ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر تو لٹکا دیا مگر بھٹو کے آفاقی نظریات کو ختم نہیں کیا جاسکا، کامران یوسف

Kamran Yousaf Ghuman

Kamran Yousaf Ghuman

پیرس (پی پی پی فرانس) پاکستان پیپلز پارٹی یورپ کے کوارڈینیٹر کامران یوسف گھمن نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ان کی سیاسی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میں سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں پر لانے والے عوامی لیڈر، قائد عوام کا لقب پانے والے ذوالفقار علی بھٹو 5جنوری 1928کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔

کیلی فورنیا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1963 میں ایوبی کابینہ میں وزیر خارجہ بنے تاہم سیاسی اختلافات پر حکومت سے کنارہ کشی اختیار کرکے ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر 30 نومبر 1967کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی پیپلز پارٹی سماجی انصاف، سوشلسٹ نظریات اور جمہوریت کے فروغ پر مبنی منشور کے باعث دن بدن ہوتی گئی 1970 کے الیکشن میں زیڈ اے بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا۔

انتخابات میں کامیاب ہو کر اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا جس کی وجہ سے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے 1973 سے 1977 تک منتخب وزیراعظم رہے ملک کو متفقہ آئین دیا بھارت سے شملہ معاہدہ کرکے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور پانچ ہزار مربع میل کا علاقہ بھارت سے چھڑایا بھٹو دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کیلئے کئی اقدامات کیے گئے۔

تاہم مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیا الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام میں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں تختہ دار پر تو لٹکا دیا مگر بھٹو کے آفاقی نظریات کو ختم نہیں کیا جا سکا۔