پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں کثیر ثقافتی میلے میں پاکستانی مصنوعات نمایاں

Festival Warsaw

Festival Warsaw

وارسا (پ۔ر) پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں کثیرالملکی ثقافتی میلے کے دوران پاکستانی ملوباسات اور کھانوں کے سٹال منفرد اور نمایاں رہے۔ متعدد ممالک کے سفارتخانوں کی طرف سے لگائے گئے کے ثقافتی میلے کے دوران ساٹھ سے زائد ممالک کی مصنوعات اور دستکاری کا سامان فروخت کے لیے رکھا گیا۔

اس سالانہ میلے کا اہتمام وارسا میں سفیروں کی بیگمات کی تنظیم ’’شوم‘‘ کرتی ہے۔ پولینڈمیں پاکستان کے سفیرڈاکٹر خالدحسین میمن کی اہلیہ بھی اس تنظیم کی ایگزیکٹو ممبر ہیں اورانھوں نے پاکستانی سٹالوں اور خاص طورپر اس میلے کے لیے پاکستانی کھانے تیار کروانے میں بہت فعال کردار ادا کیا۔

خواتین کی شالوں اور لباس میں شرکاء نے کافی دلچسپی لی۔سٹالوں کے پس منظرمیں پاکستان کے خوبصورت مقامات اور پاکستان کے بانی قائداعظم اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی تصاویرلگائی گئی تھیں۔ بیگم ڈاکٹر خالد میمن کا کہناہے کہ اس میلے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پولینڈمیں خیراتی اداروں کو دیاجاتاہے تاکہ اسے مستحق لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔

پاکستان کے سفیرڈاکٹرخالدمیمن جو اس میلے کے دوران موجودتھے، کاکہناہے کہ اس میلے میں شرکت سے پاکستانی امیج کوبہتربنانے میں مددملے گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہاکہ اس میلے میں پاکستان کی شرکت سے پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر اجاگرہوگا۔ان کے بقول، یورپ میں لوگوں کو بتاناضروری ہے کہ پاکستان کی ثقافت کیاہیں اورپاکستانی لوگوں کا رویہ دیگرممالک کے بارے میں کتبامثبت اور تعمیری ہے۔

اس موقع پرموجودپاکستانی دانشورسید سبطین شاہ نے کہاکہ گذشتہ دوتین عشروں سے خطے کے گھمبیرحالات نے پاکستان کے امیج کو دنیامیں بری طرح متاثر کیاہے لیکن پاکستان اپنی ثقافت کے ذریعے اس امیج کو درست اور اپنے آپ کو دنیاسے نزدیک کرسکتاہے۔سیدسبطین شاہ انتہاپسندی اور عالمی سلامتی کے موضوع پر تحقیق کے لیے ان دنوں یورپ میں ہیں۔

میلے کے دوران پاکستانی کھانوں کو لوگوں نے بڑی دلچسپی سے خریدا اورخاص طورپرپاکستانی مصالحہ جات نے کھانوں کی ذلت کو دوبالا کردیاتھا۔اس دوران پاکستانی سفارتی مشن کے ڈپٹی ہیڈآف مشن شفقت خٹک اور دیگرعملہ بھی موجودتھے۔بہت سے سٹاف کی بیگمات نے بھی اس سٹالوں کو لگانے اوردیکھ بھال کرنے میں بھرپور تعاون کیا۔