طالب علم غازی ولید خان کے ہمراہ اسکے والد گلزار محمد کا خصوصی انٹرویو

Ghazi Waleed Khan and Gulzar Mohammad

Ghazi Waleed Khan and Gulzar Mohammad

برمنگھم (ایس ایم عرفان طاہر سے) سانحہ پشاور آرمی پبلک سکول میں شدید زخمی ہونے والے برطانیہ میں زیر علا ج آٹھویں جماعت کے طالبعلم غازی محمد ولید خان کے والد گلزار محمد نے اپنے شدید زخمی بیٹے کے ہمراہ نوجوان صحافی و معروف کالم نگار ایس ایم عرفان طاہر کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج پاکستان اور حکومت خیبر پختونخواہ نے سانحہ پشاور آرمی پبلک سکو ل میں شہیدہو نے والے بچوں کے ورثا ء اور زخمی بچوں کے ساتھ جس ہمدردی اور محبت کا اظہا ر کیا ہے بے مثال ہے۔

انہو ں نے کہا کہ پاکستان آرمی کے آفیسرز اور جوانوں نے ہر زخمی بچے کو اس قدر پیا ر اور عزت سے نوازا ہے کہ انکے زخموں پر مرحم رکھا گیا ہے اور وہ اپنی افواج کے اس رویہ اور کردار کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ سانحہ پشاور میں زخمی ہو نے والے ہر بچے کی زندگی کو قیمتی جا نتے ہو ئے اور انکے علا ج معالجہ کے لیے تمام تر وسائل اور اختیارات کو بروئے کا ر لا یا گیا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ میرے بیٹے ولید خان کے چہرے پر دو فا ئر لگے تھے جس کی وجہ سے اسکے سا رے دانت اور جبڑے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے پہلے اسے سی ایم ایچ پشاور میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں بھرپور تحفظ فراہم کیا گیا اور جب پاک آرمی نے ضرورت محسوس کی تو اسے بر طانیہ میں علا ج کے لیے بھیج دیا گیا جو کے ایک مثبت اقدام تھا یہا ں پر کو ئین الزبتھ ہا سپٹل اور این ایچ ایس کے عملہ نے اس کی بہت زیادہ دیکھ بھال کی ہے پندرہ دن اسے انتہائی نگہداشت میں رکھ کر اسکا پو ری جانفشانی اور محنت سے علاج معالجہ کیا گیا ہے۔

کوئین الزبتھ ہسپتال کے عملہ نے ہمیں جس اپنائیت اور محبت و شفقت سے نوازا ہے ہم اس احسان کو کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں ۔ انہو ں نے میرے بیٹے کو اتنا پیا ر اور توجہ دی ہے کہ میں اس کا اظہا ر اپنے الفاظ میں نہیں کرسکتا ہو ں۔ انہو ں نے کہاکہ میرے بیٹے کے علاج معالجہ اور ہما رے غموں کے مداوا میں پاک فوج ، خیبر پختونخواہ حکومت ، قونصلیٹ جنرل آف پاکستان برطانیہ اور کوئین الزبتھ ہسپتال برمنگھم ( این ایچ ایس ) کا بہت زیادہ تعاون شامل ہے۔

انہو ں نے کہاکہ ولید خان کا علا ج بہترین طریقہ سے کیا جا رہا ہے اس کے منہ کے سارے دانت اور جبڑے گولیوں سے بہت زیادہ متا ثر ہوئے ہیں اسکا ایک آپریشن ڈاکٹرز نے کردیا ہے اسکے علا وہ مزید علاج معالجہ جا ری ہے جس کے لیے تقریبا دو سال کا عرصہ درکا ر ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ میں اور میری فیملی ولید خان کے علا ج معالجہ سے بالکل مطئمن ہیں اور شکر گزار ہیں ان احباب کا جنہوں نے اس دیا ر غیر میں ہمیں اپنا ئیت کا احساس دلایا اور ہمیں اخلا قی اور ہر طرح کی سپورٹ مہیا کی ۔ انہو ں نے اپنے معصوم بیٹے ولید خان پر وحشیانہ حملہ کرنے والوں کے حوالہ سے ایک سوال کا جواب دیتے ہو ئے کہاکہ ہما ری طا قت یا بساط ہر گز نہیں ہے کہ ہم ان دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کو مقابلہ کر سکیں بس اللہ رب العزت سے یہ دعا ہے کہ ان لوگوں کو راہ راست پر لے آئے یا انکا خاتمہ فرما دے۔

انہو ں نے کہاکہ دہشتگردوں کے خلا ف جو مسلح افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا ہے وہ نہا یت ہی احسن اقدام ہے اور اس سے وہاں کے عام لوگوں کو خاصا تحفظ اور امن حاصل ہوا ہے میری اپنے تمام مسلمان اور پاکستانی و کشمیری بھائیوں سے التجا ہے کہ دہشتگردوں کے خلا ف اس آپریشن میں پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیں کیونکہ اگر ہما ری فوج مضبوط ہوگی اور انہیں حوصلہ افزائی حاصل ہوگی تو وہ زیادہ جوش و جذبے اور قوت کے ساتھ منفی عناصر اور شر پسندوں کا خاتمہ کر سکیں گے۔

انہو ں نے حکومت پاکستان ، خیبر پختونخواہ اور مسلح افواج پاکستان کے سربراہان وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، عمران خان اور جنرل راحیل شریف سے اپیل کی کہ جو بھی میرے بیٹے کے علا وہ معصوم طالب علم سانحہ پشاور میں شدید زخمی ہو ئے ہیں اگر ان میں سے کسی کو بھی اگر ضرورت ہے تو اسے علا ج معالجہ کے لیے بیرون ملک بھیجا جا ئے اور انکے ساتھ بھرپور تعاون کیا جا ئے تا کہ پاکستان کا یہ روشن مستقبل بچے دوبارہ صحت یا ب ہو کر اپنی تعلیمی سرگرمیا ں جا ری رکھتے ہو ئے پو ری دنیا میں اپنے ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔