پریس کلب فرانس کے زیر اہتمام یوم قرارداد پاکستان کے حوالے سے ایک منفرد تقریب

Press Club France

Press Club France

پیرس (ممتاز ملک) 2 اپریل 2016 بروز ہفتہ پریس کلب فرانس کے زیر اہتمام یوم قرارداد پاکستان کے حوالے سے ایک منفرد تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب میں شرکت دعوت ناموں کے ذریعے رکھی گئی تھی. تمام شرکاء محفل نہایت احترام کیساتھ دعوت نامہ سے مدعو کئے گئے تھے اس لیئے کسی قسم کی ہڑبونگ کہیں بھی کسی موقع پر دیکھنے میں نہیں آئی . پروگرام کے منتظمین میں صدر پریس کلب فرانس صاحبزادہ عتیق الرحمن صاحب ، سیکٹری میاں امجد صاحب ، صدر خواتین ونگ محترمہ آصفہ ہاشمی صاحبہ شامل تھیں . تمام سیاسی اور سماجی اداروں اور پارٹیز کے مرکزی عہدیداروں اور صحافیوں کی نمائندگی موجود تھی. پروگرام کی صدارت فرانس میں تعینات ہر دلعزیز سفیر پاکستان محترم غالب اقبال صاحب نے کی . جنہوں نے ہمیشہ کی طرح محفل میں موجود ہر شخص اور ہر بات پر اپنی توجہ مرکوز رکھی . تقریب کی نظامت میاں امجد صاحب نے فرمائی .پاکستان کے حالات پر تمام مقررین نے اپنے اپنے انداز میں روشنی ڈالی اور اسے بدلنے کے لیئے خود کو بدلنے پر زور دیا . جب تک ہم خود اپنے آپ کو تبدیل نہیں کریں گے اپنی عادات میں مثبت تبدیلیاں نہیں لائیںگے تب تک یہ سب باتیں محض باتیں ہی رہیں گی . تقریب کی خاص بات تمام کمیونٹی کی جانب سے سفیر محترم جناب غالب اقبال صاحب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کی گئی . جبکہ ایسے فرنچ پاکستانی نوجوانوں کو شیلڈ پیش کی گئی جنہوں نے کسی نہ.کسی میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا . شیلڈ حاصل کرنے والوں میں بہادری کی شیلڈ واصفہ اسلم کو دی گئ جس نے پیرس سے دور اپنی عمارت میں آگ لگنے پر بروقت فائر برگیڈ کو بھی اطلاع دی اور اپنی جان پر کھیل کر اس عمارت سے بہت سی جانوں کو بچایا .

جس پر تمام فرانسیسی پریس اور میڈیا نے ان پر شاباشی تبصرے بھی شایع کیئے اور اعزازات سے بھی نوازا. جبکہ اس کے علاوہ ڈاکٹر رضوانہ جمیل ، تبسم سلیم ،عاکف غنی ، کے ٹو سرکل کے ذاکر صدیق ، مسلم ہینڈز کے مبشر ملک ، یاسر الیاس ،علی اشفاق ، کو بھی شیلڈ پیش کی گئی . تقریب میں پچھلے دنوں سفیر صاحب پر ہونے والے نازیبا الفاظ اور اعتراضات پر مبنی آ رٹیکلز بھی زیر بحث رہے . اور سبھی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اور قرار داد مذمت بھی منظور کی . جبکہ غالب اقبال صاحب نے تمام لوگوں پر زور دیا کہ انہیں اپنے تین سالہ دور سفارت کاری میں جب بھی کوئی شکایت موصول ہوئی انہوں نے اس پر سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے جب کسی نے ملاقات کا وقت مانگا اسے ہر ممکن وقت دیا گیا ہے . جب کہیں مدعو کیا گیا اور وہ ان تاریخوں پر دستیاب تھے تو ضرور وہاں شامل ہوئے ہیں . اس صورت حال میں مجھ پر لچر الزامات کا لگنا میری کردار کشی کرنا نہایت افسوسناک ہے . انہوں نے مزید کہا کہ مجھ پر کیچڑ اچھالنے والوں کو میں چیلنج کرتا ہوں کہ دو بار یہ بے ہودہ حرکت ہو چکی ہے جسے میں نظر انداز کر چکا ہوں لیکن اب میں یہ اعلانیہ کہتا ہوں کہ ایک اور بار یہ حرکت دہرایئے تو میں آپ سب کے سامنے یہ اقرار کرتا ہوں کہ اسے جو بھی شرعی اور قانونی حدود کے اندر سزا موجود ہے اسے وہ دلوا کر رہونگا . ہم نے آج تک غالب اقبال صاحب کو بڑی ٹھنڈی میٹھی باتیں کرتے ہی سنا تھا لیکن آج پہلی بار ان کا یہ گرما گرم خطا سن کر معاملے کی سنگینی کا احساس شدت اختیار کر گیا .خطاب کے دوران سفیر محترم نے اپنے ماتھے پر آیا پسینہ بھی کئی بار پونچھا اور پانی کے دو گلاس بھی پیئے . یہ موسم کا اثر تھا یا سفیر محترم کے جذبات یا دونوں …
لیکن ان کی ہر بات مدلل تھی اور ہمیں ان سے مکمل اتفاق تھا .

پروگرام کے اختتام پر وہ ایک ایک سے فردا فردا آ کر ملے انکی خیریت دریافت کی اور ان کے مسائل بھی دریافت کیئے . امید ہے آئندہ بھی فرانس میں پاکستانی نوجوانوں اور افراد کی محنتوں کو اسی طرح سراہا جاتا رہیگا . اعزازات کی تقسیم کے سلسلے کو شفاف اور بلا کسی تفریق کے جاری رکھا جائیگا . یہ ایک بے حد خوبصورت پروگرام تھا. جسے مزید تیاری سے اور بھی خوبصورت بنایا جائیگا . اس پروگرام میں مجھ ناچیز کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی . جس کے لیئے میں صاحبزادہ عتیق الرحمن، میاں امجد اور آصفہ ہاشمی صاحبہ کی تہہ دل سے ممنون ہوں . ایسے پروگرام کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی. اس پروگرام کی کامیابی پر ہم دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے پریس کلب فرانس کو مبارکباد پیش کرتے ہیں .