سیداحمد قادری کا چوتھا افسانوی مجموعہ ملبہ منظرعام پر

MALBA

MALBA

اردو کے مشہور و مقبول افسانہ نگار سید احمد قادری کا نیاافسانوی مجموعہ’ ملبہ منظر عام پر آگیا ہے۔اس افسانوی مجموعہ سے قبل سید احمد قادری کے تین افسانوی مجموعے ‘ریزہ ریزہ خواب’ (1985) ، دھوپ کی چادر (1995) اور پانی پرنشان (2006) شائع ہوکر مقبول عام ہوچکے ہیں۔ سید احمد قادری کے نئے افسانوی مجموعہ ‘ملبہ’میںکل 42 افسانے شامل اشاعت ہیں۔ جن میں بیشتر افسانے ہندوستان ، پاکستان، لندن، امریکہ اور جرمنی کے رسائل میں شائع ہو کر شرف قبولیت حاصل کر چکے ہیں۔

ان افسانوں سے متعلق بہت سارے ناقدین اورقارئین کے علاوہ کئی اہم فنکاروںنے اپنے تاثرات پیش کئے ہیں۔افسانہ’ملبہ’سے متاثرہوکر معروف افسانہ نگار اورناول نگار شموئل احمدے لکھاہے کہ” بڑی طاقتیں جب کمزور ملکوںپر بموںکے کارپٹ بچھاتی ہیں، جب بربریت اپنے خونی پنجے پھیلاتی ہے، تووہ آنکھ جس سے آنسو کا پہلا قطرہ ٹپکتاہے، وہ فنکارکی آنکھ ہوتی ہے۔افسانہ’ملبہ’ سید احمد قادری کی آنکھ سے ٹپکاہواآنسوہے جوصفحہ قرطاس پرپھیلااور افسانہ بنا۔”ایک دوسرے افسانہ ‘سوابھیمان پر لاہور سے قیصر نذیر خاور لکھتے ہیں کہ سید احمد قادری کی تحریر یقینی طورپرایک عمدہ افسانوی تحریرہے اوراسے بیانیہ کہانی یا داستان کہنا صریحاً غلط ہوگا۔

انھیں مسلمان ہونے کے باوجود ہندو رسموں اور ریتی رواج کی جانکاری ہے۔ جسے انھوں نے انتہائی خوبصورتی سے افسانے میںبرتاہے۔با لکل اسی طرح ، جس طرح منٹو اپنے ان افسانوں میں برتتا ہے ۔جس کے کردار ،ماحول،اسلام سے باہر موجود ہوں۔ قادری صاحب کاایک اورکمال اس افسانے میں کھل کرسامنے آتاہے جوانھوںنے مگدھی پراکرت کواردو میںسموکر دکھایاہے۔قادری صاحب عمدہ بلکہ بہت ہی عمدہ اسب کاری ہیں۔آپ نے یہ افسانہ لکھ کر ادب میںبنگال کی روایت یاد کرادی ہے۔ مشہور نقاد پروفیسر محمد محفوظ الحسن نے ‘ملبہ’ کے افسانوں پراپنے تاثرات کااظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مختلف موضوعات پرمشتمل یہ کہانیاں آج کے مغربی و مشرقی ملک کی تہذیب وثقافت کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی سیاسی اورسماجی اور اخلاقی صورت حال کو درشاتی ہیں۔

کہانی کہنے اور فنی طورپر اس کونک سک سے درست کرنے کاہنر سیداحمدقادری کوآتاہے۔اس لئے یہ کہانیاں متاثر کرتی ہیں” ۔ افسانوی مجموعہ’ملبہ’کے افسانوںکے مطالعہ کے بعدمعروف نقاد ڈاکٹر عاصم شہنوازشبلی بتاتے ہیںکہ سید احمد قادری کے افسانے اپنے زمانے کی تاریخی ،نفسیاتی اورانسانی مسائل کے لوازمات کی پاسداری کرتے ہیں۔ان کے افسانے ربط ویاس اور پیچیدہ بیانی سے مبّرہ ہیں۔سیداحمدقادری کے افسانوںمیںداخلی وخارجی تعلقات،ان کی شکست اور خاص طورپر بدلتے حالات میںعورت اور مردکے مقام روائی فوکس ہوتے ہیں”۔سید احمد قادری کے افسانوی مجموعہ’ملبہ’کے افسانوںکوجس طرح پسندکیاجارہاہے اور پزیرائی ہو رہی ہے، یہ اس امر کااشاریہ ہے کہ سید احمد قادری کے یہ افسانے ، افسانوی ادب میں قابل قدر اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی کے زیر اہتمام شائع اس بے حدخوبصورت اور معیاری افسانوی مجموعہ ‘ملبہ’ کے منظرعام پرآتے ہی ادبی حلقوںمیںجس طرح زیربحث ہے۔اس سے ‘ملبہ’کی شہرت اور مقبولیت کااندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

MALBA

MALBA