خبردار! پاکستان میانمار نہیں

Warning

Warning

تحریر: ممتازملک۔ پیرس
ہندوستان کے ساتھ چینی ،آلو ،پیاز اور ٹماٹر کی تجارت کرنے والے سائیں وزیر اعظم پاکستان جاگیئے اور ہندو ٹیریرسٹ کو جواب دیجیئے کہ پاکستان میں ستر سال کے دوران ہونے والے جرائم کو دھڑلے سے قبول کرنے پر اب اسے قرار واقعی سزا کے لیئے بھی تیار ہو نا چاہیئے۔ کل تک جب یہ ہی باتیں کوئی بھی پاکستانی کرتا تھا تو اسے محض الزام تراشی قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس بات کو وقت نے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی اپنے موقف میں کس قدر سچے تھے۔ لیکن ہندو دہشتگردی کو ہوا دینے والے امریکی اور یورپی کٹھ پتلیاں ہلانے والے اسے خطے کا مزید بڑا بدمعاش بنانے کے لیئے اس کی پیٹھ تھپکتے رہے۔

افغانستان میں افغانیوں کو اپنے پراکسی وار کے ذریعے ٹٹّو بنانے کا خواب بلی کے خواب میں چھیچھڑے ہی نہیں ثابت ہوا بلکہ پاک چائینہ راہداری کے منصوبے کے آغاز کی خبر بھی ہندو دہشتگروں پر بجلی بن کر گری ہے۔ اس لیئے زخم چاٹتا ہوا کل تک کے صرف ہندوستانی مسلمانون کے قاتل جانے جانے جانے والے ٹُن مردودی صاحب اب پاکستان میں بدترین قتل عام کا اعتراف ہی نہیں کر رہے بلکہ غصے سے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے بنگلہ دیش کے پاکستان سے توڑے جانے کی بھی کرتوت مان ہی نہیں رہے بلکہ سینہ پھلائے اس پر کسی تمغے کے بھی منتظر ہیں۔ اور پاکستانی سیاستدان منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہنے کے موڈ میں ہیں تو اب عوام کو انہیں غیرت کی سوئیاں چُبھو چُبھو کر بیدار کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے ۔ انیس سو اڑتالیس میں برما کے مسلمانوں نے پاکستان سے محبت کا جو قصور کیا تھا ۔ کیا ہم ستّر سال بعد بھی بے غیرتی سے اس کا تماشہ ہی دیکھتے رہیں گے تو پھر ان لیڈروں کو بھی اعلانیہ سر منڈا کر ہندو چوٹی رکھ کے دھوتی باندھ کر تلک لگا ہی لینا چاہیئے ۔

Muslim

Muslim

کیوں کہ مسلمان ہونے کا فرض وہ ادا نہیں کر پا رہے اور مسلمان ہونا اتنا بھی آسان نہیں ہے۔امتحان دین میں پورا اترنے کا وقت ہے تو آگے بڑھ کر ہندو ٹیریرسٹ کو منہ توڑ جواب دیجیئے اور اسے بتا دیجیئے کہ ہماری قوم نہ تو معمولی قوم ہے نہ ہماری افواج معمولی افواج ہیں اور نہ ہی ہمارا دین کسی بذدل کو مسلمان کہلانے کی اجازت دیتا ہے ۔ لوہے کا کلیجہ چاہیئے دین الہی کو اختیار کرنے کے لیئے۔ تب کوئی مسلمان ہوا کرتا ہے ۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور وقتی مفادات کو ایک طرف پھینکتے ہوئے جواب دیجیئے میاں صاحبانِ ، کہ پاکستان کو میانمار سمجھنے کی بڑھک مارنے والو ایسا سمجھنے کی غلطی کبھی مت کرنا ، ورنہ تمہیں تمہاری ہی زمین پر چن چن کر بھی ماریں گے اور گنتی کرنا بھی خوشی سے بھول جائیں گے۔

آج جو کچھ کرنا ہے اس کے لیئے ہم صرف حکومت پاکستان کو ہی نہیں دیکھیں گے بلکہ غیرت مند پاکستانی دنیا میں جہاں کہیں ہے اس کے پاس پرنٹ میڈیا ایک طاقتور ہتھیار کی طرح موجود ہے اور ہمیں ہندو اور بدھ ٹیرررسٹ کو بتانا ہے کہ ہم ہر ہتھیار چلانا جانتے ہیں چاہے وہ تلوار کا ہو یا پیار کا۔ اور انشاءاللہ بہت جلد ہندوستان کو اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ کی قیمت بھی ُچکانی پڑے گی اور اس پر پر شدید ترین افسوس بھی کرنا ہی پڑے گا ۔ جاگ پاکستانی جاگ اور بتا دے کہ پاکستان میانمار نہیں ہے ۔ توڑ دینگے ہم ہر وہ ہاتھ جو پاکستان کی سلامتی کی جانب اٹھے گا ۔ چاہے اس کے لیئے ہمیں خود ہی کیوں نہ فنا ہو جانا پڑے۔

Mumtaz Malik

Mumtaz Malik

تحریر: ممتازملک۔ پیرس