سوئیٹزرلینڈ : ایمبیسی آف پاکستان برن کا احسن اقدام

Dead Body

Dead Body

سوئیٹزرلینڈ (سید علی جیلانی) سوئیٹزرلینڈ دنیا کا خوبصورت ترین ملک ہے اور آپ نے یہ قول ضرور سنا ہو گا کہ دنیا کا کوئی حصہ یا خطہ ایسا نہیں جہاں پاکستانی موجود نہ ہو اسی طرح سوئیٹزرلینڈ میں بھی پاکستانی تقریباً 7 یا 8 ہزار ہیں لیکن ابھی تک کوئی اجتماعی پاکستانی تنظیم نہیں بناسکے جو یہاں مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرسکے لیکن کچھ مخلص لوگ ہیں جو انفرادی طور پر پاکستانیوں کیلئے کچھ نہ کچھ پروگرام کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کا اور فیملیز کا آپسمیں رابطہ رہے۔

پچھلے دنوں ایک پاکستانی کا سوئیٹزرلینڈ کے شہر فرائی برگ Friburg میں انتقال ہو گیا اور اس شخص کا یہاں کوئی رشتہ دار نہ تھا اسپتال والوں نے کہا کہ اس شخص کو 3 دن کے اندر اندر لے جائیں ورنہ لاش کو جلا دینگے اس چیز کی اطلاع جب جناب جاوید مغل، عاشق حسین اور راجہ تصدق زماں کو ہوئی تو انہوں نے اپنے دوستوں سے رابطہ کیا اور چندے کی اپیل کی کہ اس میت کو پاکستان بھجوا سکیں لیکن انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

اسی دوران ان کا رابطہ ممتاز مذہبی اسکالر سید علی جیلانی سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں انشاء اللہ کرتا ہوں انہوں نے فوراً چارج دی افیئر جناب مراد بصیر صاحب سے رابطہ کیا اور سارا معاملہ بیان کیا جناب مراد بصیر صاحب نے فوراً ایکشن لیا اور ایمبیسی Embassy کے عملہ کو ہدایت کی کہ ساری کاغذی کارروائی تیزی سے کریں اور اس میت کو پاکستان بھیجنے کیلئے سارا خرچہ جناب مراد بصیر صاحب کے تعاون سے ایمبیسی آف پاکستان نے برداشت کیا۔

اس اقدام سے پاکستانیوں کے دل مسرت سے کھل گئے اور وہ ماں جو اپنے بچے کا آخری دیدار کرنے کیلئے تڑپ رہی تھی اسکو بھی میت اپنے سامنے دیکھ کر تسلی ہوئی اور اسکے ہاتھ دعاؤں کیلئے اٹھ گئے اللہ تعالیٰ جناب مراد بصیر صاحب کے اس اقدام کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

Ali Jilani

Ali Jilani

Ali Jilani

Ali Jilani

Ali Jilani

Ali Jilani

Dead Body

Dead Body