دین اسلام اخوت و مساوات اور رحمدلی کا درس دیتا ہے: مولانا مشہود احمد قادری ندوی

Maulana Mashhood Ahmed Qadri

Maulana Mashhood Ahmed Qadri

پٹنہ (کامران غنی) ہندوستان بھر میں عید انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر راجدھانی دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروں کی عید گاہوں اور مساجد میں مسلمانوں نے عید کی نماز ادا کی۔ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بھی مسلمانوں نے عید کی نماز ادا کی۔

پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں نماز کے بعد مولانا مشہود احمد قادری ندوی ، پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الھدیٰ، پٹنہ نے فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمانوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے سے فیضیاب ہونے کا موقع عنایت فرمایا۔انھوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے ایک ماہ اپنے آپ کو لغویات سے دور رکھا آئندہ مہینوں میں بھی گناہوں سے اسی طرح بچنے کی کوشش کریں۔ اس طرح ہم اپنوں کے لیے نمونہ اور اغیار کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

شاہی عید گاہ گلزار باغ، پٹنہ میں مولانا سید شاہ مصباح الحق عمادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عید دراصل انعام الٰہی کا دن ہے۔ اس روز اللہ رمضان المبارک کی عبادت کا اجر عطا فرماتا ہے۔ اپنے خطاب میں انھوں نے مسلمانوں کو غیر رمضان میں بھی احکامات الٰہی پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے۔ نااہل اور ظالم حکمرانوں کا ہم پر مسلط ہو جانا بھی ہماری آزمائش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری عبادت گاہیں غیر محفوظ ہیں۔ ہمیں اپنی عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ سربلندی اور کامیابی مومن کے لیے ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہوگی۔ تبھی اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔انھوں نے مسلمانوں کو اطاعت الٰہی پر کمر بستہ ہو جانے کی تلقین کی۔

جماعت اسلامی ہند، پٹنہ میں مولانا فضل کریم قاسمی نے امامت و خطابت کے فرائض انجام دئیے۔ انھوں نے فرزندان توحید کو عید کی مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ مبارکباد کے اصل مستحق وہ لوگ ہیں جنھوں نے رمضان میں پوری یکسوئی اور انہماک سے روزے رکھے۔ اللہ کے حضور سچی توبہ کی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا عہد کیا۔ انھوں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ تقویٰ کی صفت سے متصف ہونے کے لیے تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں بلاشبہ ہم نے اور مہینوں سے زیادہ نمازیں پڑھیں اور اعمال صالحہ کی کوششیں کی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مہینہ میں ہم نے اپنے اندر جو تبدیلیاں پیدا کی ہیں انھیں آئندہ کے گیارہ مہینوں میں بھی قائم رکھیں۔ مولانا فضل کریم قاسمی نے کہا تقویٰ و پرہیزگاری کے بغیر صالح معاشرہ کا قیام نا ممکن ہے۔ انھوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار ایک یہودی نے اپنی زمین فروخت کرنے کا ارادہ کیا۔ اس نے زمین کی قیمت اس علاقہ کی دوسری زمین سے کہیں زیادہ رکھی۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس زمین سے متصل مشہور صحابی عبد اللہ ابن مبارک کا گھر ہے۔ اس لیے اس نے زمین کی قیمت زیادہ رکھی ہے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ اس واقعہ کی روشنی میں ہمیں اپنے اعمال و کردار کا جائزہ لینا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے آس پاس کے لوگ ہمارے افعال و کردار سے متاثر ہو رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہمیں اسوۂ رسول پر عمل پیرا ہو کر اسلام کی حقیقی تعلیمات کو برادران وطن تک پہنچانا ہے۔

خانقاہ بلخیہ فردوسیہ فتوحہ میں ڈاکٹر سید شاہ مظفر الدین بلخی فردوسی نے اپنے خطاب میں رمضان کی حقیقی روح اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ خود احتسابی اور تزکیۂ نفس کی ٹریننگ کا مہینہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ایک مہینہ کی ٹریننگ کی بدولت ہمارے اندر صبر و تحمل، خود اعتمادی، خود احتسابی اور زہد و تقویٰ جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح زندگی کے مختلف شعبوں میں ٹریننگ کا مقصد عام حالات میں ان کا نفاذ ہے اسی طرح رمضان میں عبادات کی کثرت اور گناہوں کے کاموں سے خود کو بعض رکھ کر ہم اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہمارے یہ معمولات غیر رمضان میں بھی جاری رہیں گے۔ خانقاہ بلخیہ فردوسیہ فتوحہ میں عید کی نماز پروفیسر حکیم سید شاہ علیم الدین بلخی فردوسی ندوی نے پڑھائی۔

Eidgah

Eidgah