سردار عتیق کے اعلان کا ڈرامہ تحفے تحائف اکٹھے کرنے کے لئے ہے

Asif Masood Chaudhry

Asif Masood Chaudhry

لیوٹن برطانیہ (اسپورٹس رپورٹر) سردار عتیق کے کنٹرول لائن عبور کرنے والے ڈرامے کے ثمرات ان کو گھر تک پہنچائے جانے لگے جس کی پہلی قسط کے طور پر حکومت کی جانب سے نئے ماڈل کی گاڑی حترم کے گھر پہنچوا دی گئی۔ کنٹرول لائن عبور کرنا ڈگڈگی پر ناچنے والوں کا کام نہیں ان جیسے مفاد پرست ٹولے کے لئے ذاتی مفاد کی خاطر تھوک کر چاٹنا ہی سب سے زیادہ سواد دیا کرتا ہے اس کا عملی نمونہ آج کل کنٹرول لائن عبور کرنے والی کال سے ثابت ہے اور کچھ عرصہ پہلے الیکشن میں بھی دیکھا گیا غیر ریاستی جماعتوں کے ریاست بددر کرنے والے خود انکی جھولی مین جا بیٹھے۔ ان خیالات کا اظہار آصف مسعود چوہدری جنرل سیکرٹری جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ۱۹۹۰ میں جب جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنس فیڈریشن کے صدر گلنواز بٹ شہید کی قیادت میں کنٹرول لائن عبور کی گئی تب ان کے والد نے گلنواز بٹ کی کردار کشی کی اور ان کی ساتھ چلنے والوں پر جو جو الزامات لگائے وہ بھی تاریخ کے اوراق میں مقید ہیں ۔ دو سال بعد ۱۹۹۲ میں لبریشن فرنٹ کی کال پر کنٹرول لائن کو عبور کرنے پر بھی عتیق خان کے والد محرم نےجو گھٹیہ الزامات لگائے وہ بھی اخبارات کی زینت رہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس اعلان سے پہلے موصوف گلنواز بٹ ، امان اللہ خان این ایس ایف اور لبریشن فرنٹ کے شہدائے چکوٹھی کی قبور پر جا کر اپنے والد اور پوری جماعت کی جانب سے معافی مانگتے اور پھر کشمیری قوم کو بتلاتے کہ وہ لوگ حق پر تھے لیکن انکے والد نے چند ذاتی مفادات کی خاطر ان پر کیچڑ اچھالا اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اب موصوف بھی وہی کرنے جا رہے ہیں جسکی کی ان کے والد نے شدید مخالفت کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ بڑی ظالم ہے اور سچ اپنے آپ کو ثابت کر کے رہتا ہے اور اب سب کے سامنے ہے کہ آج نے گزرے ہوئے کل کے آزادی پسند و قوم پرستوں کا حق پر ثابت کر دکھایا بلکہ اپنے مخالفین کو بھی اسی راہ پر چلنے کے لئے مجبور کر دیا ۔ ایسے تو سردار قیوم صاحب انکو نالائق بیٹا کہا کرتے تھے جس کا اعتراف سردار عبدالقیوم خان صاحب کے ساتھی بارہا کیا کرتے تھے۔ لیکن یہ ان سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول کی کال کی ڈیڈ لائن میں تبدیلیاں در حقیقت چمرات میں مزید اضافہ کی وجہ سے ہیں ۔