تسلیم سے تقسیم کو روکنا ہے

MQM

MQM

تحریر : شاہ بانو میر
تمام نیوز چینل اور اینکر حضرات حیران پریشان ہیں کہ کراچی کی سب سے ہیوی ویٹ جماعت اور وہ یہ کہے کہ اس کے کارندے 92 کے آپریشن کے بعد پوری دنیا میں جہاں جگہہ ملی جان بچانے چلے گئے ایسے ہی سیکڑوں کارکنان بھارت بھی گئے لیکن بھارت ان کو منفی انداز میں استعمال کرے گا اس لئے رابطہ کمیٹی کا یہ فیصلہ تھا کہ ان کو بطورَ کارکنان اب ایم کیو ایم میں نہیں رکھا جائے گا’ اگر حکومت پاکستان کو ناقابل برداشت نقصان پہنچانے والے بلوچی سرداروں کو معاف کر کے ان کی بحالی کیلئے نئے سرے سے اقدامات کر رہی ہے تو ایسے میں مہاجروں کا کیا قصور ہے کہ ان کے لئے رحم کے معافی کے تمام در بند کر دئے جایئں بات تو معقول ہے نیا پاکستان خصوصا چاٰئنہ کاریڈور تقاضہ کرتا ہے کہ نٰئے کامیاب پاکستان کیلئے ماحول کا سازگار ہونا بہت ضروری ہے ‘ ہر طرف امن و امان اور ماضی کی کوتاہیاں بڑے دل کے ساتھ معاف کر کے سبق سیکھنے والوں کے لئے نئے پاکستان میں نرم گوشہ ہونا چاہیے

تا کہ دشمن مسلسل ایک جانب تفرقہ دیکھ کر پھر سے اس ملک کو کمزور کرنے کیلئے کوئی کاری ضرب نہ لگا سکے کراچی میں آپریشن سیاسی جانبداری پر نبہیں کراچی کو پاک صاف کرنے کیلئے ہے ‘ایم کیو ایم کی جانب سے آج کا بیان کیا اتنا ہی سادہ ہے؟ جتنا سامنے نظر آ رہا ہے؟ جی نہیں ہر ہتھکنڈہ آزما لیا گیا ہر طرح کا ڈراوہ دے کر دیکھ لیا ‘ کوئی اپنی جگہہ سے پسپا نہیں ہوا اور یہی ضرورت اس ملک کی تھی کہ کوئی تو ماں کا لعل تو غیرت مند اٹھے جو بکے نہ جو جھکے نہ اور جو ایک بار تو نعروں کی حد تک نہیں عملی طور پے اس ملک کی گندگی کے اصل محرکات کو بے جگری سے شکنجے میں ایسا کسے کہ وہ پھڑپھڑائیں مگر شکنجہ اتنا ہی کسا جائے آج اس ملک کی مایوس عوام سکون سے بسوں میں سفر کر ہی ہے ‘ وہ بے فکری سے کشادہ شاہراہوں پر بلا خوف و خطررات گئے گھوم رہی ہے ‘ بچوں کے چہروں پر گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے چھائی زردی اب لالی میں بدل رہی ہے

یہ ہے نیا پاکستان حکومتَ وقت نے سارے شواہد اکٹھے کر کے ایم کیو ایم پر شائد واضح کر دیا ہے کہ دھونس اکڑ غنڈہ گردی اور بھتہ خوری قصہ پارینہ ہے اب اگر آپ کو اس ملک میں رہنا ہے اور باعزت انداز میں سیاست کرنی ہے تو گردنوں میں خم لانا ہوگا اعتراف جرم کرنا ہوگا اس کے بعد پھر دیکھتے ہیں کہ گنجائش کی حد کہاں تک ہے ‘کامیاب معاشرے اور طاقتور قومیں برداشت کے سبق کو پڑھ کر ہی آگے بڑہتی ہیں اس میں مضاٰقہ بھی کوئی نہیں جب جرائم کی طویل فہرست ہاتھ میں تھما دی جائے اور بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ ملے تو سیاستدان کی سمجھداری یہی ہے کہ سیاست کو بچائے سیاست رہے گی تو مستقبل میں پینترا بدل کرسیاسی عروج کا سوچا جا سکتا ہے لہٍذا حکومتَ وقت اپنے سامنے پی پی پی اور پی ٹی آٰئی کا ہوتا اتحاد دیکھ کر مصالحت پر آمادہ ہے

PTI

PTI

تا کہ پی ٹی آٰئی کے حریف کو سیاسی طور پے اسی کے تعاقب میں رکھا جائے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال ایسے میں اتنا ناقابل فہم بیان بظاہر تو یہی سمجھا رہا ہے کہ ڈَیل ہو رہی ہے اور ہونی بھی چاہئے کیونکہ جو بھی ہے یہ ہمارے ہیں مہاجر تو ان کے بزرگ نعرہ لگا کر سیاست چمکاتے ہیں نئی نسل پاکستان کی نمائیندہ جماعت ہے گنجائش کو ذہن کے وسیع خانوں میں رکھنا ہوگا ‘ البتہ کڑا انصاف جن کو پکڑا گیا ان کیلئے کوئی رعائت انہیں نہیں مانگنی چاہیئے کیونکہ ان کے روابط باقاعدہ ثابت ہو چکے ہیں را سے معافی کا اصول عام کریں اور پھر دیکھیں محبتوں کا سیلاب بہہ نکلے گا ملک کے ہر صوبے سے بلوچستان کہیں کسی طرح ہم سے الگ نہ تھا نہ ہے نہ رہے گا اسی طرح ایم کیو ایم کا ماضی فراموش کر کے قصور وار کو سزا دی جائے لیکن جوان میں مخلص ہیں ان سے ہاتھ ملا کر رنجشیں دور کی جانی چاہئے

حکومتَ وقت کی بہترین حکمتَ عملی مستقبل کے عظیم پاکستان کیلئے جس کی تائید سب کو کرنی چاہیئے ہر سیاسی جماعت اپنا ایک مستحکم وجود رکھتی ہے جس کو مندمل یا معدوم نہیں کیا جا سکتا ایک دوسرے کو تسلیم کرنا ہوگا تا پاکستان کو سیاسی تقسیم سے بچایا جا سکے محفوظ باوقار عظیم پاکستان ہر سوچ کے ساتھ چاٰنہ اقتصادی کاریڈور پاکستان کی نئی زندگی اور نئی پہچان جس کو ذاتی سیاسی مفادات کی بھینٹ عوام اب چڑہانے نہیں دے گی سیاسی محاذ آرائی نہیں

سیاسی استحکام وقت کی اولین ضرورت ہے تا کہ فوج اندرونی شورشوں پر وقت دینے کی بجائے سرحدوں پر دشمن نیست و نابور کرے آیئے مل کر ایک ہو کر سب کو تسلیم کر کے کامیابی کی جانب اکٹھے قدم بڑہائیں کہ یہی ہے اگلی نسل کو ہمارا تحفہ کامیاب عظیم مضبوط پاکستان پاکستان زندہ باد

Shahbano Mir

Shahbano Mir

تحریر : شاہ بانو میر