سویڈش رہنما داگ ھمار شولد اور علامہ اقبال کی فکر کا تقابلی جائزہ

Dag Hammarskjold

Dag Hammarskjold

تحریر : ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
مشرق اور مغرب کے فلسفیوں کے خیالات اور نظریات میں جہاں کئی اختلافات ہیں وہاں بہت سے مشترکہ تصورات بھی موجود ہیں ۔ علامہ اقبال نے خود اپنا موازنہ مغرب کے مشہور فلسفی گوئٹے کے ساتھ کیا ہے۔ کائنات اور انسان کے بارے میں مغرب و مشرق کے ان دو عظیم فلسفیوں میں بہت سی مشترکہ قدریں موجود ہیں۔ گوئٹے اور اپنا موازنہ کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں ہر دو دانائے ضمیرِ کائنات ہر دو پیغامِ حیات اندر ممات ہر دو خنجر صبح خند، ا ئینہ فام او برہنہ، من ہنوز اندر نیام کوپن ہیگن میں مقیم اقبال اکیڈمی اسکینڈے نیویا کے چئیرمین غلام صابر نے ڈنمارک کے معروف فسلفی سورن کییرکگور اور علامہ قبال کا بہت عملی انداز سے موازنہ اپنی کتاب “Kierkegaard and Iqbal” میں کیا ہے۔ علامہ اقبال کے نظریات اور یورپی فلفسیوں کے ان خیالات و نظریات میں ہم آہنگی اور ان کا تحقیقی مطالعہ بہت دلچسپی کا حامل ہے۔

اسی جستجو میں میری کوشش تھی کہ علامہ اقبال اور کسی سویڈش شخصیت کے نظریات میں ہم آہنگی تلاش کی جائے۔ یہ رہنمائی سویڈن میں پاکستان کے سفیر جناب طارق ضمیر نے یوم پاکستان کی تقریب میں علامہ اقبال اور سویڈن کے رہنماء داگ ھمار شولد( Dag Hammarskjöld) کے نظریات میںمطابقت پیش کرتے ہوئے کی۔ یوم پاکستان کی اس تقریب میں سویڈن میں موجودنیا بھر کے سفارتی نمائندے اور اہم سویڈش شخصیات موجود تھیں۔ سفیر پاکستان جناب طارق ضمیر بھی ہماری طرح اقبالی ہیں اور جب انہوں نے داگ ھمارشولد اور علامہ اقبال کے مشترکہ نظریات کے کچھ حوالے پیش کئے تو جستجو ہوئی کہ داگ ھمارشولد کے پیغام کو مزید سمجھا جائے۔ان کی ڈائری جو بعد ازاں ایک کتاب بعنوان Markings شائع ہوئی جو سویڈش زبان میں Vägmärken کے نام سے دستیاب ہے اور یہ اُن کی واحد کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے جو نظریات اور خیالات پیش کئے ہیںاُن میں سے بہت سے علامہ قبال کے نظریات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

شائد ان تک کسی صورت میں پیغام اقبال پہنچا ہو کیونکہ داگ ھمارشولد کی پیدائش ١٩٠٥ ء کی ہے یعنی جب وہ زمانہ طالب علمی میں ہوں گے تو ممکن انہوں نے کلام اقبال کا مطالعہ کیا ہو یا پھر ہوسکتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہواس لیے اس پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔داگ ھمار شولد سویڈن کے اہم رہنما، ماہر اقتصادیات اور سفارت کار تھے۔ وہ اقوام متحدہ کے دوسرے سیکریٹری جنرل تھے جو١٩٥٣ء سے لے کر ١٩٦١ء اس عہدے پر اپنی وفات تک فائیز رہے ۔ انہیں ١٩٦١ء میںان کی وفات کے بعد امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ جب وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل تھے تو اُن کے دور میں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا ایک اہم زیر بحث مسئلہ تھا۔ انہوں نے اس مسئلہ کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے ایڈمرل نمٹز کو ناظم استصواب رائے بھی مقرر کیا تاکہ ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اپنی مرضی سے آزدانہ رائے شماری سے کرسکیں۔

India

India

لیکن افسوس ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور حکومت پاکستان کی ناقص سفارتی حکمت علمی سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور اقبال کا وطن آج بھی صبح آزادی کا منتظر ہے اور مجبو ر و محکوم و فقیر ہے۔ داگ ھمارشولد کو دنیا کی بہت سی جامعات نے اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا جبکہ مختلف ممالک میں بہت سی اہم عمارتیں اور سڑکوں کے نام بھی اُن سے موسوم ہیں۔کئی ممالک نے ان کے نام کی یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے اور خود ان کے اپنے ملک سویڈن میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے کرنسی نوٹ یعنی ایک ہزار کرونا پر ان کی تصویر ہوگی۔ یہ وہ خراج عقیدت ہے جو انہیں آج بھی پیش کیا جارہا ہے۔ امریکی صدر جان ایف کینڈی نے اُن کی خدمات کا یوں اعتراف کیا کہ انہیں اس صدی کا سب سے بڑا Statesman قرار دیا۔

علامہ اقبال نے خودی ، عظمت انسان، عزت نفس، اخوت اور بھائی چارے کا جو درس دیا اس کا عکس ہمیں داگ ھمارشولد کی تحریروں میں ملتا ہے۔ جب سویت یونین نے ان پر دبائو ڈالا کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریرٹری جنرل کے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں تو انہوں نے اس دبائو کے آگے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی طاقت کی خواہش کے آگے جھکنا بہت آسان ہے مگر حرف انکار کہنا اور بات ہے۔ دنیا کی وہ اقوام جو تنظیم کی بہتری اور دنیا کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں اگر وہ مجھ سے مطالبہ کریں تو میں ایسا ضرور کرتا۔علامہ اقبال اور داگ ھمار شولد نے منکرین حق کو نقطہ توحید بڑے بین دلائل کے ساتھ سمجھایا ہے۔ وحدانیت اور تلاش حق کی بابت انہوں نے بہت خوبصورت لکھا ہے کہ میں ترجیح دوں گا کہ میں خدا پر ایمان رکھتے ہوئے زندگی گذاروں بے شک مرنے کے بعد یہ پتہ چل بھی جائے کہ خدا تو تھا ہی نہیں۔

میں یہ نہیں کرسکتا کہ کہ میں کہ خدا کا منکر رہ کر زندگی بسر کروں اور مرنے کے بعد مجھے خدا کا سامنا کرنا پڑے۔ دنیا ایک اور بڑے ریاضی دان نے خدا کے موجود ہونے کی کچھ ایسی ہی دلیل دی ہے اور علامہ اقبال نے بھی خوب کہا کہ بیاں میں نقطہء توحید تو آسکتا ہے ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے داگ ھمارشولد بھی اپنی تحریوں میں عمل اور جدوجہد کا جذبہ محرکہ پیدا کرتے ہیں تاکہ انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا ترقی کی منازل طے کرے۔ یہی پیغام ہمیں حکیم الامت کی تعلیمات میں بھی ملتا ہے۔ مشرق و مغرب کے ان دونوں عظیم فلاسفیوں پر تحقیقی کام کرنے کی ضروت ہے اور ممکن ہے کہ یہ کالم اس بڑے کا م کا آغاز ہو۔

Arif Kisana

Arif Kisana

تحریر : ڈاکٹر عارف محمود کسانہ