سرینگر : ڈنگی وچہ رفیع آباد میں ایک عوامی اجتماع سے انجینئر رشید کا خطاب

Srinagar

Srinagar

سرینگر : ایم، ایل اے لنگیٹ اور سربراہ عوامی اتحاد پارٹی (AIP) انجینئر رشید نے کریلا، تامل ناڑو اور کرناٹکا کے وزراء اعلیٰ کی طرف سے بڑے گوشت کے حوالے سے ان کے اختیار کردہ موقف کو مفتی سرکار کے منہ پر زور دار طمانچہ قرار دیتے ہوئے اس سے اپنے موقف کی کامیابی قرار دیا ہے۔

ڈنگی وچہ رفیع آباد میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح تامل ناڈو سرکار نے کلکتہ میں بیف پارٹی منعقد کرنے کی اجازت دے دی اس سے ان لوگوں کو سمجھ آنا چاہئے کہ سرینگر کے ایم ایل اے ہوسٹل میں بیف پارٹی کا انعقاد کر کے ہم نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ انجینئر رشید نے کہا ۔” اگر چہ ہمیں گائے یا کسی اور حلال جانور کا گوشت کھانے کے لئے کسی کے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے لیکن جس طرح کیرالا، کرناٹک اور تامل ناڑو کے وزراء اعلیٰ نے اپنی اپنی ریاستوں کے ہندو اکثریتی آبادی ہونے کے باوجود عام لوگوں کے بنیادی اور مذہبی حقوق کا احترام کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے دبائو کو ماننے سے نکار کیا اس سے مفتی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی وہ ساری دلیل رد ہوجاتی ہے کہ ہم نے بیف پارٹی کا انعقاد کر کے کسی کے جزبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

دراصل مفتی صاحب ہر بات کو لیکر ناگ پور سے مشورہ کر کے سرکاری مشنری کو مسلم مخالف پروپگنڈے اور مسلمانوں کی آواز کو کچلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کولگام، پلوامہ ، شوپیاں اور اسلام آباد میں بد ترین طرح کی سرکاری دہشتگردی عروج پر ہے۔” انجینئر رشید نے کہا ۔” بجائے اس کے کہ مفتی صاحب دلی میں اپنے آقائوں کو یہ سمجھاتے کہ جن عسکریت پسندوں کو آپ دہشتگرد کہتے ہیں کشمیر میں لوگ ان کے جنازے میں شامل ہونے کے لئے تمام سرکاری بندشوں کو توڑکر ہزاروں کی تعداد میں امڈ آتے ہیں وہ رات دن کشمیریوں کی قوت مزاحمت کو ختم کرنے کے لئے پولیس کے افسروں کو ان کے ضمیر کے خلاف کام کرنے کے لئے مجبور کر کے انہیں نہتے اور پر امن احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔ دلی کے پالیسی سازوں اور خفیہ اداروں کو اس سوال کا جواب ڈھونڈھنا چاہئے کہ ابو قاصم جو ان کے بقول غیر ملکی تھاکے جسد خاکی کو دفن کرنے کے لئے کیوں تین ضلعوں کے لوگوں کے درمیان کھینچا تانی ہوئی۔

پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر جموں میں آر ایس ایس کے سرکاری سرپرستی میں پلنے والے دہشتگرد سرعام تمام قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر بندوقوں اور تلواروں کی نمائش کرکے سڑکوں پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے جلسے جلوس نکال سکتے ہیں تو کشمیر کے لوگ کسی جان بحق عسکریت پسند کے جنازے میں شرکت کیوں نہیں کر سکتے۔” انہوں نے ریاستی سرکار کو خبر دار کیا کہ وہ نہتے شہریوں پر مظالم ڈھانا بند کرے بصورت دیگر عوامی غیض و غضب سے مفتی اور اس کے حاشیہ برداروں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔