بہتان کیا ہوتا ہے؟

Peoples Slandering

Peoples Slandering

تحریر : ممتاز ملک
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ کسی کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اس میں نہیں ہے بہتان ہوتا ہے ۔ جی ہاں یہ بات درست ہے لیکن اس کی ایک اور وضاحت بھی بے حد ضروری ہے کہ صرف کسی کے بارے میں ایسی بات جس سے اس کی عزت کم ہوتی ہو کہہ دینا صرف بہتان ہی نہیں ہے بلکہ اس کے کئی مضمرات بھی ہیں ۔ ایک تو یہ بات اس میں ہے نہیں یہ گناہ اور، اس سے بھی بڑا گناہ یہ کہ ہم اس کے کردار پر کیچڑ اچھال کر اسے لوگوں کی نظر میں اس گناہ کے ذریعے گرانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس کا اس نے تصور بھی نہیں کیا ۔ بلکہ کسی بھی ایسی شخصیت پر جسے آپ کبھی ایسا خاص ملے نہیں ہیں یا جسے آپ صرف زبانی ہی یاکسی کے ساتھ ہوئے تذکرے میں جانتے ہیں یا کسی کی تحریر کے حوالے سے ہی اس کو تھوڑا بہت جانتے ہیں لیکن ذاتی جان پہچان نہیں ہے خاص طور پر اگر وہ ایک خاتون ہے تو اور بھی ذیادہ احتیاط لاذم ہے تبصرے میں لیکن ہم لوگ اسی کی ذات پر کوئی بھی فیصلہ کن تبصرہ بڑے آرام سے فرما دیتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ ہم بہتان تراشی جیسا گناہ کبیرہ انجام دے چکے ہیں۔

اب اسی بات کو ایک اور انداز میں دیکھیئے۔ کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےایک موقع پرایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی بات پر گواہی کے سوال پر پوچھا کہ کیا تم اس شخص کے رشتہ دار ہو؟ اس نے کہا نہیں ، کیا تم اس کے پڑوسی ہو ؟ کہا نہیں ، پھر پوچھا کیا اس کا اور تمہارا کبھی کوئی لین دین ہوا ہے؟ کہا گیا نہیں ، پھر پوچھا کیا اس نے کبھی تم سے کوئی وعدہ کیا ہے؟ کہا گیا نہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا، کہ تمہاری اس شخص کے بارے میں گواہی قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ جب تمہارا اس شخص سے ان معاملات کوئی تعلق ہی نہیں رہا، تو تم کیسے کہہ سکتے ہو، کہ وہ کیسا آدمی ہے؟۔

اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ایسے آدمی کی گواہی ہی اللہ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں نہیں مانی جاتی تو گویا اس نے ایسے شخص کے بارے میں جو کہا وہ کمزور علمی پر یا اندازے پر مشتمل ہے۔ تو اس کی بات بھی بہتان تراشی ہی میں شمار کی جائے گی ، کیوں کہ اس میں عملی پہچان کا کوئی کردار ہے ہی نہیں۔ اس بات پر غور کریں تو ہم ہر روز کسی نہ کسی صورت اس گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ جہاں ہمیں کسی بھی ملنے والے کی چار لوگوں میں عزت نظر آتی ہے جھٹ سے ہمیں حسد کا کیڑا کاٹتا ہے اور ہم اس پر طرح طرح کے بہتان لگا کر اسے ان لوگوں میں ذلیل کرنے کی مہم پر روانہ ہو جاتے ہیں۔

Things

Things

سب سے خاص بات یہ کہ یہ سب کرنے والے کوئی بلکل انجان بھی نہیں ہوتے ۔ بلکہ اکثر آپ کی دوستی کا دم بھرنے والے ہی ہوتے ہیں ۔ مثلا پاکستان کے بارے میں ہم بیرون ملک مقیم لوگ کوئی بات کریں تو فورا ہمیں کہا جایئگا کہ جی لیجیئے پیرس کے محلوں میں رہنے والے ہماری جھونپڑیوں کی فکر کرتے ہیں ۔( جبکہ پاکستان پر مصیبت آئی ہو تو بڑھ چڑھکر ہماری غیرتوں کو للکارا جا رہا ہوتا ہے ۔ حبُ الوطنی کا جوش دلایا جاتا ہے ۔)اب انہیں یہ کون بتائے کہ ہم اپنا لہو نچوڑ نچوڑ کر پاکستان کے دیئے میں روشنی رکھنے کے لیئے نوٹوں کی صورت تیل اپنا تیل نکال کر بھیجیتے ہیں۔ان نوٹوں کے بنا تو روٹی بھی نہیں آتی ، دوا بھی نہیں آتی ، اور تو اور اب تو انہی نوٹوں کے بنا کوئی سلام کا جواب بھی نہیں دیتا ۔ اور کتنے لوگوں نے پاکستانیوں کے محل دیکھے ہیں۔

پاکستان کے دو کمروں میں بیٹھے بھی آپ کو نوکرانیوں کی موج حاصل ہے جبکہ یورپ یا امریکہ میں آپ جان مار مار کر گھر لے بھی لیں تو بھی نوکر رکھنے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے ۔کیا یہ باتیں بھی بنا کسی ثبوت کے بہتان کے زمرے میں نہیں آتی ہیں ۔ ہو سکتا ہے وقتی طور پر بہتان لگانے والا اپنے کسی مذموم مقصد میں کامیاب بھی ہو جائے۔ لیکن کیا واپسی کا جو سفر اللہ کی جانب موت کی صورت مقرر ہے ۔ اس جگہ کی سزا کا بھی کوئی تصور اس نے کیا ہے کہ نہیں ہمیں چاہیئے کہ ان باتوں کو بھی اپنے دھیان میں رکھا کریں کیوں کہ کئی بار ہم بہت ہی چھوٹا سمجھ کربہت بڑا گناہ کرجاتے ہیں۔۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جس شخص کو جتنا ان معاملات میں جانتے ہیں ان کے بارے میں صرف اور صرف اتنی ہی رائے دی جائے کیوں کہ شرک اور بہتان تراشی بشکل گناہ کبیرہ کی جو سزا دنیا اور آخرت میں مقرر ہے اس کا احساس ہی ہمیں ہو جائے تو ہم نہ سو سکیں، نہ کھا سکیں، نہ ہی خوف خدا سے سر کو سجدے سے اٹھا سکیں، کیوں کہ یہ خوف ہی مار ڈالنے کے لیئے کافی ہے اللہ پاک ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Mumtaz Malik

Mumtaz Malik

تحریر : ممتاز ملک