سوچ کا سفر

Relationships

Relationships

تحریر: شاز ملک
اعتبار کے سیمنٹ کو محبت کے پانی میں گھول کر وفا کی زمین پر انسانی رشتوں کی مضبوط عمارت تعمیر کی جاتی ہے تاکہ انسان تنہایی کا احساس نہ کر سکے اجنبیت کی گرم دھوپ سے اور فریب کی تیز آندھیوں سے بچ کر رشتوں کی اس عمارت میں پناہ گزین ہو کر تحفظ اور اپنایت کے احساس کو محسوس کر سکے اور ایک معاشرتی نظام میں ترتیب و توازن کے ساتھ محبت کے اصولوں کو قائم رکھ سکے اور کسی بھی انسانی خلفشار کا شکار نہ ہو سکے ‘ یہ معاشرتی نظام الله تبارک کی طرف سے دیا گیا تاکہ انسان کے دل دوسرے سے ہر احساساس میں جوڑے رہیں۔

ہماری مقدس کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں ہمیں زندگی کے ہر پہلو پر معاشرتی سماجی دینی دنیاوی رہنمایی ملتی ہے کہیں کوئی تشنگی نہیں مگر اسکے باوجود آج کے اس دور میں ہم انسان خلفشار کا شکار ہیں طبقے گروہ بندیاں فتنوں سے دوچار ہیں – کیونکہ ہم لوگ اجتماعیت کو چھوڑ کر انفرادی راستے پر چل نکلے ہیں جہاں صرف اپنی ذات سے آگے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی – یہی وجہہ ہے کہ اب ہمارے رشتوں کی بنیاد میں مفاد پرستی اور حسد کی دیمک لگ جانے سے محبت کی امارت کھوکھلی ہو کر زمین بوس ہو چکّی ہے -انسان جتنا تنہا آج کے دور میں ہے پہلے کبھی نہ تھا۔

Desire

Desire

بے بہا ترقی آسائشات کے حصول کے بعد بھی بے سکوں اور انتشار میں گھرا ہوا ہے بےانتہا بیماریوں کا شکار ہو چکا ہے ´جسمانی بیماریوں کے علاوہ جوعوارض روح کو لاحق ہیں انکا کوئی علاج نہیں کر پایا اور کرے بھی کیسے؟ کہ ارواح تو انسان کے بغض حسد کینے لالچ کے کالے دھبوں سے گندگی میں ادھ موئی خواہشوں کے ہجوم بیکراں میں گہنا کر کھو چکی ہیں کہ اپنی لافانیت کے احساس کو کھو بیٹھی ہیں۔

بے ثباتی اور فنائیت کا احساس بھی ماند پڑ چکا ہے -حرص و ہوس کے میدان حیات میں انسانیت لاچار و بے دم برہنہ پا کھڑی ہے -رشتوں کی دردیدہ چادر بے حسی کے نوکیلے خار دار کانٹوں میں الجھ کر خستہ حال ہو چکی ہے انسانی روحیں پس مردہ ہو چکی ہیں -دل مردہ تو روحیں بے آس ہو چکی ہیں۔

Quran o Sunnat

Quran o Sunnat

زندگی انسانیت اور رشتوں کے کرب نا رسائی کے جالوں کو تن خاکی سے دور کرنا ہے تو قرآن و سنت کی ہدایت کی روشنی کی جانب سفر کرنا شروع کیجئے تاکہ ہم سب کو فتنوں آفتوں کے اس دور میں چین و سکون اور عافیت کی گھڑیاں نصیب ہوں اور ہماری آنکھوں پر بندھی ناعاقبت اندیشی کی گرہ کھولیں اور دین کو سمجھ کر قرآن و سنت کی ہدایت کے چراغ جلا کر ہر طرف اجالے بکھیرے´ آمین۔

تحریر: شاز ملک