نمائندہ خصوصی) فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مہاجرین کے لیے پہلا شیلٹر ہاؤس اکتوبر کے وسط سے فعال کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد شہر کے گردونواح میں عارضی کیمپوں کا خاتمہ ہے۔میڈیا نے پیرس کی میئر آن ایدالگو کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیرس میں بنائے جانے والے اس کیمپ میں 400مہاجرین کی رہائش کا انتظام کیا جائے گا۔

اعلان کے مطابق یہ کیمپ شمالی پیرس میں واقع پرانے ریلوے سٹیشن میں بنایا جا رہا ہے۔ایدالگو کے مطابق اس کیمپ میں صرف مرد مہاجرین کو رہائش فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں مہاجرین پانچ تا دس دن تک قیام کر سکیں گے، جس دوران انہیں طبی اور نفسیاتی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ پیرس میں مہاجرین کے لیے ایک ایسا شیلٹر ہاؤس بنایا جائے گا، جہاں تمام بنیادی ضرورت کی سہولت موجود ہوں گی۔یورپ کو درپیش مہاجرین کے بحران کے نتیجے میں دیگر یورپی ممالک کی طرح فرانس کو بھی انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ فرانس میں کیلے کے مقام پر بننے والا مہاجر کیمپ بھی فرانسیسی حکام کے لیے مشکلات کا باعث بننا ہوا ہے۔

اس کیمپ میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن برطانیہ جانے کے خواہشمند ہیں۔اسی طرح دیگر شہروں کی طرح پیرس کے گردونواح میں بھی مہاجرین نے عارضی ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ حکام کے مطابق بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ کیمپ بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں جبکہ ان سے شہر کی سلامتی اور امن کو خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔

ان امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے پیرس میں باقاعدہ طور پر ایک مہاجر شیلٹر ہاؤس بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ منگل کے دن پیرس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میئر ایدالگو نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں کے لیے بھی ایک مہاجر کیمپ بنایا جا رہا ہے، جو رواں سال کے اختتام تک کام کرنا شروع کر دے گا۔

یہ کیمپ پیرس کے جنوب مشرقی علاقے’’آوری سر سین ‘‘میں بنایا جا رہا ہے۔یدالگو کے مطابق6.2ملین یورو کی رقم سے تیار کیے جا رہے مردوں کے لیے مخصوص اس شیلٹر ہاؤس کا مقصد شہر کی سڑکوں پر بھٹکنے والے پناہ کے متلاشی افراد کو ایک مناسب رہائش گاہ فراہم کرنا ہے تاکہ جب تک کسی مہاجر ہوسٹل میں ان کے قیام کا انتظام نہیں ہو جاتا، وہ دربدر نہ ہوں۔