معروف شاعر عبدالرحیم روغانی کے اعزاز میں مقامی ہال میں عظیم الشان محفل مشاعرہ و موسیقی

Abdul Rahim Rughany Honors Mefil Mushaira And Mosiki Birmingham

Abdul Rahim Rughany Honors Mefil Mushaira And Mosiki Birmingham

برمنگھم ( ایس ایم عرفان طاہر سے ) پشتو ادب کے معروف انقلابی شاعر عبد الرحیم روغانی کے اعزاز میں مقامی ہال میں عظیم الشان محفل مشاعرہ و موسیقی کا اہتمام کیا گیا ۔ جس کی میزبانی کے فرائض ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت اور نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاء الدین یوسفزئی اور سنیئر صحافی زاہد محمود خٹک نے سرانجام دیے ۔ محفل مشاعرہ کے سٹیج سیکرٹری فضل ربی راہی تھے۔

جبکہ صدارت اسماعیل غزنی نے کی اور بطور مہمان خصوصی پشتو ادب کے معروف انقلابی شاعر عبد الرحیم روغانی سمیت ڈپٹی لارڈ میئر آف برمنگھم کونسلر شفیق شاہ ، عبید اللہ خان، چیئرمین برٹش پاکستانی پروفیشنل کونسل زاہد چو ہدری ، لالہ عبد القدیر ، حاجی محمد ایوب ایم بی ای ، ارشد ،بصیر احمد، قمر خلیل ،عبد اللہ خان عوامی نیشنل پارٹی برطانیہ ، یاسر ، اقبال ، ملالہ یوسفزئی کی والدہ ، صفیہ ناز،علینا چو ہدری اور سانحہ پشاور آرمی پبلک سکول کے شہید حارس نواز اور غازی احمد نواز کے والد محمد نواز خان اور والدہ نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر پشتو ادب کے شعراء عارف اقبال ، فضل رحیم ، جا وید اقبال یوسفزئی ، رحمان خٹک ، قسمت گل خٹک ، محمد شاہد ، درد مند خٹک ، فا ئق خان اور دیگر نے اپنا کلام اور پشتو فنکار سرفراز خان نے موسیقی پیش کی۔

اس موقع پر خصوصی خطاب کرتے ہو ئے ضیاء الدین یوسفزئی کا کہنا تھا کہ قانون فطرت میں برادری اور قبیلے کی بنیاد پر کسی کو کسی پر کوئی امتیا ز حاصل نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے مساوی حقوق ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ تمام انسان برابر ہیں اسلیے اتفاق و اتحاد سے ہی ہم ایک مہذب اور با اصول معاشرہ ترتیب دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جب قدرت کسی گو رے کو کالے پر اور کسی کا لے کو گو رے پر فوقیت نہیں دیتی تو پھر اپنی انا کے بت کو توڑ کر تعصب اور تفرقہ ختم ہونا چا ہیے ۔ انہوں نے کہاکہ برابری کے اصول اپنا تے ہو ئے ہی ہم معاشرے میں عدل و انصا ف اور امن کی فضاء قائم رکھ سکتے ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ بیرونی دنیا میں بسنے والی پشتون برادری کو چا ہیے کہ اپنے ادب کو فروغ دینے کے لیے نمایا ں کردار ادا کر یں ۔ انہوں نے کہاکہ انگلستان سمیت یو رپ ، امریکہ اور دیگر ممالک میں بسنے والے پختون اپنے بچوں کو پشتو ادب اور زبان سے روشناس کروائیں۔

انہوں نے کہاکہ تارکین وطن اپنے بچوں کو اپنی روایات زبان اور ثقافت سے متعارف کروانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔ انہو ں نے کہاکہ کشمیر میں رہنے والے کو کشمیری پنجاب میں رہنے والے کو پنجابی سندھ میں رہنے والے کو سندھی اور بلوچستان کے رہنے والوں کو بلوچی زبان ضرور آنی چا ہیے ۔ انہو ں نے کہاکہ آج ہم نے اپنی نسل نو کو اپنی روایات اپنے کلچر اور اپنی زبان سے واقفیت نہ کروائی تو ہما ری تاریخ اور ادب تباہ و برباد ہو جا ئے گا ۔ انہو ں نے مزید کہا کہ ہمیں چا ہیے کہ دیا ر غیر میں رہتے ہو ئے ہم اپنی بنیا د اور اساس کو ہر گز نہ بھلا ئیں اسی سے ہما ری بقاء اور روشن مستقبل کی امید باقی ہے۔

محمد نواز خان نے کہاکہ عبد الرحیم روغانی نے طالبان کے تاریک دور میں ان کے خلا ف ادبی تحریک کا آغاز کیا اور پھر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے رہے ۔ انہوں نے کہاکہ پشتون قوم کو پاکستان اور افغانستان میں ایک سازش کے زریعہ سے تقسیم کیا گیا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ کلا شنکوف اور بندوق ہما ری پہچان نہیں ہے بلکہ تعلیم ہی ہما را اصل ہتھیا ر ہے ۔ انہوں نے اس موقع پرمیزبان ضیاء الدین یوسفزئی کی پشتو ادب اور کمیونٹی کے لیے گراں قدر خدمات کو زبردست انداز میں سراہا اور اس بات کا اظہا ر کیا کہو جب تک ہم اپنی ثقافت اور ادب کو ساتھ لیکر نہیں چلیں گے تو ہماری قوم ترقی نہیں کر سکتی ہے۔