انسانی حقوق کی گھمبیرصورتحال اورہمسایو ں سے کشیدگی کیساتھ بڑی طاقت نہیں بن سکتا، پاکستانی ریسرچرسبطین شاہ

Sibtain Shah

Sibtain Shah

وارسا(پ۔ر) بھارت نسلی ومذہبی تفریق، انسانی حقوق کی گھمبیرصورتحال اورہمسایو ں سے کشیدگی کیساتھ ایک بڑی طاقت نہیں بن سکتا۔ایک بڑی اور عالمی طاقت بننے کے لیے صرف زیادہ فوجی سازوسامان اوربڑے سازکا جمہوری ملک ہوناکافی نہیں، نہ ہی یہ ایک بڑی طاقت کا پیمانہ اورمعیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستانی پی ایچ ڈی سکالراورمحقق سیدسبطین شاہ نے ’’کیا بھارت ، یورپی اوربھارتی نقطہ نظرسے ایک ابھرتی طاقت ہے؟‘‘ کے موضوع پر یونیورسٹی آف وارسا (پولینڈ)میں ایک کانفرنس کے دوران کیا۔اس کانفرنس کا انعقادپولش ایسوسی ایشن فار انٹرنیشنل سٹڈیز،سنٹرفار یورپ، انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز یونیورسٹی آف وارسا نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اورہندوستان کی کلکتہ یونیورسٹی، منی پال یونیورسٹی اورجواہرلال یونیورسٹی کے تعاون سے کیا۔ کانفرنس سے یونیورسٹی آف وارسا کے پروفیسر یاکوب زاینسکی، الکسنڈرا جاسکولسکا، ڈاکٹرپیوتر کایاک،ڈاکٹرکرینہ اورباربراکاراتوک، آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرمیتھو ماکارتنی اورپروفیسر جورج کناتھ، کلکتہ یونیورسٹی کے پروفیسر شانتانوچاکرابارتی، منی پال یونیورسٹی کے اروندکماراورمانگلورنیورسٹی کے پروفیسر مالک ارنجن اپانے خطاب کیا۔کانفرنس کے پہلے سیشن اور دوسرے سیشن کے دوران اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے پاکستانی سکالر سیدسبطین شاہ نے کہاکہ جب تک بھارت میں غربت کم نہیں ہوتی، نسلی اور مذہبی تعصب، ہندوانتہاپسندی، انسانی حقوق کی گھمبیر صورتحال اوردیگراندرونی مسائل حل نہیں ہوتے اور بھارت کے اس کے ہمسایوں خصوصاً پاکستان اور چین کے تعلقات نارمل نہیں ہوتے،

اس وقت تک بھارت ایک بڑی طاقت ہونے کی شرائط پورا نہیں کرسکتا۔ایک ابھرتی طاقت بننے کے لیے بھارت کو اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ ہمسایوں کے ساتھ اپنے مسائل حل کرنے ہوں گے۔ خاص طورپر خطے میں موجود بنیادی مسئلہ کشمیرکا پرامن حل ضروری ہے جوجنوبی ایشیاء میں کشیدگی کی اصل وجہ ہے۔سیدسبطین شاہ کاکہناہے کہ اس وقت دنیامیں ایک سپرپاورامریکہ ہے اور پانچ عظیم قوتوں میں امریکہ کے ساتھ ساتھ برطانیہ، فرانس، چین اور روس شامل ہیں البتہ ابھرتی ہوئی حقیقی اورفرضی علاقائی طاقتیں بہت ہیں۔اگرفرض کرلیاجائے کہ بھارت ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت ہے تو یہ حقیقت ہے کہ وہ اس حیثیت کی بھی ذمہ داریاں پورانہیں کررہا۔اس وقت امریکہ واحد سپر طاقت ہے اورچین ایک بڑی طاقت ہونے کے علاوہ، ابھرتی ہوئی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے۔ان دونوں طاقتوں کی سیاسی، فوجی اوراقتصادی صورتحال ناقابل موازنہ ہے۔دنیاکے سیاسی منظرنامے میں روس ایک بارپھراپنی فوجی اورسیاسی طاقت دکھانے کی کوشش کررہاہے۔مباحثے کے دوران ایک بھارتی پروفیسر نے چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کے بارے میں تشویش ظاہرکی جس پر پاکستانی سکالرسیدسبطین شاہ نے استفسارکیا کہ چین کی طرف سے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون خصوصاً چین۔پاک اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں پر بھارت کو کیوں تشویش لاحق ہے؟ بھارتی پروفیسر نے بات کو دوسری طرف موڑتے ہوئے کہاکہ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ پاکستان اقتصادی ترقی کرے۔ ہمیں کسی دوسرے ملک کی طرف سے پاکستان کے ساتھ فوجی خصوصاً میزائل ٹیکنالوجی جیسے تعاون پرتشویش ہے۔

بھارتی پروفیسر نے بات کو دوسری طرف موڑتے ہوئے ایک پراناحربہ استعمال کیا اورکہاکہ چونکہ پاکستان کا ٹریک ریکارڈ مشکوک رہاہے، اس لئے پاکستان کی فوجی طاقت کابڑھنا، نہ صرف ہمارے لئے بلکہ یورپ اوردیگر دنیاکے لیے بھی تشویش ناک ہے۔ بقول بھارتی پروفیسرکے، غیرقانونی جوہری سپلائی نٹ ورک کے اہم کردارڈاکٹراے۔کیوخان کا تعلق بھی تو پاکستان سے ہے جس نے دنیاکو ایٹمی سنٹری فیوج سپلائی کئے۔ وارسا یونیورسٹی کے ڈاکٹریاکوب نے کہاکہ بھارت کو کشیدگی کے بجائے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بناناہوگا۔ وہ پاکستان کے بغیردرست طریقے سے اپنی انرجی کی ضروریات پوری نہیں کرسکتاہے۔ اسے وسطی ایشیاء کے ساتھ تجارت کے لیے پاکستان کا محفوظ زمینی راستہ چاہیے جو پرامن اوردوستانہ تعلقات کی صورت میں ممکن ہے۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کوسوووکے ایک پی ایچ ڈی سکالراستریت حسنی نے سوال کیا کہ کیاایساتونہیں امریکہ اورمغرب بھارت کو چین کے مقابلے میں فرضی طاقت کے طورپر پیش کررہے ہیں۔اس سوال کے جواب میں بعض مقررین نے اعتراف کیاکہ بھارت ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت نہیں بلکہ ایک علاقائی طاقت ہے۔ البتہ چین کے ساتھ مقابلے کے حوالے سے انھوں نے اس تاثرکو نادرست قرار دیا۔کانفرنس کے دوران بھارت کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیاء، جنوب مشرقی ایشیاء اوردیگرخطوں کی سیاسی اوراقتصادی صورتحال پر بحث و مباحثہ ہوا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر میتھو ماکارتنی نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے پاکستان اور بھارت صنعتی مہارت کا موازنہ پیش کرتے ہوئے سیالکوٹ (پاکستان)کی فٹ بال انڈسٹری کی تعریف کی جس پر ایک بھارتی پروفیسر نے سوال کیا کہ سیالکوٹ میں تو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے چالڈ لیبرکا مسئلہ پیش کیاہواہے۔ اس سوال کے جواب میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر نے اس تاثر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ آپ بیس سال پہلے کی بات کررہے ہیں جب یہ اعتراض اٹھاگیاتھا۔ اب سیالکوٹ کی انڈسٹریز کے حوالے سے چالڈ لیبرکا کوئی مسئلہ موجودنہیں۔البتہ چین نے سستے فٹ بال فراہم کرکے سیالکوٹ کی فٹ بال کی صنعت کو متاثر کیاہے۔