تکبر کو شکست

Japanese Hiro-Hito

Japanese Hiro-Hito

تحریر : واٹسن سلیم گل، ایمسٹرڈیم
اس بات پر ہمارا ایمان پختہ ہے کہ خدا تعالیٰ تکبر کو قطئ طور پر پسند نہی کرتا۔ کیونکہ انسان کیا اور اس کی حثیت کیا کہ کسی بھی بات پر تکبُر کرے۔ جب کے دنیا کا سب سے امیر، طاقتور یا بڑا انسان اپنی ساری امارت، طاقت یا عزت کو استمال کر کے اپنی صرف ایک سانس میں اضافہ نہی کر سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ نہ چاہے۔ میں نے تاریخ میں بہت سے لیڈرز کے بارے میں پڑھا ہر بڑا لیڈراپنی قوم کے لئے ہیرو اور دوسری اقوام کے لئے ولن رہا مگر کچھ ایسے بھی لیڈرز کے بارے میں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان کے گزر جانے کے بعد ان کی اپنی قوم اپنے اس لیڈر کے حوالے سے شرم سار ہوتی ہے۔ منگول اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ تاتاری قبائل اگر چاہتے تو خون کی ندیاں بہاہے بغیر بھی فاتح بن سکتے تھے۔ کیوں کہ وہ بہت طاقتور تھے۔ جاپانی اپنے شہنشا ہیرو ہیٹو کے فیصلوں پر آج بھی دنیا بھر سے معزرت کرتے نظر آتے ہیں۔ ہٹلر کے بارے میں جرمنی کبھی بھی فخر محسوس نہی کرتے۔

یہ وہ لیڈرز ہیں جو گزر گئے۔ جاپانی شہنشاں ہیرو ہیٹو کو اپنی ساری زندگی اپنے غلط فیصلوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور اس میں لاکھوں جاپانیوں کی موت کے بوجھ تلے گزارنی پڑی۔ اور اسی ہزیمت اور شرمندگی میں اس نے 1945 میں ہتھیار ڈالتے وقت قوم سے خطاب کے بعد مرتے دم تک 1989 کبھی اپنی قوم سے خطاب نہی کیا۔ پاکستان میں بھی ایک بڑا لیڈر پیدا ہوا جس نے اپنی منتشر قوم کو اکٹھا کیا اور پھروہ چھا گیا۔ مہاجر قوم کے عام لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچانے والا یہ الطاف حسین اپنی ہی زندگی میں ان کے لئے وبال جان بن گیا۔ جس ملک نے اسے عزت اور شہرت دی آج اسی ملک کے خلاف نعرے لگا کر یہ اپنے ہی ملک میں بیگانا ہو گیا۔ہم نے دیکھا کہ ماضی میں الطاف حسین کو بہت سے حکمرانوں نے توڑنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے مگر الطاف حسین کو الطاف حسین نے خود ہی ڈبودیا۔ یہ وہ شخص تھا کہ لاکھوں کے مجمعے میں جب کہتا تھا خاموش تو اتنی خاموشی ہو جاتی تھی کہ سوئ کے گرنے کی آواز بھی سُنائ دےمگر آج اسکی اپنی آوازسنائ نہی دے رہی ہے۔

MQM

MQM

مجھے بہت سے دوستوں نے پوچھا کہ میں کیوں اس جماعت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ تو میں آج بھی ایم کیو ایم کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہوں مگر الطاف حسین کے لئے میں نے اپنا نظریہ تبدیل کیا ہے کیونکہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ کیسے ہمدردی کر سکتا ہوں جو پاکستان مخالف نعرہ لگائے۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعا گو رہتے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کو وجہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں کیوں ایم کیو ایم کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہوں۔ مگر الطاف حسین کے لئے نہی۔ میں اس جماعت کو اپنے حقوق کے لئے جنگ کرتے دیکھا۔ اس میں بھی کوئ شک نہی کہ اس جماعت کا عسکری ونگ تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ جماعت بغیر عسکری وینگ کے کراچی میں جگہ نہی بنا سکتی تھی۔ کیونکہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں جمعیت اور پی ایس ایف جیسے طاقتور عسکری وینگ موجود تھے۔ اور ایم کیو ایم کے عسکری وینگ کی پیدائیش بھی ای پی ایم ایس او کی گود میں ہوئ۔

کچھ بھی تھا مگر میرے ساتھ زاتی طور پر ایم کیو ایم کے ساتھ چند اچھے تجربے ہوئے جن کی وجہ سے میرے دل میں اس جماعت کے لئے عزت بڑھی۔ 1992 کی بات ہے میرے پاس ایک سوزوکی پک اپ ہوا کرتی تھی میں اسے بیچنا چاہتا تھااس سلسلے میں میری شاہ فیصل کالونی کے ایک مہاجر لڑکے سے بات ہوئ میں اس لڑکے کو جانتا تھا قیمت 60 ہزار مقرر ہوئ وہ لڑکا پانچ سو ایڈوانس میرے ہاتھ میں رکھ کر باقی رقم کاغذات اس کے نام منتقلی کی شرط پر گاڑی کی ٹرائ لینے گیا اور پھر واپس نہی آیا میں شاہ فیصل تھانے گیا ایس ایس پی آفس میں شکایت کی مگر کوئ سننے والا نہی تھا چھ ماہ گزر

Watson Gill

Watson Gill

تحریر : واٹسن سلیم گل، ایمسٹرڈیم