پروفیسر شہاب عنایت ملک کی تصنیف قدرت اللہ شہاب شخصیت اور فن کا اجرائ

Prof. Shahab Anayat Malik Authorship Launch

Prof. Shahab Anayat Malik Authorship Launch

جموں (ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ) شعبہ اردوجموں یونیورسٹی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں صدرشعبہ اُردو اور ڈائریکٹر کشتواڑ کیمپس جموں یونیورسٹی پروفیسر شہاب عنایت ملک کی کتاب ”قدرت اللہ شہاب ۔شخصیت اورفن” کااجراء صلاحکا ربرائے وزیراعلیٰ پروفیسرامیتابھ مٹونے کیا۔اس موقعہ پرریاستی وزیربرائے حج واوقاف عبدالرحمان ویری مہمان خصوصی تھے جبکہ کتاب رونمائی تقریب کی صدارت وائس چانسلرجموں یونیورسٹی پروفیسرآرڈی شرمانے کی۔

Dr M Raghib Deshmukh

Dr M Raghib Deshmukh

اس موقعہ پربولتے ہوئے پروفیسر امتیابھ مٹونے پروفیسرشہاب عنایت ملک کی نہ صرف ریاست جموں وکشمیرمیں بلکہ برصغیرمیں اُردوکے فروغ کے تئیں کاوشوں کوسراہا۔انہوں نے کہاکہ پروفیسرشہاب عنایت ملک نے متعددکتابیں لکھی ہیں لیکن نئی کتاب قدرت اللہ شہاب ۔شخصیت اورفن ہندوستان میں اپنی نوعیت کی منفردکتاب ہے۔پروفیسرامتیابھ مٹونے کہاکہ ریسرچ اسکالروں کوقدرت اللہ شہاب کے فن سے متعلق تحقیق میں کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں لیکن پروفیسرشہاب کی کتاب سے اسکالروں کی پریشانی کسی حدتک دورہوجائے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی لکھنے والوں کویہ کتاب تحریک بخشے گی ۔پروفیسر مٹونے کہاکہ قدرت اللہ شہاب ریاست جموں وکشمیرکے پہلے آئی سی ایس آفیس رتھے جوبٹوارے کے وقت پاکستان ہجرت کرگئے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قدرت اللہ شہاب اُس وقت کے صدرپاکستان ایوب خان کے سیکریٹری جیسے بڑے عہدے پربھی فائز رہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہندکے بارے میں قدرت اللہ شہاب نے متعدد کہانیاں لکھی ہیں جن میں ”یاخدا”قابل ذکرہے۔انہوں نے کہاکہ پروفیسرشہاب عنایت ملک نے قدرت اللہ شہاب کی تحریروں کاخوش اسلوبی سے تنقیدی جائزہ لیاہے۔

پروفیسر مٹونے کہ اکہ پروفیسر شہاب عنایت ملک ریاست کی معروف ادبی شخصیت ہیں اور امید ہے کہ وہ آئندہ بھی ادبی خدمات جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ پروفیسر شہاب عنایت کی ادبی خدمات کوسماجی ،ثقافتی اورادبی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسرشہاب عنایت ملک کاتعلق ایک ادبی گھرانے سے ہے اور اُردو اور کشمیری کے معروف شاعررساجاودانی پروفیسرشہاب کے ناناجی تھے۔انہوں نے کہاکہ پروفیسر شہاب اپنے نانارساجاودانی کے نقش وقدم پرچل کراُردوزبان کی خدمت کررہے ہیں۔اس موقعہ پربولتے ہوئے حج واوقاف کے وزیرعبدالرحمان ویرنے پروفیسرشہاب عنایت ملک کوقدرت اللہ شہاب ۔شخصیت اورفن کے اہم موضوع پرکتاب تحریرکرنے کیلئے مبارکبادپیش کی۔

انہوں نے کہاکہ میں نے اس کتاب کامطالعہ ہے اورمیں یہ سمجھتاہوں کہ تقسیم ہندکے قبل کی جموں کی تہذیب اورکلچرکی جانکاری حاصل کرنے کیلئے کتاب کافی اہم ہے۔انہوں نے کہاکہ پروفیسرشہاب عنایت ملک نے قدرت اللہ شہاب کی زندگی کے مختلف واقعات اور ان کے افسانوںمثلاً”یاخدا”، ”ماں جی” ، ”چندروتی ”وغیرہ اورناولوں کا گہرائی سے تنقیدی جائزہ لیاہے ۔انہوں نے کہاکہ قدرت اللہ شہاب نہ صرف ایک منجھے ہوئے بیوروکریٹ تھے اوران کے والدتقسیم ہندسے پہلے گلگت کے گورنرکے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔عبدالرحمن ویری نے کہاکہ اُردوریاست کی سرکاری زبان ہے اورموجودہ سرکاراُردوکے ساتھ انصاف کرے گی۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اُردو کے مسائل اورپروفیسرشہاب عنایت ملک کی ریاست میں اُردواکیڈمی کے قیام کی دیرینہ مانگ کووزیراعلیٰ کے ساتھ زیربحث لائیں گے۔

صدارتی خطاب میں وائس چانسلرجموں یونیورسٹی پروفیسرآرڈی شرمانے پروفیسرشہاب عنایت ملک کی جموں یونیورسٹی اورکشتواڑکیمپس کی ترقی کیلئے خدمات کوسراہا۔انہوں نے کہاکہ پروفیسرشہاب قابل ایڈمنسٹریٹرہیں اورہمیشہ کشتواڑکیمپس کوصوبہ جموں کابہترین تعلیمی ادارہ بنانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔اس کے علاوہ شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کوہمیشہ متحرک رکھنے کیلئے نمایاں کردارنبھاتے ہیں۔انہوں نے پروفیسرشہاب کونئی کتاب کے اجراء کی مبارکبادپیش کرتے ہوئے امیدظاہرکی کہ یہ کتاب ریسرچ اسکالروں کیلئے کافی کارآمدثابت ہوگی۔

اس موقعہ پر پروفیسرقدوس جاویدکی عدم موجودگی میں ڈاکٹرفرحت شمیم اورجاویدمغل نے کتاب کے بارے میں مقالہ پیش کیا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض ایسوشیٹ پروفیسر ڈاکٹرم حمدریاض احمدنے انجام دیئے۔قابل ذکرہے کہ ”قدرت اللہ شہاب ۔شخصیت اور فن ”پروفیسرشہاب عنایت ملک کی 18ویں کتاب ہے جوقاسمی کتب خانہ تالاب کھٹیکاں جموں نے شائع کی ہے ۔کتاب 160 صفحات پرمشتمل ہے اوراس کتاب کاانتساب مصنف نے اپنی اہلیہ ڈاکٹرشہنازقادری کے نام وقف کیاہے۔تقریب میں بھاری تعدادمیں اسکالرز، طلبائ، فیکلٹی ممبران اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔