پی آئی اے نے اپنے معاملات درست نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے

PIA

PIA

اوسلو (رپورٹ زاہد مصطفی اعوان) پی آئی اے کی لاجواب سروس کی کئی کہانیاں منظر عام پر آ چکی ہیں مگر لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے معاملات درست نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

پی آئی اے کی کوئی انہونی بات انہونی نہیں لگتی کیونکہ پی آئی اے سے سب کچھ ممکن ہے۔ ہفتہ کی رات پی آئی اے کی فلائٹ اوسلو ایئر پورٹ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونا تھی اور پی آئی اے مسافروں کو تو لے اڑی البتہ ان بیچارے مسافروں کا سامان اوسلو ایئرپورٹ بھول گئی۔

اسلام آباد ایئرپورٹ میں مسافروں کو دو گھنٹے انتظار کے بعد بتایا گیا کہ سامان کا کنٹینر اوسلو ہی بھول گئے ہیں اب آپ کا سامان ایک ہفتے تک آنے کی توقع ہے۔ کئی مسافروں نے اس پر شدید احتجاج بھی کیا اور کہا کہ ایک تو ہمارا سامان لانا بھول گئے ہیں اور دوسرا جو کھانا دوران سفر دیا گیا۔

اس میں حیران کن اور شرمناک تبدیلی یہ کی کہ چاولوں میں سے چکن کو غائب کر دیا گیا۔ کئی مسافروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ پی آئی اے کا عملہ کیٹرنگ والے سے گوشت کے پیسے اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے، اس تبدیلی کی شکایت فلائٹ سپروائزر سے کی تو وہ اس سے لا علم تھا۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال ناقابل قبول ہے اور پی آئی اے کی انتظامیہ کو ذمہ داران کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے۔